Preloader
Ombudsman visit Ali Baba College

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • اعلیٰ سطح کا تفتیشی دورہ: ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ حیدرآباد سید سجاد حیدر شاہ نے گورنمنٹ علی بابا بوائز ڈگری کالج کوٹری کا دورہ کر کے تعلیمی معیار، عمارت کی حالبت اور سہولیات کا جائزہ لیا۔
  • صنعتی آلودگی کا سنگین مسئلہ: پرنسپل نزاکت علی بابلالنی نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ کوٹری سائٹ ایریا سے آنے والے آلودہ پانی سے کالج عمارت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔
  • پینے کے پانی کا حل: پرنسپل نے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بالخصوص ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری کی کاوشوں کو سراہا جن کے تعاون سے کالج میں پینے کے صاف پانی کا دیرینہ مسئلہ حل ہو چکا ہے۔
  • محتسبِ اعلیٰ کا عزم: سید سجاد حیدر شاہ نے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کر کے تعلیمی ادارے کو صنعتی آلودگی سے بچانے اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کا اعادہ کیا۔

رپورٹ: محمد نصیر ساگر (خاص نمائندہ، جامشورو)

ضلع جامشورو کے اہم تعلیمی مرکز کوٹری میں واقع گورنمنٹ علی بابا بوائز ڈگری کالج کو درپیش بنیادی مسائل، عمارت کی حالتِ زار اور صنعتی آلودگی سے پیدا ہونے والے خطرات کا نوٹس لیتے ہوئے محتسبِ اعلیٰ حیدرآباد کے ڈائریکٹر سید سجاد حیدر شاہ نے کالج کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد تعلیمی ادارے میں نصابی و ہنر مندانہ سرگرمیوں، طلبہ کو میسر بنیادی سہولیات اور عمارت کی ڈھانچہ جاتی صورتحال کا براہِ راست معائنہ کرنا تھا تاکہ آئینی و انتظامی سطح پر حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

کالج کے تعلیمی شعبہ جات اور پرنسپل کی تفصیلی بریفنگ

دورے کے دوران گورنمنٹ علی بابا بوائز ڈگری کالج کے پرنسپل نزاکت علی بابلالنی نے ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ حیدرآباد سید سجاد حیدر شاہ کو کالج کی مجموعی کارکردگی اور بنیادی تعلیمی ڈھانچے کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔

پرنسپل نے بتایا کہ یہ کالج کوٹری اور گردونواح کے ہزاروں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے اعلیٰ ثانویک ایجوکیشن کا اہم مرکز ہے۔ اس وقت کالج میں مندرجہ ذیل اہم شعبوں میں معیاری تعلیم دی جا رہی ہے:

  • پری میڈیکل: میڈیکل اور بائیولوجیکل سائنسز میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے۔
  • پری انجینئرنگ: انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے والے شائقین کے لیے۔
  • کمپیوٹر سائنس (ICS): جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق تعلیم کی فراہمی۔
  • کامرس: مالیاتی و تجارتی علوم سے متعلق شعبہ۔
  • آرٹس و ہیومینیٹیز: معاشرتی علوم اور ادبی مضامین کی تدریس۔

بریفنگ کے دوران پرنسپل نے بتایا کہ بہترین اساتذہ اور وسائل کی موجودگی کے باوجود کالج کی عمارت اور طلبہ کا ماحول بعض بیرونی اور ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔

صنعتی آلودگی کا بحران: کالج عمارت اور صحت کے لیے خطرہ

پرنسپل نزاکت علی بابلالنی نے ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ کا دھیان ایک انتہائی حساس اور سنجیدہ معاملے کی طرف مبذول کرایا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کوٹری سائٹ (SITE) انڈسٹریل ایریا سے نکلنے والا صنعتی آلودہ اور زہریلا کیمیکلز پر مشتمل پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے کالج کی دیواروں اور احاطے کے قریب جمع ہو رہا ہے۔

اس آلودہ پانی کے جمع ہونے سے دو بڑے مسائل جنم لے رہے ہیں:

1. عمارت کے ڈھانچے کو نقصان

کیمیکل ملا زہریلا پانی کالج کی بنیادوں میں رس رہا ہے، جس سے عمارت کی دیواروں، سیمنٹ اور لوہے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر اس کا بروقت سدِباب نہ کیا گیا تو مستقبل میں عمارت کے کسی بڑے حادثے کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے۔

2. بیماریوں اور مچھروں کی افزائش

زہریلے اور کھڑے پانی کی وجہ سے مچھروں اور خطرناک حشرات کی افزائش میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ڈینگی، ملیریا، جلد کی بیماریوں اور سانس کے امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس سے کالج میں زیرِ تعلیم طلبہ اور اساتذہ کی صحت شدید خطرے میں ہے۔

پرنسپل نے زور دیا کہ سائٹ ایریا کی انتظامیہ اور محکمۂ تحفظِ ماحول (EPA) کو فوری طور پر اس ڈرینج سسٹم کو بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

پینے کے پانی کا حل: ضلعی انتظامیہ کا مثبت کردار

کالج کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ پرنسپل نے ضلعی انتظامیہ بالخصوص ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل کالج میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا تھا، جس پر طلبہ کو سخت دشواری ہوتی تھی۔

ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے پینے کے پانی کی لائنز اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنایا، جس کے بعد اب کالج میں پینے کے پانی کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو چکا ہے۔ پرنسپل نے اسے سرکاری اداروں کے باہمی تعاون کی بہترین مثال قرار دیا۔

محتسبِ اعلیٰ کی انتظامیہ کو ہدایت اور مکمل تعاطف کی یقین دہانی

ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ حیدرآباد سید سجاد حیدر شاہ نے کالج کے مختلف شعبوں، کلاس رومز اور صنعتی پانی سے متاثرہ حصوں کا خود موقع پر جا کر معائنہ کیا۔ پرنسپل کی بریفنگ اور مسائل کی نوعیت کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ادارہ محتسبِ اعلیٰ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو متحرک کرے گا۔

انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

“تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور عمارتوں کی مناسب دیکھ بھال ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ طلبہ ہمارا مستقبل ہیں اور انہیں تحفظ، صحت مند ماحول اور معیاری تعلیمی وسائل فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر تعلیمی اداروں کو صنعتی آلودگی سے نقصان پہنچے گا تو یہ ناقابلِ برداشت ہے۔ ہم محکمۂ سائٹ، آبپاشی اور بلدیاتی اداروں سے رابطہ کر کے آلودہ پانی کا پائیدار حل نکالیں گے۔”

پس منظر: سندھ کے صنعتی علاقوں میں واقع تعلیمی اداروں کو درپیش چیلنجز

کوٹری، حیدرآباد اور کراچی جیسے صنعتی اضلاع میں واقع تعلیمی ادارے اکثر و بیشتر صنعتی فضلے، آلودہ پانی اور فضائی آلودگی کا شکار ہوتے ہیں۔ کوٹری سائٹ ایریا پاکستان کے قدامت پسند اور بڑے صنعتی زونز میں سے ایک ہے، جہاں سیکڑوں فیکٹریاں کام کر رہی ہیں۔

صنعتی ویسٹ مینجمنٹ اور انڈسٹریل افلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس (Effluent Treatment Plants) کے صحیح فعال نہ ہونے کی وجہ سے کیمیکل ملا پانی اکثر قریبی آبادیوں اور گورنمنٹ اسکولز و کالجز کے گرد جمع ہو جاتا ہے۔ علی بابا بوائز ڈگری کالج کوٹری کا مسئلہ اس وسیع تر ماحولیاتی المیے کا ایک حصہ ہے، جس کے لیے انڈسٹریل ویسٹ مینجمنٹ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

تعلیمی و ماحولیاتی بہتری کے لیے شماریاتی جائزہ

صنعتی علاقوں میں واقع سرکاری تعلیمی اداروں کے مسائل اور ان کے حل سے متعلق درج ذیل نکات قابلِ غور ہیں:

  • طلبہ کی حاضری پر اثرات: ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کے پھیلنے کے دنوں میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کی حاضری میں 20 سے 30 فیصد تک کمی دیکھنے میں آتی ہے۔
  • انفراسٹرکچر کا نقصان: زیرِ زمین زہریلے پانی کے رساؤ سے عمارتوں کی عمر میں 40 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے، جس سے ہر چند سال بعد تعمیر و مرمت کے اضافی فنڈز درکار ہوتے ہیں۔
  • محتسب کی مداخلت کا اثر: محتسبِ اعلیٰ سندھ کے پاس گزشتہ پانچ سالوں میں تعلیمی اداروں میں سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق آئندہ شکایات میں سے 80 فیصد سے زائد کا ازالہ متعلقہ ڈائریکٹوریٹس کو نوٹسز جاری کر کے کروایا گیا ہے۔

سفارشات اور حل کے لیے تجاویز

علی بابا بوائز ڈگری کالج کوٹری کو ایک بہترین تعلیمی ماڈل بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

  1. صنعتی پانی کی مستقل نکاسی: محکمۂ سائٹ (SITE) اور بلدیاتی انتظامیہ کوٹری کالج کے اطراف میں پکا نالہ تعمیر کریں تاکہ صنعتی پانی کالج کی حد میں داخل نہ ہو سکے۔
  2. اینٹی ڈینگی و سپرے مہم: ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ جامشورو فوری طور پر کالج احاطے اور گردونواح میں مچھر مار سپرے اور اینٹی ڈینگی سپرے کو یقینی بنائے۔
  3. سبزہ زار اور ماحولیاتی بہتری: صنعتی آلودگی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کالج کے ارد گرد شجرکاری کی جائے اور درخت لگائے جائیں۔
  4. سہولیات کا باقاعدہ معائنہ: ضلعی ایجوکیشن آفیسرز اور محتسب اعلیٰ کے نمائندے ہر سہ ماہی بنیادوں پر کالج کا معائنہ کریں تاکہ انتظامی مسائل وقت پر حل ہو سکیں۔

ایڈیٹوریل نوٹ

ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ حیدرآباد سید سجاد حیدر شاہ کا گورنمنٹ علی بابا بوائز ڈگری کالج کوٹری کا دورہ انتہائی بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ ایک طرف جہاں ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے پینے کے پانی کا مسئلہ حل کر کے ایک مثبت مثال قائم کی، وہاں اب دوسری طرف ضرورت اس امر کی ہے کہ سائٹ ایریا کی انتظامیہ کو بھی قانون کا پابند بنایا جائے تاکہ زہریلے پانی کی نکاسی سے کالج کی عمارت اور طلبہ کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ تعلیمی اداروں کو تمام تر سیاسی و انتظامی مصلحتوں سے بالاتر رکھ کر ایک پاکیزہ، محفوظ اور شاندار تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہی ملک و قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔