تحریر: سانیہ بتول
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ریش نام کا ایک بچہ رہتا تھا۔ وہ بہت خوش مزاج اور کھیل کود کا شوقین تھا۔ ایک سردیوں کی صبح، گاؤں پر زور دار برف باری ہوئی۔ ہر چیز سفید چادر میں لپٹی ہوئی لگ رہی تھی، درختوں کی شاخیں، گھروں کی چھتیں، اور راستے سب برف سے ڈھک گئے تھے۔
ریش پہلی بار اتنی برف دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ وہ فوراً گھر سے نکلا اور برف میں دوڑنے لگا۔ اس نے برف کے گولے بنائے، برف کے ساتھ لڑائی کی، اور چھوٹے چھوٹے برفیلے قلعے بنائے۔ ہر چیز اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ ریش کا دل خوشی سے بھر گیا۔
کچھ دیر بعد ریش نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا پرندہ برف میں زخمی پڑا ہوا ہے۔ ریش نے فوراً اسے احتیاط سے اٹھایا اور اپنے گھر لے آیا۔ اس نے پرندے کے لئے کچھ اناج اور پانی رکھا اور اسے نرم کپڑے میں لپیٹ دیا تاکہ سردی سے بچ سکے۔
ریش روزانہ پرندے کا خیال رکھتا اور اس کے ساتھ باتیں کرتا۔ کچھ دنوں بعد، پرندہ مکمل طور پر صحتیاب ہو گیا۔ ایک دن ریش نے اسے باہر چھوڑ دیا۔ پرندہ خوشی سے آسمان کی طرف اڑا اور ریش کو اپنے پروں کی سرسراہٹ سے الوداع کہا۔
ریش نے محسوس کیا کہ خوشی صرف کھیلنے میں نہیں بلکہ دوسروں کی مدد کرنے میں بھی ہے۔ اس دن سے ریش نہ صرف برف کے کھیل میں خوش رہتا بلکہ اپنے دوستوں اور جانوروں کی مدد کرنے میں بھی خوشی محسوس کرتا۔
اور یوں برفیلی سردیوں کی یہ کہانی ریش کی محبت، دوستی، اور نیکی کی یادگار بن گئی۔
