خالد خان ایک طرف پاکستان میں غربت اور بھوک کے ہولناک اعدادوشمار سامنے آ رہے ہیں، دوسری طرف حکمرانوں کے دسترخوانوں کی رونقیں خبروں کا موضوع بن رہی ہیں۔ کہیں تین ماہ میں سینکڑوں پیزوں اور درجنوں دنبوں اور بکروں کے آرڈر زیرِ بحث ہیں، کہیں سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر ایک سابقہ عوامی نمائندے کے خلاف مقدمہ درج ہوتا ہے اور کہیں لاکھوں پاکستانی روزگار کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ یہ محض الگ الگ خبریں نہیں، ایک ہی معاشرے کی مختلف تصویریں ہیں؛ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی تصویر میں دسترخوان سجا ہے اور کسی میں روٹی کا سوال ہے۔خبروں کے مطابق، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دور کے پہلے تین ماہ کے دوران 903 پیزوں کے آرڈر دیے گئے، جبکہ 42 دنبوں اور 11 بکروں کو کاٹا گیا۔ ان خبروں نے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ عوامی خزانے سے چلنے والے حکومتی ایوانوں میں شاہ خرچیوں کی کوئی مقررہ حد بھی ہے؟یہ وہی ملک ہے جہاں عام آدمی آٹے، بجلی، گیس، بچوں کی فیس اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی ضروریات کا گلا گھونٹتا ہے۔ کوئی بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے قرض لیتا ہے، کوئی بیماری کے باوجود دوا چھوڑ دیتا ہے اور کوئی بچوں کی تعلیم کو گھریلو بجٹ کے ترازو میں تولتا ہے۔ ایسے میں اگر سرکاری ایوانوں کے کھانے پینے کے اخراجات پر سوال اٹھے تو اسے حکمرانوں کے خلاف سازش قرار دینے کے بجائے حساب کتاب سامنے رکھنا چاہیے۔ سرکاری دسترخوان پر کیا سجا، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس کی قیمت کس نے ادا کی۔یہ معاملہ صرف خیبرپختونخوا یا کسی ایک جماعت تک محدود نہیں۔ تحریکِ انصاف نے کفایت شعاری اور نئے پاکستان کا وعدہ کیا تھا، دوسری جماعتیں عوامی خدمت، انقلاب، جمہوریت، قوم پرستی اور اسلامی نظام کے نام پر اقتدار میں آتی رہی ہیں۔ لیکن اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر ان سب کے طرزِ زندگی اور عوام سے فاصلے کا جائزہ لیا جائے تو ایک ہی سوال سامنے آتا ہے کہ کیا نظریات صرف اقتدار تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں یا حکمرانی ملنے کے بعد بھی ان کی کوئی عملی اہمیت باقی رہتی ہے؟غربت اور بھوک کی تصویر بھی محض سیاسی مخالفین کے بیانات تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کی 2026ء کی عالمی کثیرالجہتی غربت رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے، جبکہ بھارت میں یہ شرح 16.4 فیصد، بنگلہ دیش میں 14.9 فیصد، نیپال میں 13.9 فیصد اور سری لنکا میں صرف 2.9 فیصد بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 9 کروڑ 70 لاکھ افراد اس غربت سے متاثر ہیں۔بھوک کے عالمی اشاریے میں بھی پاکستان کی صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ 2026ء کے عالمی بھوک اشاریے میں پاکستان کا سکور 25.5 ہے، جبکہ بھارت کا 24.1، بنگلہ دیش کا 19.2 اور سری لنکا کا 10.2 ہے۔ اس پیمانے پر زیادہ سکور بھوک کی زیادہ سنگین صورتِ حال ظاہر کرتا ہے۔ یوں پاکستان ان چاروں ممالک میں بھوک کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔معاشی عدم استحکام، خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور موسمی آفات نے عام گھرانے کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں خوراک پیدا نہیں ہوتی، بلکہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ خوراک موجود ہونے کے باوجود کتنے لوگ اسے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ بازار میں آٹا، چاول، دالیں، دودھ اور گوشت دستیاب ہونا ایک بات ہے، اور غریب کے دسترخوان تک ان کا پہنچنا دوسری بات۔یہاں طبقاتی نظام کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ ایک طبقے کے لیے مہنگائی اخراجات کے بجٹ میں معمولی ردوبدل کا نام ہے، دوسرے کے لیے دو وقت کی روٹی میں سے ایک وقت قربان کرنے کا۔ ایک کے لیے سرکاری وسائل سے ہونے والی ضیافت ایک انتظامی معاملہ ہے، دوسرے کے لیے بچوں کی فیس، علاج اور راشن کی ادائیگی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ حکمرانوں کے ایوانوں کی رونقیں نہیں، شہریوں کی زندگی میں آسانی ہونی چاہیے۔اسی طبقاتی تفاوت کی ایک دوسری تصویر گورنر راج سے قبل خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر رہنے والی ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے کے جرم میں درج ہونے والا مقدمہ ہے۔ خبر کے مطابق، گاڑی ضلعی انتظامیہ چترال کی ملکیت تھی اور رکن اسمبلی بننے پر انہیں فراہم کی گئی تھی۔ انتظامیہ کے مؤقف کے مطابق واپسی سے انکار پر مقدمہ درج کیا گیا۔یہ معاملہ قانون اور سرکاری ملکیت کے احترام کا ہے۔ اگر گاڑی سرکاری تھی اور واپسی کا حکم قانونی طور پر واجب تھا تو اس پر عمل ہونا چاہیے، خواہ متعلقہ شخص عام شہری ہو یا اسمبلی کا عہدے دار۔ عوامی عہدہ کسی کو سرکاری وسائل پر ذاتی حق نہیں دیتا۔ جمہوریت میں منصب خدمت کی ذمہ داری ہے، مراعات کی مستقل ملکیت نہیں۔اور پھر اسی ملک سے روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد سامنے آتی ہے۔ قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو کے سوال پر وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز محمد عون ثقلین کے پیش کردہ جواب کے مطابق، گزشتہ تین برس میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے۔ ان میں ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، اکاؤنٹنٹس، اساتذہ، فارماسسٹ، سسٹم اینالسٹ، نرسیں، مالیاتی تجزیہ کار اور ماہرینِ تعلیم شامل ہیں۔قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق، 2024ء میں 45 ہزار 830 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک گئے، 2025ء میں یہ تعداد 28 ہزار 726 رہی، جبکہ 2026ء میں رپورٹ پیش کیے جانے تک 15 ہزار 850 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی ملک سے باہر گئے تھے۔ صرف 2024ء میں 23 ہزار 674 مینیجرز بھی بیرونِ ملک روزگار کے لیے گئے۔ یہ اعدادوشمار اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی مخصوص قسموں اور مجموعی طور پر بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کے الگ الگ شمار کو ظاہر کرتے ہیں۔جب ملک اپنے تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد کے لیے مناسب اجرت، پیشہ ورانہ ترقی اور محفوظ مستقبل کے مواقع پیدا نہ کر سکے تو سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے کہ آخر ہم اپنے نوجوانوں کو یہاں روکنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ محض حب الوطنی کے وعظ سے پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی مستقبل کے خدشات دور ہوتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے اسی پاکستان کو قرض دار ترقی پذیر ممالک کے ایک نئے پلیٹ فارم کی سربراہی بھی ملی ہے۔ 12 اکتوبر 2026ء کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں اس پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی سربراہی پاکستان کی جانب سے قبول کی۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد قرضوں کے انتظام میں تجربات کا تبادلہ، تکنیکی تعاون اور ترقیاتی مالیات کے نئے طریقوں پر کام کرنا ہے؛ یہ قرض دہندگان کے خلاف مشترکہ سودے بازی یا قرضوں کے بحران سے نمٹنے کا کوئی اجتماعی ادارہ نہیں۔یہ اعزاز اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں یا ان کے فیصلوں پر اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ ہم قرضوں کے انتظام کا ایسا نظام قائم کریں جس میں قرض ترقی کا ذریعہ بنے، مستقل محتاجی کا نہیں۔یہاں طنز کی گنجائش بھی ہے اور سنجیدہ غوروفکر کی ضرورت بھی۔ ہم قرض دار ممالک کی صف میں سربراہی حاصل کرنے پر خوش ہیں، لیکن اپنے قرضوں کی وجوہات، ان کے استعمال اور ادائیگی کی قیمت کون چکا رہا ہے، اس سوال سے نظریں نہیں چرا سکتے۔ قرض حکمران لیتے ہیں، معاہدے ریاست کرتی ہے، مگر اس کی واپسی کے لیے ٹیکس، مہنگائی اور اخراجات میں کٹوتیوں کا بوجھ بالآخر عام پاکستانی ہی اٹھاتا ہے۔پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں کسی ایک جماعت نے وعدے پورے نہیں کیے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی نعرے بدلتے ہیں، اقتدار میں آنے کے جواز بدلتے ہیں، لیکن عام آدمی اور حکمران طبقے کے درمیان فاصلہ برقرار رہتا ہے۔ کوئی نئے پاکستان کے نام پر آتا ہے، کوئی انقلاب کا علم اٹھاتا ہے، کوئی قوم پرستی کی بنیاد پر عوام کو متحرک کرتا ہے اور کوئی اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کرتا ہے۔ مگر اگر ان سب کے اقتدار میں عام شہری کی زندگی بہتر نہیں ہوتی، سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت نہیں آتی اور قانون سب کے لیے یکساں نہیں بنتا تو محض نام اور نعرے کس کام کے؟جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ لے کر حکومت بنانا نہیں، عوام کے سامنے جواب دہ ہونا بھی ہے۔ قوم پرستی کا مطلب صرف اپنی قوم کے نام پر سیاست کرنا نہیں، اس کے بچوں کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار مہیا کرنا بھی ہے۔ اسلامی نظام کا دعویٰ ہو، نئے پاکستان کی تعمیر ہو یا انقلاب کا وعدہ، ان کی عملی معنویت اسی وقت ہے جب انصاف، دیانت اور انسانی وقار عام شہری کی زندگی میں دکھائی دیں۔سوال پیزوں، دنبوں یا کسی ایک سرکاری گاڑی کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ حکمرانوں کے دسترخوان پر کیا سجتا ہے، یہ بھی عوام کا سوال ہے؛ مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ عوام کے دسترخوان پر کیا باقی رہ گیا ہے۔ جب ریاست کے وسائل سے چلنے والے ایوانوں میں اخراجات کا حساب مانگنا ناگوار گزرے، غریب کو روٹی کے لیے جدوجہد کرنا پڑے اور نوجوان اپنے مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑیں تو پھر کسی ایک جماعت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔اصل احتساب پورے طبقاتی نظام اور سیاسی جماعتوں کا ہونا چاہیے، اور اس کا آغاز اس اصول سے ہونا چاہیے کہ اقتدار کسی نظریے، جماعت یا شخصیت کی جاگیر نہیں، عوام کی امانت ہے۔ عوام کو نعروں سے زیادہ نتائج، تقریروں سے زیادہ سہولتوں اور وعدوں سے زیادہ عملی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ورنہ پیزوں کے آرڈر بدلتے رہیں گے، حکمرانوں کے نام بدلتے رہیں گے، سیاسی جماعتوں کی باریاں بدلتی رہینگی اور عام آدمی کی پلیٹ میں روٹی کا سوال وہیں کھڑا رہے گا۔ جو عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لیکر نہ آئے وہ جمہوریت چاہے جس بھی نعرے پر بنی ہو صرف اور صرف ایک لعنت ہے۔ Post navigation خیبرپختونخوا: کیا ریاست ایک طویل اور کثیرالجہتی جنگ کے خطرے سے دوچار ہے؟