خبر کے اہم نکات (خلاصہ) خصوصی اقدام: صوبائی محتسبِ اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس جامشورو میں ریجنل ڈائریکٹر سید محمد سجاد حیدر کی سربراہی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ مالی مسائل پر سماعت: حاضر سروس ملازمین، ریٹائرڈ افراد اور فیملی پنشنرز کی جانب سے جی پی فنڈ، گریجویٹی، لیو انکیشمنٹ اور بقایاجات کی عدم ادائیگی کی شکایات پیش کی گئیں۔ موقع پر ازالہ: ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر امان اللہ جمالی نے متعدد پیچیدہ مالی مسائل کا موقع پر ازالہ کیا اور باقی شکایات کو مقررہ مدت میں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ شفافیت کی ہدایت: محتسب اعلیٰ کے نمائندے نے تمام سرکاری دفاتر میں بیوروکریٹک تاخیر کے خاتمے اور بزرگ پنشنرز کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کرنے کے سخت احکامات جاری کیے۔ رپورٹ: محمد نصیر ساگر (خاص نمائندہ، جامشورو) گڈ گورننس، شفافیت اور عام شہریوں کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں ضلع جامشورو میں ایک اہم اور مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبائی محتسبِ اعلیٰ سندھ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس جامشورو میں حاضر سروس سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین اور بزرگ پنشنرز کے جائز مسائل کے حل کے لیے ایک پروقار اور نتیجہ خیز “کھلی کچہری” کا انعقاد کیا گیا۔ اس کھلی کچہری کی صدارت ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ حیدرآباد سید محمد سجاد حیدر نے کی۔ اس اقدام کے نتیجے میں نہ صرف برسوں سے التوا کا شکار کئی مالی و انتظامی معاملا ت منٹوں میں طے پا گئے بلکہ سائلین کو باوقار ماحول میں اپنی بات حکامِ بالا تک پہنچانے کا باقاعدہ پلیٹ فارم بھی میسر آیا۔ کھلی کچہری کی تفصیلات اور سائلین کے مسائل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس جامشورو میں منعقدہ اس کھلی کچہری میں ضلع جامشورو اور گردونواح کے مختلف محکموں جیسے تعلیم، صحت، آبپاشی، محکمۂ مال اور پولیس کے حاضر سروس و ریٹائرڈ ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سائلین نے اپنے مالی و انتظامی مسائل کھل کر محتسب اعلیٰ کے ریجنل ڈائریکٹر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر کے سامنے رکھے۔ جن اہم مسائل پر شکایات درج کرائی گئیں ان میں درج ذیل شامل تھے: پنشن کیسز میں غیر ضروری تاخیر: ریٹائرمنٹ کے بعد مہینوں اور سالوں تک پنشن بک کی تیاری اور منظوری میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹیں۔ جی پی فنڈ اور گریجویٹی کی عدم ادائیگی: ریٹائرڈ ملازمین کے فنڈز کی بروقت واگزاری نہ ہونا اور کٹوتیوں کا تنازع۔ فیملی پنشن کے مسائل: فوت شدہ سرکاری ملازمین کی بیواؤں اور یتیم بچوں کو فیملی پنشن کے حصول میں درپیش کاغذاتی پیچیدگیاں۔ لیو انکیشمنٹ اور بقایاجات (Arrears): ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رخصت کے بدلے رقم کی عدم فراہمی اور پروموشن یا سکیل اپ گریڈیشن کے بقایاجات کا التوا۔ تنخواہوں کی بروقت فراہمی: بعض محکموں کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور سروس بک کی بروقت اپ ڈیٹنگ نہ ہونا۔ محتسبِ اعلیٰ سندھ کا موقف اور انتظامیہ کو سخت ہدایات کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے اور سائلین کی شکایات سننے کے بعد ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ سندھ سید محمد سجاد حیدر نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین اور خاص طور پر ملک و قوم کی دہائیوں تک خدمت کرنے والے ریٹائرڈ ملازمین کو ان کے قانونی اور آئینی حقوق کے لیے دفاتر کے چکر کٹوانا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا: “سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو درپیش مسائل کا قانون کے مطابق بروقت اور شفاف حل یقینی بنانا تمام متعلقہ اداروں کی اولین آئینی ذمہ داری ہے۔ ادارہ محتسبِ اعلیٰ سندھ عوام کو بغیر کسی فیس یا معاوضے کے ان کی دہلیز پر فوری انصاف فراہم کر رہا ہے۔ اکاؤنٹس آفس کے افسران پر لازم ہے کہ وہ شکایات کے ازالے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر سے گریز کریں اور بزرگ پنشنرز کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کھلی کچہریوں کا بنیادی مقصد عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان حائل خلیج کو ختم کرنا ہے تاکہ شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر جامشورو کا اقدام اور فوری ازالہ کھلی کچہری کے دوران ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر جامشورو امان اللہ جمالی نے اپنے عملے کے ہمراہ پیش کردہ کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے موقع پر ہی متعدد سائلین کی فائلیں طلب کر کے ان کے حل کے احکامات جاری کیے: موقع پر ازالہ: درجنوں ملازمین کے جی پی فنڈ اور التوا کا شکار پنشن آرڈرز موقع پر ہی منظور کر کے ان کی دستاویزات شاکی ملازمین کے حوالے کی گئیں۔ مہلت و ڈیڈ لائن: جن کیسز میں محکماتی تصدیق یا مطلوبہ ریکارڈ کی کمی تھی، ان کے لیے متعلقہ محکموں کو مخصوص وقت کی حد (Deadline) دی گئی اور اکاؤنٹس آفس کو مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کی پابند کیا گیا۔ عوامی رویے میں بہتری کی ہدایت: ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر نے اپنے ذیلی عملے کو سخت ہدایت کی کہ دفاتر میں آنے والے ہر سائل، بالخصوص بزرگوں اور خواتین کے ساتھ اخلاق اور باوقار رویہ اختیار کیا جائے، اور تمام کام میرٹ پر بلا تاخیر انجام دیے جائیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر محمد علی چنڑ، ایڈمن آفیسر مقصود علی سیپیو اور اکاؤنٹنٹ عبدالستار ڈل بھی موجود تھے اور انہوں نے کیسز کی چھان بین میں معاونت فراہم کی۔ پس منظر: پاکستان میں پنشنرز کے مسائل اور محتسب کا کردار پاکستان میں بالعموم اور سندھ کے اضلاع میں بالخصوص ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو اپنے ہی جمع شدہ فنڈز حاصل کرنے کے لیے ایک پیچیدہ اور دشوار گزار مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد دفاتر کے چکر کاٹنا، سروس بک کا گم ہو جانا، اور معمولی ٹیکنیکل اعتراضات کی بنا پر فائلوں کا رک جانا ایک دائمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس صورتحال میں صوبائی محتسب سندھ (Provincial Ombudsman) کا ادارہ ایک فعال فورم کے طور پر سامنے آیا ہے۔ محتسبِ اعلیٰ کا ادارہ عوام کو بغیر کسی وکیل کی خدمات کے، مفت اور فوری انصاف فراہم کرتا ہے۔ اضلاع میں جا کر کھلی کچہریاں لگانے کے اس طریقہ کار سے نہ صرف نچلی سطح پر بدعنوانی اور رشوت ستانی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ بیوروکریسی پر بھی دباؤ برقرار رہتا ہے کہ وہ التوا کا شکار فائلوں کو جلد نبٹائے۔ پنشن اور اکاؤنٹس کے نظام میں بہتری کے لیے اعداد و شمار کا جائزہ پاکستان میں محتسبِ اعلیٰ کی سالانہ رپورٹس کے مطابق اکاؤنٹس اور مالیاتی محکموں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل حقائق سامنے آتے ہیں: شکایات کا تناسب: صوبائی محتسب کو موصول ہونے والی کل انتظامی شکایات میں سے تقریباً 25 سے 30 فیصد کیسز پنشن، جی پی فنڈ، اور تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق ہوتے ہیں۔ حل کی شرح: محتسب اعلیٰ کی مداخلت کے باعث ایسے مالیاتی تنازعات کو حل کرنے کی شرح 85 فیصد سے زائد ہے، جن میں زیادہ تر کیسز کھلی کچہریوں کے ذریعے نبٹائے جاتے ہیں۔ وقت کی بچت: عام عدالتی یا محکماتی کارروائی میں جہاں کیسز مہینوں اور سالوں تک لٹکے رہتے ہیں، وہاں کھلی کچہری میں 40 فیصد سے زائد شکایات کا حل 24 سے 48 گھنٹوں یا موقع پر ہی ممکن ہو جاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگر شفافیت اور جوابدہی کے اس نظام کو پائیدار بنایا جائے تو ملازمین کی پریشانیوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ شرکاء کا ردِعمل اور مستقبل کے مطالبات جامشورو میں منعقدہ کھلی کچہری میں شریک ریٹائرڈ اساتذہ، کلرکس اور دیگر سرکاری ملازمین نے محتسبِ اعلیٰ سندھ اور ریجنل ڈائریکٹر سید محمد سجاد حیدر کے اس عوام دوست اقدام پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ کچہری میں موجود ایک مسرور ریٹائرڈ ملازم نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: “ہم مہینوں سے اپنے جی پی فنڈ اور پنشن کے لیے چکر کاٹ رہے تھے، لیکن آج اس کھلی کچہری میں ہمارے سامنے ہماری فائل پر دستخط ہوئے اور مسئلہ حل ہو گیا۔ یہ ایک مثالی اقدام ہے جس سے غریب اور بے بس ملازمین کو نئی امید ملی ہے۔” شرکاء اور مقامی سوسائٹی نے مطالبہ کیا کہ ایسی کھلی کچہریاں صرف ایک بار تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ہر دو سے تین ماہ بعد باقاعدگی سے انعقاد پذیر ہونی چاہئیں تاکہ ہر محکمہ شفافیت اور بروقت کام کا پابند رہے۔ ایڈیٹوریل نوٹ ضلع جامشورو میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے اندر محتسبِ اعلیٰ سندھ کے نمائندوں کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد شاندار اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔ صحافتی معروضیت کا تقاضا ہے کہ ایسے اقدامات کو سراٹنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی نگرانی کی جائے کہ جن کیسز میں موقع پر یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں، کیا ان پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں۔ حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ وہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفاتر کو جدید آن لائن پے رول اور ڈیجیٹل پنشن ٹریکنگ سسٹم سے لیس کرے تاکہ آنے والے دنوں میں کسی بھی ریٹائرڈ ملازم کو کھلی کچہریوں تک جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے اور تمام ادائیگیاں خودکار نظام کے تحت بروقت مکمل ہوں۔ Post navigation جیکب آباد: گھریلو ناچاقی پر نوجوان کی مبینہ خودکشی، لاش سول ہسپتال منتقل، پولیس کی تفتیش جاری کوٹری: ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ حیدرآباد کا علی بابا بوائز ڈگری کالج کا دورہ، صنعتی آلودگی اور تعمیراتی مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی