اہم نکات (خلاصہ) افسوسناک واقعہ: گوجرانوالہ کے علاقے قلعہ دیدار سنگھ میں واقع ‘قربان پیپر ملز’ میں کام کے دوران 28 سالہ مزدور محمد حسنین پلپر مشین میں گر کر موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ قانونی کارروائی: متوفی مزدور کے سسر کی مدعیت میں متعلقہ تھانے میں پیپر مل کے مالک سمیت 5 افراد کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ حفاظتی تدابیر کی عدم موجودگی: مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کارخانے میں بنیادی حفاظتی اقدامات اور حفاظتی حصار موجود نہیں تھا جو اس المناک حادثے کا سبب بنا۔ ملزمان کی روپوشی: واقعہ رونما ہونے کے بعد مل کے مالکان اور نامزد ملزمان موقع سے غائب ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کی جانب سے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مقدمہ: صنعتی حادثات اور مزدوروں کا تحفظ کارخانوں اور صنعتی یونٹوں میں مزدور کی حفاظت کا نظام کسی بھی معاشی اور قانونی ڈھانچے کی بنیاد ہوتا ہے۔ تاہم، پاکستان کے مختلف صنعتی شہروں میں حفاظتی تدابیر کی کمی اور غیر قانونی کوتاہیوں کے باعث آئے روز قیمتی انسانی جانوں کا زیان دیکھنے میں آتا ہے۔ اسی نوعیت کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ گوجرانوالہ کے نواحی علاقے قلعہ دیدار سنگھ میں پیش آیا ہے جہاں ایک پیپر مل میں دورانِ ڈیوٹی 28 سالہ نوجوان مزدور خوفناک حادثے کا شکار ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس افسوسناک واقعہ نے نہ صرف متوفی کے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے بلکہ صنعتی اداروں میں مزدوروں کی حفاظت، کام کے حالات اور مل مالکان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حادثے کی تفصیلات: کام کے دوران پیش آنے والا المیہ خصوصی نمائندے توقیر اسلم کی رپورٹ کے مطابق، قلعہ دیدار سنگھ میں قائم ‘قربان پیپر ملز’ میں 28 سالہ مزدور محمد حسنین حسبِ معمول اپنی روزمرہ کی ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا۔ کام کے دوران اچانک اس کا پاؤں پھسلا یا توازن بگڑا اور وہ کاغذ کی تیاری میں استعمال ہونے والی بھاری اور متحرک ‘پلپر مشین’ (کاغذ کے گودے بنانے والی مشین) کے اندر جا گرا۔ مشین کی شدید رفتار اور تیز رفتار پرزوں کے باعث نوجوان مزدور کو سنبھلنے یا باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا اور وہ موقع پر ہی شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ کارخانے میں موجود دیگر مزدوروں نے شور مچایا اور مشین کو بند کرنے کی کوشش کی، تاہم اس وقت تک محمد حسنین کی زندگی کا چراغ گل ہو چکا تھا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو عملہ اور مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور متوفی کی لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پس منظر: صنعتی شعبے میں حفاظتی تدابیر کا فقدان کاغذ اور گتے کی ملوں میں استعمال ہونے والی مشینیں سائز میں بے حد بڑی اور خطرناک ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی اور قومی لیبر قوانین کے تحت ان مشینوں کے گرد حفاظتی جنگلے، کٹہرے، خودکار بندش کے بٹن اور مزدوروں کے لیے خصوصی حفاظتی لباس و ہیلمٹ فراہم کرنا لازمی ہوتا ہے۔ تاہم، متعدد چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی یونٹوں میں منافع خوری اور عدم توجہی کے باعث ان قوانین کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ صنعتی حادثات کے اہم وجوہات کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں: حفاظتی حصار کا نہ ہونا: سنگین اور بھاری مشینوں کے گرد کسی قسم کا حفاظتی زون یا جنگلہ قائم نہ کرنا۔ غیر تربیت یافتہ عملہ: مزدوروں کو ہنگامی حالات اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے بنیادی تربیت نہ دینا۔ مشینری کا ناکافی معائنہ: پرانی اور خستہ حال مشینوں کا باقاعدگی سے معائنہ نہ کرنا اور خودکار حفاظتی نظام کا فعال نہ ہونا۔ طویل کاری کے اوقات: مزدوروں سے حد سے زیادہ کام لینا جس کی وجہ سے تھکاوٹ کے باعث توجہ ہٹ جاتی ہے۔ قانونی کارروائی: مقدمے کا اندراج اور نامزد ملزمان واقعے کے بعد متوفی محمد حسنین کے اہل خانہ اور رشتہ داروں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ متوفی کے سسر کی جانب سے مقامی تھانے میں تحریری درخواست جمع کرائی گئی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے باقاعدہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی ہے۔ مقدمے کی اہم تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں: مدعی مقدمہ: متوفی مزدور محمد حسنین کے سسر۔ نامزد ملزمان: پیپر ملز کے مالک سمیت 5 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کا متن: درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ کارخانے کی انتظامیہ نے کام کی جگہ پر حفاظتی اقدامات نہیں کیے ہوئے تھے اور نہ ہی مشین کے گرد حفاظتی کٹہرا موجود تھا، جس کی وجہ سے یہ المیہ پیش آیا۔ موجودہ صورتحال: حادثے کے فوراً بعد مل مالک اور انتظامیہ کے نامزد ملزمان موقع سے روپوش ہو گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور روپوش ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار: مزدوروں کے تحفظ اور صنعتی حادثات کی صورتحال پاکستان میں محنت کشوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال تشویشناک نظر آتی ہے: حادثات کی کثرت: غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ بنیادوں پر سیکیورٹی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے سیکڑوں مزدور اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں یا معذور ہو جاتے ہیں۔ قوانین پر عمل درآمد: اندازاً 60 فیصد سے زائد درمیانے درجے کے صنعتی یونٹس میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے حفاظتی آڈٹ باقاعدگی سے انجام نہیں دیا جاتا۔ معاوضے کا عدم وجود: حادثات کا شکار ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کو اکثر مناسب مالی امداد اور قانونی معاوضہ حاصل کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرتی اثرات اور عوامی ردِعمل 28 سالہ جوان سال محمد حسنین کی مفارقت نے ان کے خاندان کو معاشی و جذباتی طور پر توڑ کر رکھ دیا ہے۔ متوفی اپنے گھر کا واحد یا اہم کفیل تھا، جس کی اچانک موت سے اس کے سوگوار خاندان کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی علاقے کے دیگر مزدوروں، صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف غفلت کے مرتکب ملزمان کو فوری گرفتار کر کے کیفری کردار تک پہنچایا جائے بلکہ متاثرہ خاندان کے لیے مناسب مالی معاوضے کی ادائیگی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ایڈیٹوریل تبصرہ اور اختتامیہ گوجرانوالہ کے قلعہ دیدار سنگھ کا یہ واقعہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ یہ اس غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے جو ہمارے صنعتی ڈھانچے میں رچ بس چکی ہے۔ جب تک کارخانوں کے مالکان اور انتظامیہ پر لیبر قوانین کی پابندی سخت نہیں کی جائے گی، تب تک غریب محنت کش یوں ہی اپنی روزی روٹی کی تلاش میں اپنی جانیں نچھاور کرتے رہیں گے۔ حکومت، محکمہ محنت (لیبر ڈیپارٹمنٹ) اور ضلعی انتظامیہ کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام پیپر ملوں اور سنگین نوعیت کی انڈسٹریز کا فوری طور پر حفاظتی آڈٹ کریں۔ جن اداروں میں حفاظتی اقدامات مکمل نہ ہوں، انہیں کام کی اجازت نہ دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پولیس کو چاہیے کہ وہ ‘قربان پیپر ملز’ کے مالک سمیت تمام نامزد ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کر کے متوفی کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔ Post navigation اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کی اہم سیاسی و انتظامی ملاقات: قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی تفصیلی گفتگو نوشہرہ ورکاں میں ٹیوشن فیس کے تنازع پر خاتون استاد پر تشدد: سی پی او گوجرانوالہ کے سخت نوٹس کے بعد 2 نامزد ملزمان گرفتار، پولیس کی میرٹ پر تفتیش کی یقین دہانی