Preloader
Awami Quwat Party met with persons

خلاصہ (اہم نکات)

  • جدید ٹیکنالوجی کا فروغ: پاکستان عوامی قوت پارٹی کے سربراہ اور راول فاؤنڈیشن کے چیئرمین خاقان وحید خواجہ نے اسلام آباد میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور سائبر سیکیورٹی کے موضوع پر ایک سیمینار سے اہم خطاب کیا۔
  • روایتی تعلیم کی بجائے جدید تعلیمی اصلاحات: خاقان وحید خواجہ نے روایتی تعلیمی نظام کے مقابلے میں جدید عسکری و علمی ٹیکنالوجی کی تعلیم کو اپنی پارٹی کے منشور اور اولین ترجیحات کا حصہ قرار دیا۔
  • سیاسی و سماجی ملاقاتیں: تقریب کے موقع پر وینا حسین، ارشد قاضی اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے چیئرمین عوامی قوت پارٹی سے ملاقات کی؛ نمایاں شخصیات کے اعزاز میں پرُتکلف عشائیہ بھی دیا گیا۔
  • طلبہ کا فکری تحرک: سیمینار کے دوران طلبہ اور ماہرین کے درمیان سوال و جواب کی نشست کا انعقاد ہوا، جس میں جدید ٹیکنالوجی، سائبر خطرات اور مستقبل کے روزگار کے مواقع پر تفصیلی بحث کی گئی۔

اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد اور بنیادی پس منظر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر): وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں راول ایڈیٹوریل کے زیراہتمام آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial Intelligence) اور سائبر سیکیورٹی کے ابھرتے ہوئے رجحانات کے موضوع پر ایک شاندار اور فکر انگیز سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کی صدارت راول جنرل اینڈ ڈینٹل ہسپتال و راول فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور پاکستان عوامی قوت پارٹی کے سربراہ خاقان وحید خواجہ نے کی۔

موجودہ دور میں جہاں دنیا چوتھے صنعتی انقلاب (Fourth Industrial Revolution) سے گزر رہی ہے، وہاں پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ دنیا بھر میں ڈیٹا کی سیکیورٹی، انفارمیشن واریئر شپ اور اے آئی الگورتھمز زندگی کے ہر شعبے کو تبدیل کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں تعلیمی اداروں اور سیاسی و سماجی پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو ان درپیش چیلنجز اور مواقع سے آگاہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

“جدید علوم عام آدمی تک پہنچانا ہمارا مشن ہے” — خاقان وحید خواجہ

سیمینار سے اپنے تفصیلی اور اہم خطاب میں خاقان وحید خواجہ نے اس بات پر شدید زور دیا کہ پاکستان کی مجموعی ترقی کا راز صرف اور صرف جدید ترین سائنسی علوم کو عام شہری کی پہنچ میں لانے میں پنہاں ہے۔

انہوں نے طلبہ و طالبات اور محققین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

“ہم جدید علوم کو عام آدمی تک پہنچانے کی ایک مسلسل جستجو کر رہے ہیں اور اس کارِ خیر میں اپنا عملی حصہ ڈال رہے ہیں۔ آج دنیا جس رفتار سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سائبر سیکیورٹی کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے نونہالوں اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس جدید ٹیکنالوجی کو نہ صرف سیکھیں بلکہ اس میں تخصیص حاصل کریں۔ روایتی ڈگریوں اور پرانے نصاب سے اب آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ آئندہ چند سالوں میں عالمی معیشت اور سیکیورٹی کا انحصار انہی دو بنیادی علوم پر ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عوامی قوت پارٹی اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی تعلیمی و سماجی میدان میں اصلاحات کے لیے کام کر رہی ہے، کیونکہ ملک و قوم کی حقیقی ترقی حکومتوں کی محتاج نہیں بلکہ مسلسل اور ٹھوس عملی اقدامات کی تقاضا کرتی ہے۔

نالج اکانومی اور جدید ٹیکنالوجی کے اشاریے

سیمینار میں ماہرینِ تعلیم اور آئی ٹی ماہرین نے اعداد و شمار کے ذریعے اس بات پر روشنی ڈالی کہ عالمی منڈی میں پاکستان کے لیے اے آئی اور سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں کیا صلاحیتیں موجود ہیں:

  • عالمی سائبر سیکیورٹی کی مارکیٹ: دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی انڈسٹری کا سائز سینکڑوں ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے، جس میں ماہرین کی شدید کمی ہے۔
  • پاکستانی یوتھ اور فری لانسنگ: پاکستان دنیا میں فری لانسنگ کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتا ہے، تاہم رواں دور میں روایت سے ہٹ کر ‘اے آئی بیسڈ سکلز’ سیکھنا ضروری ہے۔
  • جدید نصاب کی ضرورت: ملک کے تعلیمی اداروں میں روایتی نصاب کے بجائے سائبر ڈیفنس، ڈیٹا اینالیٹکس اور روبوٹکس جیسے موضوعات کو فوری طبعی سطح پر شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

سوال و جواب کی نشست اور طلبہ کا جوش و خروش

سیمینار کی ایک سب سے نمایاں خصوصیت طلبہ و طالبات کے ساتھ منعقدہ تعلیمی و فکری سوال و جواب کی نشست تھی۔ اس سیشن میں دارالحکومت کے مختلف ڈگری کالجوں اور یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے طلبہ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے اخلاقی استعمال، روزگار کی منڈی پر اے آئی کے اثرات، اور سائبر حملاوروں سے ملکی ڈیٹا کے تحفظ جیسے بنیادی اہمیت کے سوالات اٹھائے۔

چیئرمین خاقان وحید خواجہ اور مدعو کیے گئے ٹیکنالوجی ماہرین نے طلبہ کے تمام سوالات کے سیر حاصل اور مفصل جوابات دیے، جس سے نوجوانوں میں تکنیکی علوم حاصل کرنے کی تحریک اور بیداری پیدا ہوئی۔

سیاسی و سماجی شخصیات کی ملاقاتیں اور پرُتکلف عشائیہ

سیمینار کے اختتام کے بعد اہم سیاسی، تعلیمی اور سماجی شخصیات کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ چیئرمین پاکستان عوامی قوت پارٹی خاقان وحید خواجہ سے وینا حسین، ارشد قاضی اور دیگر ممتاز سیاسی و سماجی رہنماؤں نے خصوصی ملاقات کی، جس میں ملکی تعلیمی پالیسیوں، روزگار کی فراہمی اور سماجی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر چیئرمین کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد، ماہرینِ تعلیم اور صحافیوں کے اعزاز میں ایک پرتکلف عشائیہ بھی دیا گیا، جہاں شرکاء نے علمی اور تعلیمی ترقی پر گفتگو کو آگے بڑھایا۔

اہم سیاسی و سماجی ملاقاتیںگفتگو کا بنیادی محور
وینا حسین اور دیگر رہنماتعلیمی اصلاحات اور عوامی قوت پارٹی کا منشور
ارشد قاضی و سماجی شخصیاتملک میں جدید علوم کے فروغ کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کا کردار
طلبہ و یونیورسٹی نمائندگانسکالرشپس اور تکنیکی تربیت کی فراہمی

عوامی قوت پارٹی کا تعلیمی منشور اور آئندہ کا لائحہ عمل

خاقان وحید خواجہ نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی روایتی اور یکسر ناکارہ ہو چکے تعلیمی نظام کے بجائے ایک انقلابی جدید تعلیمی نظام (Modern Educational System) کی حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے اپنے منشور اور بیانیے میں جدید تعلیمی اصلاحات کو سرِ فہرست رکھا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ راول فاؤنڈیشن اور عوامی قوت پارٹی آئندہ بھی ایسے تمام سیمینارز، ورکشاپس اور مفت تربیتی کورسز کا انعقاد کرتی رہے گی جو غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کو جدید دنیا کے شانہ بشانہ کھڑا کر سکیں۔

ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی و معروضی جائزہ)

بطور ایک نیوز ایڈیٹر اور سیاسی و تعلیمی تجزیہ نگار، یہ بات کہنا انتہائی بجا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں آدھی سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، روایتی سیاسی بیان بازی سے ہٹ کر ‘آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ اور ‘سائبر سیکیورٹی’ جیسے تعمیری موضوعات پر بات ہونا ایک نہایت خوش آئند عمل ہے۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں اکثر انتخابات اور سیاسی وعدوں پر توجہ دیتی ہیں، مگر تعلیمی اور سائنسی شعور کو عوامی سطح پر اجاگر کرنا حقیقی خدمات کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان عوامی قوت پارٹی اور راول فاؤنڈیشن کی جانب سے جدید علوم کے فروغ اور طلبہ سے براہِ راست رابطے کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے، اور دیگر سیاسی و انتظامی دھاروں کو بھی چاہیے کہ وہ ملک کے مستقبل یعنی نوجوانوں کی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے ایسے تعمیری اقدامات پر توجہ دیں۔