اہم نکات (خلاصہ) سیاسی و انتظامی ملاقات: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی کے پشاور مرکز کا دورہ کر کے نائب امیر پروفیسر ابراہیم اور دیگر مرکزی و صوبائی قائدین سے تفصیلی ملاقات کی. وفاقی حقوق پر حمایت کی اپیل: گورنر نے صوبے کے بجلی خالص منافع، این ایف سی ایوارڈ (NFC) اور وفاق سے وابستہ دیگر آئینی حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی سے تعاون و حمایت کی درخواست کی. امن و معاشی سدھار اولیت: ملاقات میں امن و امان کے قیام، جنوبی اضلاع کی زرعی اراضی کی آباد کاری، آئی ٹی (IT) شعبے کے فروغ اور پشاور کے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا. پولیس و انتظامیہ کے لیے اقدامات: پولیس شہداء کے لواحقین کی فلاح و بہبود اور پشاور میں تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا. پشاور (خصوصی رپورٹ): خیبر پختونخوا میں درپیش امن و امان کے چیلنجز، معاشی مشکلات اور وفاق سے وابستہ مالی حقوق کی بحالی کے لیے بین الجماعتی ہم آہنگی اور سیاسی رابطہ کاری میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اسی سلسلہ میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے 20 اکتوبر 2026 کو پشاور میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر کا اہم دورہ کیا۔ اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر ابراہیم اور دیگر سینیئر صوبائی قیادت سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، گورننس کی بہتری، معاشی سدھار اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ اعلیٰ سطحی اجلاس اور شرکاء کی تفصیلات جماعت اسلامی کے مرکز میں منعقدہ اس اہم اور تحریکی اجلاس میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کی سرکردہ قیادت نے شرکت کی۔ ملاقات کے اہم شرکاء پروفیسر ابراہیم – نائب امیر، جماعت اسلامی پاکستان عنایت اللہ خان – امیر، جماعت اسلامی خیبرپختونخوا (شمالی زون) عبدالواسع – امیر، وسطی اضلاع عبدالرزاق عباسی – امیر، ہزارہ ڈویژن صابر حسین اعوان – سابق رکن قومی اسمبلی جماعت اسلامی کے دیگر صوبائی و مقامی قائدین اجلاس کے دوران فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر خیبر پختونخوا کے عوامی اور صوبائی مفادات کے تحفظ کے لیے یکسوئی اور باہمی تعاون وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ وفاقی حقوق، این ایف سی اور بجلی منافع پر جماعت اسلامی سے سپورٹ کا مطالبہ ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا کو وفاق کی جانب سے درپیش مالی و آئینی مسائل کا معاملہ سرفہرست رہا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے بقایا جات اور جائز حقوق کا کیس مضبوطی سے پیش کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی قیادت سے سیاسی تعاون مانگ لیا۔ گورنر نے واضح کیا کہ: بجلی کا خالص منافع: صوبے کے لیے بجلی کا خالص منافع آئینی حق ہے اور اس کی بروقت ادائیگی سے خیبر پختونخوا کا معاشی بحران کافی حد تک ٹل سکتا ہے۔ این ایف سی (NFC) ایوارڈ: وفاقی مالیاتی ایوارڈ کے تحت صوبے کو اس کا پورا حصہ ملنا چاہیے، بالخصوص ضم شدہ اضلاع کے لیے کیے گئے مالی وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔ مشترکہ سیاسی جدوجہد: وفاق سے جڑے ان تمام مسائل پر جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی قوتوں کا ایک ہی پیج پر ہونا صوبائی حقوق کی ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں: “امن ہوگا تو ترقی ہوگی” صوبے میں امن و امان کی نازک صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کی پائیدار ترقی اور معاشی سرگرمیوں کا براہِ راست انحصار امن کے قیام پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ: “امن و امان کا قیام ہماری حکومت اور تمام اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ امن کے بغیر کوئی بھی ملک یا صوبہ معاشی اور انتظامی ترقی نہیں کر سکتا، اس لیے امن و امان کی بحالی پر کسی قسم کا سمجوتہ نہیں کیا جائے گا۔” اس موقع پر انہوں نے خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں اور پولیس شہداء کے لواحقین کی فلاح و بہبود اور ان کی سرپرستی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ زراعت، آئی ٹی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع ملاقات میں صوبے کے معاشی سدھار اور نوجوان نسل کو روزگار کی فراہمی کے لیے عملی تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ زراعت: معیشت کی ریڑھ کی ہڈی گورنر خیبر پختونخوا نے زرعی شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ملکی اور صوبائی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کی بنجر اور غیر آباد اراضیات کو جدید آبپاشی اور زرعی تکنیک کے ذریعے آباد کیا جائے تو نہ صرف پورے صوبے کی غذائی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے بلکہ اس سے کاشتکاروں اور مقامی معیشت کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کا فروغ نوجوانوں کی روزگار اور بااختیار بنانے کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے۔ اگر آئی ٹی کے شعبے کو سرکاری اور نجی سطح پر باقاعدہ فروغ دیا جائے تو خیبر پختونخوا کے لاکھوں پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے باوقار اور وسیع روزگار کے مواقع خود بخود پیدا ہو جائیں گے۔ گورننس، پشاور کی ترقی اور تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی اجلاس کے دوران صوبائی دارالحکومت پشاور کے انتظامی اور ترقیاتی مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ پشاور میں نکاسیِ آب کے دیرینہ مسائل، سڑکوں کی بحالی اور دیگر بلدیاتی سہولیات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بنیادی انتظامی اقدامات کا خلاصہ شعبہ / موضوعگورنر کی جاری کردہ پالیسی / موقفتجاوزات کا خاتمہصوبے بھر اور بالخصوص پشاور میں بلا امتیاز اور مؤثر کارروائی جاری رکھناصفائی ستھرائیشہروں کی خوبصورتی اور نکاسیِ آب کے نظام کو بہتر بناناگورننس میں بہتریعوامی دفاتر اور محکموں میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دیناشہداء پولیس ویلفیئرشہداء کے بچوں اور خاندانوں کی مالی و انتظامی سرپرستی کو یقینی بنانا سیاسی پس منظر اور اس اہم ملاقات کے متوقع اثرات خیبر پختونخوا اس وقت ایک طرف سیکیورٹی کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور دوسری طرف صوبائی و وفاقی حکومت کے مابین انتظامی و مالی کھینچ تان کی وجہ سے صوبے کے بنیادی مسائل لٹکے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں گورنر فیصل کریم کنڈی کا اپوزیشن جماعت، جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر جا کر سینیئر قیادت سے ملاقات کرنا سیاسی تناؤ میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق: صوبائی اتفاقِ رائے: گورنر کے اس اقدام سے وفاقی حقوق اور صوبائی امن کے معاملے پر صوبے کی تمام سیاسی قوتوں کے درمیان ایک مشترکہ کم از کم ایجنڈا (Minimum Common Agenda) تشکیل پانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کا اثر و رسوخ: جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں گراس روٹ لیول اور پارلیمانی و عوامی سطح پر ایک مضبوط جمہوری آواز رکھتی ہے، اس لیے ان کی حمایت سے وفاق پر صوبائی حقوق کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے گورنر کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان باتوں پر صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کو امن، روزگار اور بنیادی سہولیات کی صورت میں حقیقی ریلیف مل سکے۔ Post navigation تربیلا جھیل: ہری پور ہزارہ کا قدرتی حسن اور ایشیا کا عظیم الشان جھیلی شاہکار، سیاحت کے نئے افق اور صلاحیتیں