Preloader
Price check by district administration

خبر کا خلاصہ (اہم نکات)

  • جامع فیلڈ معائنہ: اسسٹنٹ کمشنر خانپور محترمہ عائشہ ناصر نے سب ڈویژن خانپور کے مختلف علاقوں، بشمول ٹی ایچ کیو ہسپتال، تجارتی مراکز اور پیٹرول پمپس کا خود دورہ کر کے انتظامی امور کا جائزہ لیا۔
  • سیاحت اور پرائس کنٹرول: خانپور جھیل پر آنے والے سیاحوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، ٹک شاپس پر اشیائے خوردونوش کی کوالٹی اور سرکاری نرخوں کی پاسداری کا معائنہ کیا گیا۔
  • گرانفروشی پر یکدم کارروائی: خانپور بازار میں سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی اور ناجائز منافع خوری پر متعدد دکانداروں کو سخت وارننگز جاری کی گئیں اور جرمانے عائد کیے گئے۔
  • شفافیت اور عوامی عزم: انتظامیہ نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ صحت کی معیاری سہولیات، مناسب قیمتوں کی ضمانت اور سیاحتی مقام کی بہتری کے لیے ایسے معائنوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔

خانپور: نامہ نگار خصوصی

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی سہولیات کی بہتری، گرانفروشی کے سدِ باب اور حکومتِ پنجاب کے عوامی ریلیف ایجنڈے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر (AC) خانپور محترمہ عائشہ ناصر نے سب ڈویژن خانپور کے تمام اہم سٹریٹجک، تجارتی اور عوامی مقامات کا اچانک تفصیلی دورہ کیا اور فیلڈ میں خود موجود رہ کر حالات کا جائزہ لیا۔

اس دورے کا بنیادی مقصد عام شہریوں کو روزمرہ کی زندگی میں درپیش مشکلات کا تدارک، سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عمل درآمد، ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی، اور مشہور سیاحتی مقام خانپور جھیل پر آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو معیاری سہولیات کی ضمانت فراہم کرنا تھا۔

تحصیل ہیڈ کوارٹر (THQ) ہسپتال خانپور میں طبی سہولیات کا جائزہ

اسسٹنٹ کمشنر نے اپنے دورے کا آغاز تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال خانپور سے کیا۔ انہوں نے ایمرجنسی وارڈ، او پی ڈی، لیبارٹریز اور ادویات کے اسٹور رومز کا معائنہ کیا اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں و پیرا میڈیکل اسٹاف کی حاضری کا ریکارڈ چیک کیا۔

ہسپتال کے دورے کے دوران اہم انتظامی امور پر خصوصی توجہ دی گئی:

  • ادویات کی دستیابی: ہسپتال کے میڈیکل اسٹور میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مفت ادویات کے اسٹاک کا جائزہ لیا گیا تاکہ کسی بھی مریض کو باہر سے ادویات خریدنے کی شکایت نہ ہو۔
  • صائی ستھرائی کے انتظامات: وارڈوں، واش رومز اور ہسپتال کے صحن میں صفائی کی صورتحال کی جانچ کی گئی اور انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ مریضوں کو جراثیم سے پاک ماحول فراہم کیا جائے۔
  • مریضوں سے براہِ راست گفتگو: محترمہ عائشہ ناصر نے زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے گفتگو کی اور ہسپتال کے عملے کے رویے اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق ان کی رائے دریافت کی۔

خانپور جھیل اور واٹر اسپورٹس: سیاحوں کو سہولیات اور قیمتوں پر کنٹرول

خانپور جھیل نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح پر واٹر اسپورٹس اور سیاحت کا ایک پرکشش مرکز سمجھی جاتی ہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ تاہم، سیاحوں کی جانب سے اکثر و بیشتر گرانی اور اوور چارجنگ کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر اسسٹنٹ کمشنر نے خانپور جھیل اور اس کے گرد و نواح میں قائم ٹک شاپس، ہوٹلوں اور بوٹنگ پوائنٹس کا معائنہ کیا۔

معائنے کے اہم پہلو درج ذیل رہے:

  1. نرخ ناموں کا انفاذ: تمام ٹک شاپس اور ہوٹلوں پر اشیائے خوردونوش کے سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
  2. اشیائے خوردونوش کا معیار: کھانے پینے کی اشیاء کی ایکسپائری ڈیٹ اور کوالٹی چیک کی گئی تاکہ غیر معیاری خوراک کی فروخت کو روکا جا سکے۔
  3. اوور چارجنگ کی روک تھام: سیاحوں سے مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی کرنے والے دکانداروں کو آن دی اسپاٹ جرمانے عائد کیے گئے اور آئندہ کی خلاف ورزی پر دکانیں سیل کرنے کی تنبیہ کی گئی۔

خانپور بازار اور پیٹرول پمپس: پرائس کنٹرول اور گرانفروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن

سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو سستے اور معیاری سامان کی دستیابی کے لیے اسسٹنٹ کمشنر خانپور نے مرکزی بازار کا بھی رخ کیا۔ انہوں نے کریانہ اسٹورز، سبزی و پھل فروشوں، مرغی کی دکانوں اور دیگر تجارتی مراکز کا معائنہ کیا۔

بازار اور پیٹرول پمپس کے دورے کے دوران درج ذیل کارروائیاں عمل میں لائی گئیں:

  • سرکاری ریٹ لسٹ کی جانچ: بازار کے دکانداروں کو روزانہ کی بنیاد پر جاری کردہ سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق اشیاء فروخت کرنے کا پابند بنایا گیا۔
  • پیمائش و ناپ تول کا جائزہ: پھل و سبزی منڈی میں استعمال ہونے والے باٹوں (Weights) اور الیکٹرانک ترازوؤں کا معائنہ کیا گیا تاکہ ناپ تول میں کمی کی روک تھام ہو سکے۔
  • پیٹرول پمپس پر سہولیات: علاقے میں قائم مختلف پیٹرول پمپس پر پیٹرول و ڈیزل کی پیمائش (Denser Testing) اور صارفین کے لیے ہوا، پانی اور واش رومز جیسی بنیادی سہولیات کی دستیابی چیک کی گئی۔

خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں اور پمپ مالکان کو فوری طور پر قانونی وارننگز کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے تاکہ دیگر تجارتی طبقے کو بھی قانون کی پاسداری کا پیغام مل سکے۔

خبر کا پس منظر اور خانپور انتظامیہ کے چیلنجز

ضلع ہری پور کی سب ڈویژن خانپور جغرافیائی اور تجارتی لحاظ سے ایک حساس اور متحرک علاقہ ہے۔ یہاں ایک طرف مقامی آبادی کی معاشی ضرورتیں ہیں تو دوسری طرف سال بھر جاری رہنے والی سیاحتی سرگرمیاں اس علاقے کی معیشت کا چرخہ چلاتی ہیں۔

درپیش انتظامی چیلنجز:

  • مصنوعی مہنگائی: ملک بھر میں معاشی اتار چڑھاؤ کے باعث مقامی سطح پر منافع خور اور ذخیرہ اندوز اکثر مصنوعات کی مصنوعی قلت اور گرانفروشی کی کوشش کرتے ہیں۔
  • سیاحتی موسم میں اوور چارجنگ: تعطیلات یا ویک اینڈز کے دوران جھیل پر آنے والے سیاحوں سے زیادہ پیسے وصول کرنے کے واقعات ضلعی انتظامیہ کے لیے ایک مستقل چیلنج رہے ہیں۔
  • بنیادی صحت کا دباؤ: ایک وسیع دیہی و شہری رقبے پر محیط ہونے کے باعث THQ ہسپتال پر مریضوں کا شدید دباؤ رہتا ہے، جس کے لیے مستعد انتظامی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔

ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسسٹنٹ کمشنر عائشہ ناصر کا یہ دورہ صرف ایک روایتی معائنہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی جانب سے قانون کی حکمرانی اور عوام دوست ماحول فراہم کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔

انتظامیہ کا عزم اور مستقبل کے اثرات

دورے کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو اور اپنے جاری کردہ بیان میں اسسٹنٹ کمشنر خانپور نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کا استحصال کسی صورت برادشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا:

“عوامی مفاد کا تحفظ، معیاری صحت کی سہولیات، مناسب اور کنٹرول شدہ قیمتوں پر اشیائے ضروریہ کی دستیابی، اور ہمارے خطے میں آنے والے سیاحوں کو بہترین ماحول کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ یہ معائنے اور قانونی کارروائیاں محض ایک دن کا عمل نہیں بلکہ اس تسلسل کو آئندہ بھی سختی کے ساتھ برقرار رکھا جائے گا۔”

اس قسم کے متحرک فیلڈ معائنوں سے جہاں ایک طرف عام شہریوں کا انتظامیہ اور حکومت پر اعتماد بحال ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف گرانفروشوں اور قانون شکنی کرنے والوں میں خوف پیدا ہوتا ہے جو ایک منظم معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔

نتیجہ

اسسٹنٹ کمشنر خانپور محترمہ عائشہ ناصر کا ہسپتال، خانپور جھیل اور بازاروں کا یہ تفصیلی اور جامع دورہ انتظامی متحرک پن اور گڈ گورننس کی ایک زبردست مثال ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور فیلڈ مجسٹریٹس اگر اسی طرح زمینی سطح پر متحرک رہیں تو نہ صرف شہریوں کو مصنوعی مہنگائی اور غیر معیاری اشیاء سے نجات مل سکتی ہے بلکہ خطے میں سیاحت اور بزنس کے شعبے کو بھی ایک پائیدار اور قانون پسند سمت مل سکتی ہے۔