خبر کا خلاصہ (اہم نکات) افسوسناک حادثہ: گوجرانوالہ کے علاقے شاہین آباد سب ڈویژن میں واپڈا (گیپکو) کا لائن مین دورانِ ڈیوٹی بجلی کے شدید جھٹکے (کرنٹ) کی زد میں آ کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ حادثے کی جگہ: یہ المناک واقعہ شاہین آباد سب ڈویژن کی حدود میں پیش آیا، جہاں بجلی کی لائن میں پیدا ہونے والے برقی نقص کو دور کرتے ہوئے لائن مین حادثے کا شکار ہوا۔ ساتھی ملازمین کا احتجاج: واقعے کے بعد بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی اور لائن سٹاف و مقامی باشندوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، جس کے بعد حفاظتی تدابیر کے عدم وجود پر احتجاجی فضا قائم ہو گئی۔ تحقیقات کا مطالبہ: گیپکو ایچ آر اور یونین رہنماؤں نے واقعے کی فوری اعلیٰ سطحی انکوائری، حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے اور جاں بحق اہلکار کے خاندان کے لیے مالی پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔ گوجرانوالہ: نامہ نگار خصوصی (ڈاکٹر توقیر اسلم) صنعتی شہر گوجرانوالہ میں گیپکو (گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی) کے فیلڈ عملے کی حفاظت سے متعلق ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ گوجرانوالہ کے گنجان آباد علاقے شاہین آباد کی سب ڈویژن میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں گیپکو کا لائن مین بجلی کی لائنوں کی مرمت اور تکنیکی خرابی دور کرتے ہوئے اچانک کرنٹ لگنے سے زندگی کی بازی ہار گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس، ریسکیو 1122 اور گیپکو کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے، تاہم شدید کرنٹ لگنے کے باعث اہلکار موقع پر ہی دم توڑ چکا تھا۔ لاش کو ضروری قانونی اور طبی کارروائی کے لیے نزدیکی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے بعد ازاں میت کو غمزدہ لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔ واقعے کی تفصیلات اور تکنیکی نوعیت تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والا لائن مین شاہین آباد سب ڈویژن میں روزمرہ کی بنیاد پر اپنے سینیئر تکنیکی فرائض انجام دے رہا تھا۔ علاقے میں بجلی کے پرمٹ (بندش) اور تکنیکی فالٹ کو درست کرنے کے سلسلے میں وہ پول پر چڑھا ہوا تھا کہ اچانک لائن میں کرنٹ دوڑ گیا، جس کی زد میں آ کر وہ بجلی کے پول سے لٹک گیا اور موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ دورانِ کارروائی سامنے آنے والے ابتدائی معائنے کے اہم پہلو درج ذیل ہیں: پرمٹ کی خلاف ورزی: ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ پرمٹ (Permit to Work) کی عدم مطابقت یا گرڈ اسٹیشن سے اچانک بیک فیڈ / سپلائی جاری ہونے کے باعث پیش آیا۔ حفاظتی سامان کی نایابی: فیلڈ میں کام کرنے والے اہلکار کے پاس تسلی بخش حفاظتی آلات (سیفٹی کٹس، انسولیٹڈ دستانے اور سیفٹی بیلٹ) کا غیر معیاری ہونا یا عدم دستیابی بھی حادثے کی ایک بڑی وجہ بتائی جا رہی ہے۔ امدادی کارروائی: پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے مقامی لوگوں کی مدد سے انتہائی دقت کے بعد بجلی کی سپلائی مکمل بند کروا کر لاش کو پول سے نیچے اتارا۔ لائن سٹاف کی مشکلات اور حفاظتی تدابیر کے مسائل گیپکو سمیت ملک بھر کی تمام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) میں کام کرنے والے فیلڈ ملازمین بالخصوص لائن مین گریڈ I، گریڈ II اور اسسٹنٹ لائن مین (ALM) روزانہ کی بنیاد پر موت کے سائے میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ فیلڈ ملازمین کو درپیش بنیادی درپیش چیلنجز پر ایک نظر: حفاظتی کٹس کی کمی: بیشتر سب ڈویژنز میں جدید اور معیاری سیفٹی کٹس، جیسے کہ ارتھنگ راڈز، فائبر گلاس کی سیڑھیاں، ہائی وولٹیج ٹیسٹرز اور ربڑ کے خاص دستانے فراہم نہیں کیے جاتے یا ان کا معیار ناقص ہوتا ہے۔ عملے کی شدید قلت: ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں نئے اہلکاروں کی بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے ایک ایک لائن مین پر کئی کلومیٹر کے فیڈرز اور ہزاروں صارفین کی لائنیں درست کرنے کا اضافی بوجھ ہوتا ہے۔ شدید موسمی حالات اور گرمی: گرمیوں کے موسم میں اوور لوڈنگ اور ٹرانسفارمرز کے جلنے کے باعث لائن مین 24، 24 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی پر رہتے ہیں، جس سے ذہنی تھکاوٹ کی وجہ سے بھی غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ گیپکو یونین اور ہائیڈرولک یونین کا شدید ردِعمل شاہین آباد کے اس دردناک واقعے کے بعد پاکستان ہائیڈرو الیکٹرک سینٹرل لیبر یونین کے പ്രാദേശിക عہدیداران اور شاہین آباد سب ڈویژن کے لائن سٹاف نے شدید احتجاج کیا ہے۔ یونین رہنماؤں نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گیپکو انتظامیہ کے رویے پر سخت تنقید کی ہے۔ لیبر یونین کے ترجمان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا: “ہمارے لائن مین عوام کو اندھیروں سے نکال کر روشنی فراہم کرنے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ شاہین آباد کا یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ ہم مطالبات کرتے ہیں کہ گرڈ اسٹیشن کے متعلقہ آپریٹر اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی اور محکماتی کارروائی کی جائے اور شہید کے بچوں کے لیے فوری مالی امداد، سرکاری رہائش اور ملازم کا کوٹہ دیا جائے۔” خبر کا پس منظر: پاور سیکٹر میں لائن مینز کی اموات کا اعداد و شمار پاکستان میں واپڈا اور مختلف پاور تقسیم کار کمپنیوں میں لائن مینز کی اموات ایک بھیانک اور مستقل مسئلہ بن چکی ہیں۔ ہر سال درجنوں اہلکار صرف اس وجہ سے اپاہج ہو جاتے ہیں یا جاں بحق ہو جاتے ہیں کیونکہ سیکیورٹی ایس او پیز (SOPs) پر عمل در آمد نہیں کرایا جاتا۔ صوبائی و قومی سطح پر تشویشناک صورتحال: روزانہ کا خطرہ: ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں سالانہ 100 سے زائد لائن مین دورانِ ڈیوٹی بجلی کے حادثات میں اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔ غیر تربیت یافتہ عملہ: نئے بھرتی ہونے والے اسسٹنٹ لائن مینز کو جدید سیفٹی ٹریننگ کے بغیر ہی ڈائریکٹ الیکٹرک پولز پر بھیج دیا جاتا ہے۔ لواحقین کی مشکلات: جاں بحق ہونے والے ملازمین کے خاندان کو پنشن اور ڈیتھ پیکیج کی وصولی کے لیے مہینوں اور بعض اوقات سالوں دفتری کاغذات اور ریڈ ٹیپزم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کا نوٹس اور انکوائری کمیٹی کا قیام واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے چيف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) گیپکو نے حادثے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ کمیٹی کو درج ذیل نکات پر انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے: کیا کام شروع کرنے سے قبل باضابطہ طور پر “پرمٹ” حاصل کیا گیا تھا یا نہیں؟ ڈیوٹی پر مامور لائن مین کے پاس درکار حفاظتی سامان موجود تھا؟ حادثے کی وقت گرڈ اسٹیشن کا کیا رول تھا اور کیا لائن میں ریورس کرنٹ یا جنریٹر کی بیک فیڈنگ تو شامل نہیں تھی؟ حکام کے مطابق اگر تفتیش کے دوران کسی بھی افسر یا اہلکار کی غفلت یا نااہلی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف پیڈا ایکٹ (PEDA Act) اور مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ نتیجہ گوجرانوالہ کی شاہین آباد سب ڈویژن میں لائن مین کی جان کا ضیاع ایک ایسا صدمہ ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ گیپکو انتظامیہ کی جانب سے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے، لیکن جب تک پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں سیکیورٹی کلچر، جدید ترین حفاظتی آلات کا استعمال اور ایس او پیز پر سو فیصد عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام مشکل رہے گی۔ شہید لائن مین کے خاندان کو فوری اور جامع مالی و انتظامی تحفظ فراہم کرنا گیپکو انتظامیہ کی اولین اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ Post navigation سکردو میں کھیل کے ذریعے آگاہی کا منفرد اقدام: گمبہ یونائیٹڈ ایف سی کی سالانہ بریسٹ کینسر آوینیو جرسی کی تقریبِ رونمائی، سماجی شخصیات کو اعزازی اسناد تقسیم شکارپور کی سیاست میں نیا موڑ: میر امان اللہ خان پھوڑ کی جے یو آئی میں شمولیت، جتوئی ہاؤس میں الشان استقبالیہ اور سیاسی تحرک