خبر کے اہم نکات (خلاصہ) بڑا انتظامی اقدام: ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر کی ہدایت پر پشاور رنگ روڈ پر غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف چوتھے روز بھی گرینڈ آپریشن جاری رہا۔ بڑے پیمانے پر مسماری: آپریشن کے دوران جمیل چوک، پیر زکوڑی فلائی اوور اور پشتخرہ چوک سمیت مختلف علاقوں میں 300 سے زائد غیر قانونی دکانیں، مارکیٹیں اور تجاوزات بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کی گئیں۔ مشترکہ کارروائی: ضلعی انتظامیہ کے ساتھ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) اور متعلقہ محکموں کی مشترکہ ٹیمیں سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے متحرک ہیں۔ بلا امتیاز آپریشن: انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تجاوزات کے مکمل خاتمے اور ٹریفک کی روانی بحال ہونے تک کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔ رپورٹ: خصوصی نمائندہ (پشاور) صوبائی دارالحکومت پشاور کو تجاوزات سے پاک کرنے اور سڑکوں کی کشادگی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ایک وسیع پیمانے پر مہم کا آغاز کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر کی براہِ راست ہدایت پر پشاور رنگ روڈ پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری گرینڈ آپریشن اپنے چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت کے دوران اب تک شاہراہِ عام اور سرکاری اراضی پر قائم کی گئی 300 سے زائد دکانوں، کاروباری شیڈز اور مارکیٹوں کے غیر قانونی حصوں کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ آپریشن کی جغرافیائی وسعت اور متاثرہ علاقے ضلعی انتظامیہ اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) کے کیپٹل روڈ انفراسٹرکچر ونگ کی جانب سے جاری اس گرینڈ آپریشن کا دائرہ کار رنگ روڈ کے تمام کلیدی پوائنٹس اور چوراہوں تک پھیلایا گیا ہے۔ چوتھے روز کی کارروائیاں خاص طور پر مندرجہ ذیل اہم مقامات پر مرکوز رہیں: جمیل چوک: جہاں سڑک کی دونوں جانب قائم عارضی و مستقل تجاوزات کے باعث روزانہ شدید ٹریفک جام رہتا تھا۔ پیر زکوڑی فلائی اوور: فلائی اوور کی اترائی اور قریبی درمیانی جگہوں پر قائم غیر قانونی دکانوں اور ہوٹلوں کے اضافی حصوں کو ختم کیا گیا۔ پشتخرہ چوک: صنعتی اور تجارتی لحاظ سے اہم اس چوک کے ارد گرد سرکاری زمین پر بنے شیڈز اور پکے تجاوزات کو گرایا گیا۔ رنگ روڈ کے ملحقہ سروس روڈز: جہاں غیر قانونی پارکنگ اور سٹالز کے باعث شہریوں کی پیدل آمدورفت بھی مسدود ہو چکی تھی۔ کارروائی کے دوران پولیس نفری کی بھاری تعداد بھی انتظامیہ کے ہمراہ موجود تھی تاکہ کسی بھی ممکنہ مزاحمت یا ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ بھاری مشینری کا استعمال اور انتظامی پیش رفت تجاوزات کے خاتمے کے لیے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی ہیوی مشینری، بشمول بلڈوزر، کرینیں اور روڈ کٹرز، استعمال کی جا رہی ہیں۔ آپریشن کے دوران ان تمام پکے اور کچے ڈھانچوں کو گرا دیا گیا جو سرکاری اراضی پر حدود سے تجاوز کر کے بنائے گئے تھے۔ اس حوالے سے میڈیا سیل، ڈپٹی کمشنر آفس پشاور کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق: “رنگ روڈ سمیت پشاور کی تمام مرکزی شاہراہیں عوامی ملکیت ہیں اور انہیں کسی بھی شخص یا گروپ کے ذاتی مفاد کے لیے غصب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس آپریشن کا مقصد سرکاری اراضی واگزار کرانا اور سڑک کی اصل چوڑائی کو بحال کرنا ہے تاکہ ٹریفک کا بہاؤ بلا تعطل جاری رہے۔” پس منظر: پشاور رنگ روڈ اور تجاوزات کا دیرینہ مسئلہ پشاور کا رنگ روڈ شہر کی سب سے اہم شریان شمار ہوتا ہے، جو نہ صرف شہر کے اندرونی علاقوں کو آپس میں جوڑتا ہے بلکہ خیبر پاس، طورخم بارڈر اور موٹروے (M-1) کے لیے بھی مرکزی تجارتی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران رنگ روڈ کی دونوں جانب وسیع پیمانے پر غیر قانونی تجارتی سرگرمیاں شروع ہو گئی تھیں۔ تاجروں اور قبضہ مافیا نے سروس روڈز اور گرین بیلٹس پر ناجائز قابض ہو کر پکی دکانیں، ورکشاپس، ریڑھی بانوں کے مستقل اڈے اور ہاؤسنگ اسکیموں کے استقبالیہ قائم کر لیے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ سے: ٹریفک کا شدید دباؤ: رنگ روڈ پر تجارتی گاڑیوں اور عام سواریوں کی آمدورفت میں گھنٹوں تاخیر ہونے لگی۔ حادثات میں اضافہ: غیر قانونی پارکنگ اور سڑک کے ہائی وے جیسے ڈیزائن میں مداخلت کے باعث مہلک حادثات میں اضافہ ہوا۔ ماحولیاتی و جمالیاتی نقصانات: شہر کا خوبصورت رنگ روڈ کچرے اور بے ہنگم تعمیرات کے باعث داغدار ہو رہا تھا۔ اسی پس منظر میں پشاور انتظامیہ نے ایک جامع ماسٹر پلان کے تحت رنگ روڈ کو مکمل طور پر تجاوزات سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ اعداد و شمار: آپریشن کے اہم ترین چار روزہ نتائج پشاور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اور معائنہ شدہ اعداد و شمار کے مطابق گرینڈ آپریشن کی چار روزہ پیش رفت درج ذیل ہے: مسمار شدہ غیر قانونی تعمیرات: 300 سے زائد (جس میں دکانیں، مارکیٹیں، شیڈز اور خستہ حال پکے ڈھانچے شامل ہیں)۔ واگزار کرائی گئی سرکاری اراضی: دسیوں کنال قیمتی سرکاری اراضی اور گرین بیلٹس پر سے نا جائز قبضہ ختم کرایا گیا۔ شامل ادارے: ضلعی انتظامیہ پشاور، پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA)، پشاور پولیس اور ٹریفک وارڈن پولیس۔ مستقبل کے ہدف کردہ پوائنٹس: 10 سے زائد مزید اہم چوراہے اور سروس روڈز جنہیں آئندہ مرحلے میں صاف کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر کا انتباہ اور عزم ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے پریس ریلیز کے ذریعے تاجروں، دوکانداروں اور عوام کو واضح پیغام دیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف یہ آپریشن محض ایک عارضی مہم نہیں ہے بلکہ اسے پائیدار بنیادوں پر برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے تاکید کی: “قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جن لوگوں نے دوبارہ تجاوزات قائم کرنے کی کوشش کی، ان کے خلاف بھاری جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر (FIR) بھی درج کی جائے گی۔ تمام دوکاندار اپنی حدود کے اندر رہیں اور سڑک کی حد میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ بنیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس آپریشن کا اصل مقصد شہریوں کے لیے سفر آسان بنانا اور صوبائی دارالحکومت کی خوبصورتی کو بحال کرنا ہے۔ عوامی اور تاجرانہ ردِعمل اس گرینڈ آپریشن پر پشاور کے شہریوں اور تاجر برادری کی جانب سے ملا جلا لیکن مجموعی طور پر مثبت ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ عام شہریوں کا موقف: پشاور کے رہائشیوں اور روزانہ سفر کرنے والے شہریوں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رنگ روڈ پر تجاوزات کی وجہ سے جمیل چوک اور پیر زکوڑی پر سفر کرنا سوهانِ روح بن چکا تھا، اور اس آپریشن سے ٹریفک کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئے گی۔ متاثرہ تاجروں کا مطالبات: بعض متاثرہ دکانداروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ ان کا روزگار متاثر نہ ہو۔ تاجر تنظیموں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ جو تاجر جائز قانونی لیز یا کاغذات رکھتے ہیں، ان کی فائلز کا احتیاط سے جائزہ لیا جائے۔ ایڈیٹوریل نوٹ پشاور کی ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی اے کی جانب سے رنگ روڈ پر 300 سے زائد غیر قانونی دکانوں اور مارکیٹوں کی مسماری ایک مثبت اور ضروری قدم ہے۔ صحافتی معروضیت کا تقاضا ہے کہ قانون کی بالادستی اور عوامی راستوں کی کشادگی کے اس اقدام کو سراہا جائے، لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا جائے کہ ماضی کی طرح آپریشن کے کچھ عرصے بعد تجاوزات کو دوبارہ پنپنے نہ دیا جائے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ واگزار کرائی گئی اراضی پر فوری طور پر سڑک کی توسیع، فٹ پاتھوں کی تعمیر اور شجرکاری (Green Belts) مکمل کرے تاکہ پشاور کا رنگ روڈ مستقل طور پر کشادہ، محفوظ اور خوبصورت بنایا جا سکے۔ Post navigation پشاور: تھانہ انقلاب پولیس کا کریک ڈاؤن، اراضی تنازع پر فائرنگ اور اقدامِ قتل میں ملوث ملزمان چند گھنٹوں میں گرفتار، اسلحہ برآمد