خبر کے اہم نکات ادارتی غفلت کا شاخسانہ: گوجرانوالہ میڈیکل کالج (جی ایم سی) ٹیچنگ ہسپتال پیرامیڈیکل سکول کی پنجاب میڈیکل فیکلٹی سے رجسٹریشن مبینہ انتظامی کوتاہی کے باعث مکمل نہ ہو سکی۔ انسپکشن ٹیم کی ناکامی: پرچیز آفیسر کی جانب سے بروقت کتب کی عدم خریداری اور نامکمل انتظامات کی وجہ سے پنجاب میڈیکل فیکلٹی کی معائنی ٹیم کا دورہ بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو گیا۔ مالی اور تعلیمی نقصان: سکول کی پہلی رجسٹریشن فیس کی بھاری رقم ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ ازسرنو رجسٹریشن اور فیس کی ادائیگی کا نیا بوجھ سامنے آ گیا ہے۔ طلبہ کا مستقبل خطرے میں: پنجاب میڈیکل فیکلٹی کے نئے تعلیمی سیشن کے داخلہ اشتہار کے باوجود، رجسٹریشن نہ ہونے سے گوجرانوالہ کے سینکڑوں طلبہ مسلسل دوسرے سال بھی داخلوں سے محروم ہونے کا اندیشہ ہے۔ گوجرانوالہ: انتظامی غفلت کے باعث تعلیمی ادارے کی معطلی صوبہ پنجاب کے صنعتی اور تعلیمی مرکز گوجرانوالہ میں طبی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ و طالبات ایک بار پھر شدید اضطراب اور تشویش کا شکار ہیں۔ گوجرانوالہ میڈیکل کالج ٹیچنگ ہسپتال میں قائم کیے جانے والے پیرامیڈیکل سکول کی پنجاب میڈیکل فیکلٹی سے باقاعدہ رجسٹریشن کا عمل انتظامی نااہلی اور مبینہ مبہم بریفنگ کے باعث کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ اس غیر سنجیدہ طرز عمل کے نتیجے میں نہ صرف سرکاری خزانے کی بھاری رقم ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے بلکہ خطے کے سینکڑوں طلبہ کا تعلیمی مستقبل اور طبی شعبے میں کیریئر بنانے کے خواب بھی داؤ پر لگ گئے ہیں۔ شہر اور گردونواح کے طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ یہ ادارہ نہ صرف اعلیٰ طبی سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہونا تھا بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی تھا۔ معائنے کی ناکامی اور مبینہ بریفنگ کا پس منظر ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، پرنسپل پیرامیڈیکل سکول حافظ فیصل کی جانب سے پنجاب میڈیکل فیکلٹی سے رجسٹریشن کے عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے تمام تر ضروری کاغذی اور بنیادی اقدامات مکمل کر لیے گئے تھے۔ تاہم، انتظامی ڈھانچے میں موجود رابطہ کاری کی کمی اس وقت نمایاں ہوئی جب متعلقہ پرچیز آفیسر کی جانب سے مطلوبہ نصابی کتب، سائنسی مواد اور دیگر لازمی سامان کی بروقت خریداری میں شدید تاخیر کی گئی۔ رجسٹریشن کے مراحل کے تحت جب پنجاب میڈیکل فیکلٹی کی بااختیار انسپکشن ٹیم نے ادارے کے دورے اور معائنے کا اہتمام کیا، تو موقع پر درکار بنیادی انتظامات غیر مکمل پائے گئے۔ نصابی کتب اور دیگر اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی کے باعث معائنا کرنے والی ٹیم نے تحفظات کا اظہار کیا اور رجسٹریشن کی منظوری دیے بغیر واپس لوٹ گئی۔ اس کے علاوہ ذرائع نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ انسپکشن کے بعد معاملے کی حقیقت کو منظر عام پر لانے کے بجائے، ڈاکٹر سجاد کی جانب سے پرنسپل گوجرانوالہ میڈیکل کالج ڈاکٹر ہارون حامد کو مبینہ طور پر حقائق کے برعکس اور گمراہ کن بریفنگ فراہم کی گئی۔ اس نادرست معلومات کی بناء پر پرنسپل کی جانب سے رجسٹریشن کے جاری عمل کو فوری طور پر روک دیا گیا، جس سے پورا معاملہ طویل تاخیر کا شکار ہو گیا۔ صورتحال کے دوہرے منفی اثرات: مالی ضیاع اور تعلیمی نقصان اس تمام انتظامی ابتری کے نتیجے میں دو انتہائی سنگین مسائل جنم لے چکے ہیں جن کے براہ راست اثرات نہ صرف ادارے کی مالی حالت بلکہ طلبہ کے مستقبل پر پڑ رہے ہیں: سرکاری خزانے کا مالی نقصان: پیرامیڈیکل سکول کی ابتدائی رجسٹریشن کے حصول کے لیے جمع کروائی گئی بھاری سرکاری فیس انتظامی غفلت کی نذر ہو کر ضائع ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ قوانین کے مطابق اب ادارے کو دوبارہ معائنے اور رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کے لیے ازسرنو بھاری فیس جمع کروانا پڑے گی، جو سرکاری وسائل کے بلاجواز ضیاع کی واضع مثال ہے۔ سیشن 2026-2028 میں داخلوں سے محرومی: پنجاب میڈیکل فیکلٹی نے سیشن 2026-2028 کے لیے پیرامیڈیکل کورسز کے داخلہ جات کا باقاعدہ اشتہار جاری کر دیا ہے۔ لیکن جی ایم سی ٹیچنگ ہسپتال کی باقاعدہ رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارہ اس بار بھی اپنے دروازے طلبہ کے لیے نہیں کھول سکے گا۔ اس کے نتیجے میں گوجرانوالہ اور اس سے ملحقہ اضلاع کے سینکڑوں امیدوار اس سال بھی طبی تعلیم سے محروم رہ جائیں گے۔ متاثرین کا موقف اور اعلیٰ حکام سے مطالبات اس تشویش ناک صورتحال پر گوجرانوالہ کے شہریوں، متاثرہ طلبہ، طالبات اور ان کے والدین کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں پیرامیڈیکل ڈگری اور ڈپلومہ کورسز کے محدود مواقع ہیں، اور اس قسم کے سرکاری سکولوں کی بندش یا رجسٹریشن میں تاخیر غریب اور متوسط طبقے کے ہونہار بچوں کے ساتھ شدید ناانصافی ہے۔ اہلیان گوجرانوالہ اور شہری تنظیموں نے نگران اور اعلیٰ حکام بالخصوص سیکرٹری ہیلتھ پنجاب اور محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیداروں سے درج ذیل ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے: شفاف انکوائری کا فوری قیام: اس پورے واقعے، پرچیز آفیسر کی مبینہ تاخیر اور غلط بریفنگ کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ذمہ داران کا تعین: انتظامی غفلت، سرکاری فیس کے ضیاع اور طلبہ کے سال کے نقصان کا سبب بننے والے تمام افراد کا تعین کر کے ان کے خلاف سخت قانونی اور ڈسپلنری کارروائی کی جائے۔ فوری رجسٹریشن کی بحالی: پنجاب میڈیکل فیکلٹی سے ہنگامی بنیادوں پر رابطہ کر کے معائنے کے دوبارہ دورے کا اہتمام کیا جائے تاکہ جاری داخلہ سیشن کے دوران ہی سکول کو فعال کر کے بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ نتیجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل پیرامیڈیکل عملہ کسی بھی طبی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کی کارکردگی کا انحصار ان تربیتی اداروں سے نکلنے والے ماہرین پر ہوتا ہے۔ گوجرانوالہ جیسے بڑے صنعتی اور گنجان آباد شہر میں میڈیکل کالج ٹیچنگ ہسپتال کے پیرامیڈیکل سکول کا غیر فعال ہونا نہ صرف تعلیمی نقصان ہے بلکہ صحت کے شعبے کے لیے بھی ایک بڑا سیٹ بیک ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلیٰ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور سرخ فیطے کی پالیسی کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے صادر کریں، تاکہ گوجرانوالہ کے طلبہ کا قیمتی تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچ سکے اور ادارے کو اس کا قانونی اور تعلیمی مقام مل سکے۔ Post navigation تحصیل غازی میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن ساتویں روز بھی جاری: 18 کنال سرکاری اراضی واگزار، کروڑوں روپے کے قبضے ختم ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب لینڈنگ کے دوران دو ہیلی کاپٹروں کا تصادم: ایک مسافر جاں بحق، پائلٹ شدید زخمی