بہاولپور (نیوز ڈیسک): سکیورٹی اداروں نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بہاولپور میڈیکل کالج میں زیرِ تعلیم 20 افغان طلبا کو پاکستان مخالف سائبر مہم چلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ان طلبا پر الزام ہے کہ وہ ریاست اور پاک فوج کے خلاف منظم پراپیگنڈہ مہم کا حصہ تھے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!بھارتی شہر چنائی سے تعلق اور آپریٹنگ طریقہ کار
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، گرفتار افغان طلبا کو بھارتی شہر چنائی میں قائم ایک مخصوص سائبر سیل سے براہِ راست ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔ یہ طلبا سوشل میڈیا پر متحرک تھے اور انہوں نے افغان اور بلوچ ناموں سے درجنوں جعلی اکاؤنٹس بنا رکھے تھے۔ ان اکاؤنٹس کا مقصد پاکستانی فوج کے خلاف منفی بیانیہ فروغ دینا اور ملک میں لسانی و علاقائی بنیادوں پر انتشار پھیلانا تھا۔
فنڈنگ اور نیٹ ورک کا انکشاف
انکشاف ہوا ہے کہ ان طلبا کو اس نیٹ ورک کو چلانے کے لیے مختلف غیر قانونی ذرائع سے ماہانہ بنیادوں پر بھاری رقوم فراہم کی جا رہی تھیں۔ اس نیٹ ورک کا سراغ بلوچستان میں ہونے والی حالیہ گرفتاریوں سے ملا۔ بلوچستان سے گرفتار ہونے والے مشتبہ افراد کو بھی انہی ذرائع سے فنڈز منتقل کیے جا رہے تھے، جن سے بہاولپور میں مقیم ان افغان طلبا کو رقوم مل رہی تھیں۔
پاکستانی سکالرشپ پر تعلیم اور نمک حرامی
حیران کن اور افسوسناک حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ یہ تمام افغان طلبا حکومتِ پاکستان کے خصوصی سکالرشپ (وظیفے) پر یہاں کے بہترین تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ریاست کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے یہ طلبا مبینہ طور پر اسی ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی سازشوں میں مصروف تھے۔
سکیورٹی اداروں کی کارروائی
سکیورٹی اداروں نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لے کر لیپ ٹاپس، موبائل فونز اور دیگر مشکوک مواد قبضے میں لے لیا ہے۔ گرفتار طلبا کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ ان کے مقامی سہولت کاروں اور نیٹ ورک کے دیگر مہروں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
