Preloader
Open door policy of Peshawar police

اہم نکات (خلاصہ)

  • اوپن ڈور پالیسی کا تسلسل: پشاور میں شہریوں کو اعلیٰ پولیس حکام تک بلاوجہ رکاوٹ رسائی فراہم کرنے کے لیے کھلی کچہری کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا۔
  • براہِ راست سماعت: ملک سعد شہید پولیس لائنز میں کپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) ڈاکٹر میاں سعید احمد نے شہریوں کی درخواستیں اور مشکلات بالمشافہ سنیں۔
  • فوری ازالے کی ہدایات: متعلقہ پولیس افسران کو درخواستوں پر شفاف، غیر جانبدارانہ اور مقررہ وقت کے اندر قانونی کارروائی یقینی بنانے کی سخت ہدایت جاری کی گئی۔
  • بنیادی مقصد: عوامی خدمت، بروقت انصاف کی فراہمی، ادارہ جاتی شفافیت اور قانون کی یکساں حکمرانی کو عملی جامہ پہنانا پشاور پولیس کی ترجیح قرار دیا گیا۔

تفصیلی خبر

پشاور (خصوصی رپورٹ): خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں عام شہریوں اور پولیس کے درمیان حائل فاصلوں کو مٹانے اور عوام الناس کے مسائل ان کی دہلیز یا اعلیٰ حکام کی عدالت میں سنے کے لیے ایک بار پھر عملی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں کپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے اوپن ڈور پالیسی کے تحت ملک سعد شہید پولیس لائنز میں شہریوں کے مسائل و شکایات بلاواسطہ سنے اور ان کے فوری و حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔

جمعرات کے روز منعقد ہونے والی اس کھلی کچہری کے دوران پشاور کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے درخواست گزاروں نے پولیس رویوں، تفتش میں تاخیر، مقامی تنازعات اور دیگر پیشہ ورانہ معائل سے متعلق اپنی درخواستیں پیش کیں۔ سی سی پی او نے تمام سائلین کی بات انتہائی توجہ، صبر اور دھیان کے ساتھ سنی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کے ازالے کے لیے احکامات صادر کیے۔

اس موقع پر سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) انویسٹی گیشن ڈاکٹر محمد سمیع ملک بھی موجود تھے، جنہوں نے تفتیشی امور اور زیر التواء مقدمات سے متعلق درخواستوں کا جائزہ لیا اور متعلقہ تفتیشی افسران کو ضروری سمت فراہم کی۔

اوپن ڈور پالیسی کا بنیادی فلسفہ اور مقاصد

پولیس کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اس پالیسی کے انعقاد کا بنیادی مقصد روایتی تھانہ کلچر میں تبدیلی لانا اور عام شہری کے دل سے پولیس کا بلاجواز خوف ختم کرنا ہے۔

اس موقع پر ذرائع ابلاغ اور سائلین سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کہا کہ:

”اوپن ڈور پالیسی محض ایک رسمی اقدام نہیں بلکہ یہ شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کا مضبوط پل ہے۔ ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ ہر مظلوم کو بغیر کسی سفارش یا دشواری کے انصاف ملے اور قانون کی بالادستی ہر صورت قائم ہو۔“

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی خدمت، انصاف میں تاخیر کا خاتمہ، مکمل شفافیت اور یکساں قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو خبردار کیا کہ شہریوں کی درخواستوں میں غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

پشاور پولیس کی عوامی اصلاحات: اہم اعداد و شمار اور خدوخال

پشاور پولیس نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی شکایت کے نظام کو جدید و موثر بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

+-----------------------------------------------------------------------+
|                پشاور پولیس کی عوامی و انتظامی ترجیحات                 |
+-----------------------------------------------------------------------+
| بنیادی اقدام       | اوپن ڈور پالیسی (کھلی کچہری کا باقاعدہ انعقاد)   |
| مرکزی مقام         | ملک سعد شہید پولیس لائنز، پشاور                 |
| کلیدی اصول         | بلاامتیاز انصاف، شفافیت اور بروقت ازالہ         |
| نگرانی کا نظام     | ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سطح پر تفتیش کا جائزہ  |
| ہدف                | تھانہ کلچر کی تبدیلی اور عوام کا اعتماد         |
+-----------------------------------------------------------------------+
  1. بلاواسطہ رسائی: عام شہریوں کے لیے دفتر کے دروازے بلا تفریق کھولنا تاکہ درمیانی ذرائع یا سفارش کی ضرورت ختم ہو جائے۔
  2. مقررہ وقت پر کارروائی: ہر درخواست کے لیے ایک مخصوص مدت طے کی گئی ہے جس کے اندر متعلقہ ایس ایچ او یا تفتیشی افسر جوابدہ ہوتا ہے۔
  3. تفتیشی معیار میں بہتری: ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی موجودگی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مقدمات کی تفتیش میرٹ پر ہو اور کوئی بھی بے گناہ متاثر نہ ہو۔

پس منظر: تھانہ کلچر میں تبدیلی اور عوامی اعتماد کی بحالی

تاریخی طور پر عام شہریوں کے لیے اعلیٰ پولیس افسران تک رسائی حاصل کرنا ایک کٹھن مرحلہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ روایتی سست روی اور نوکر شاہی کے انداز کی وجہ سے اکثر سائلین کو اپنے معمولی مسائل کے حل کے لیے بھی دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے۔

خیبر پختونخوا پولیس نے اس روایت کو توڑنے کے لیے حالیہ برسوں میں کمیونٹی پولیسنگ (عوامی پولیسنگ) کے کئی منصوبے متعارف کروائے ہیں۔ پشاور جیسے حساس اور مرکزی شہر میں، جہاں آبادی کا دباؤ اور امن و امان کے مسائل دیگر اضلاع کی نسبت مختلف ہیں، کھلی کچہریوں کا یہ سلسلہ ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔

سابقہ ادوار میں بھی اس نوعیت کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، تاہم ڈاکٹر میاں سعید احمد کی جانب سے اس پالیسی کی باقاعدہ اور مسلسل نگرانی نے اس اقدام کی افادیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سے نہ صرف ماتحت عملے میں جوابدہی کا احساس پیدا ہوتا ہے بلکہ افسران کو بھی نچلی سطح پر درپیش واقعی مسائل کا ادراک ہوتا ہے۔

صورتحال کے اثرات: شہریوں اور سماجی حلقوں کا ردِعمل

اوپن ڈور پالیسی کے اس مسلسل عمل پر پشاور کے شہریوں اور سماجی حلقوں نے انتہائی مثبت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

  • انصاف کی فوری فراہمی: کھلی کچہری میں ان تمام شہریوں کو فوری امداد ملتی ہے جن کی درخواستیں تھانوں کی سطح پر التواء کا شکار ہوتی ہیں۔
  • افسران کی جوابدہی: جب سی سی پی او خود سائلین کی درخواستوں کی مانیٹرنگ کرتے ہیں تو تھانوں کے انچارج اور تفتیشی افسران بروقت اور شفاف کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
  • جرائم کی روک تھام میں مدد: شہریوں اور پولیس کے درمیان رابطہ مضبوط ہونے سے انٹیلی جنس اور معلومات کا تبادلہ آسان ہو جاتا ہے، جس سے جرائم کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

پشاور پولیس کی انتظامیہ کے مطابق اوپن ڈور پالیسی کا یہ دائرہ کار صرف پولیس لائنز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آنے والے دنوں میں مختلف سب ڈویژنز اور تھانوں کی سطح پر بھی کھلی کچہریاں منعقد کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے برقی شکایت سیل کو بھی اس نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ گھر بیٹھے بھی شہری اپنی شکایات کی پیش رفت کا جائزہ لے سکیں۔

اعلیٰ پولیس حکام کا عزم ہے کہ جب تک ہر شہری اپنے آپ کو محفوظ اور بااختیار محسوس نہیں کرتا، تب تک ان اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔

ایڈیٹوریل نوٹ: اس خبر کی تیاری میں پشاور پولیس کے سرکاری اعلامیے اور ملک سعد شہید پولیس لائنز میں منعقدہ کھلی کچہری کی عینی تفصیلات کو شامل کیا گیا ہے۔ خبر کی معروضیت اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے تمام احکامات کو سرکاری موقف کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔

کیا آپ اس رپورٹ کے بارے میں کوئی مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں یا اس کا کوئی مختصر پریس ریلیز فارمیٹ درکار ہے؟