Preloader
Brian drain from Pakistan

اہم نکات (خلاصہ)

  • سرکاری اعداد و شمار: قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق سال 2024 سے 2026 کے دوران 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ گئے۔
  • پیشہ ور افراد کی بڑی تعداد: ملک چھوڑ کر جانے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اکاؤنٹنٹس اور اساتذہ جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر پیشہ ور افراد شامل ہیں۔
  • بنیادی وجوہات: معاشی عدم استحکام، مہنگائی، بے روزگاری اور ملک میں بہتر کیریئر کے مواقع کا فقدان اس تشویشناک “برین ڈرین” کی بنیادی وجوہات ہیں۔
  • حکومتی اعتراف: وزیرِ مملکت برائے سمندر پار پاکستانی عون ثقلین نے ایوان کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں پیش کردہ چشم کشا حقائق

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزارتِ سمندر پار پاکستانیز کی جانب سے پیش کی جانے والی سرکاری دستاویزات نے ملک میں جاری معاشی اور تعلیمی بحران کے ایک اور بھیانک رخ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ تین سالوں (2024 سے 2026) کے دوران تقریباً 18 لاکھ 71 ہزار پاکستانی اپنے روشن مستقبل اور بہتر روزگار کے لیے بیرونِ ملک ہجرت کر چکے ہیں۔

وزیرِ مملکت برائے سمندر پار پاکستانی عون ثقلین نے ایوان کو تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ہجرت کرنے والوں میں صرف عام مزدور یا غیر ہنر مند افراد ہی شامل نہیں ہیں، بلکہ اس میں ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ یعنی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہرینِ فن طبقہ بڑی تعداد میں شامل ہے۔ اس رجحان نے ملک کے تعلیمی، طبی اور تکنیکی شعبوں کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔

┌──────────────────────────────────────────────────────────────┐
│        سالانہ بنیادوں پر اعلیٰ تعلیم یافتہ تارکینِ وطن          │
├───────────────────────────────┬──────────────────────────────┤
│ سال 2024                      │ 45,830 افراد                 │
│ سال 2025                      │ 28,726 افراد                 │
│ سال 2026 (اب تک)              │ 15,850 افراد                 │
└───────────────────────────────┴──────────────────────────────┘

شعبہ وار اعداد و شمار: کون کون سا طبقہ ملک چھوڑ رہا ہے؟

دستاویزات کے مطابق ہجرت کرنے والے پیشہ ور افراد کی تفصیلات انتہائی تشویشناک ہیں۔ خاص طور پر صحت، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کا تیزی سے ملک چھوڑنا قومی سطح پر گہری تشویش کا باعث ہے۔

سال 2024 کے اعداد و شمار

  • انجینئرز: صرف 2024 میں 8,015 انجینئرز ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
  • اکاؤنٹنٹس: مالیاتی شعبے کے ماہرین میں سے 4,779 اکاؤنٹنٹس نے بیرونِ ملک راہ لی۔
  • ڈاکٹرز: صحت کے شعبے کے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے 3,625 ڈاکٹرز اس سال بیرونِ ملک منتقل ہوئے۔

سال 2025 سے 2026 کے رجحانات

  • ڈاکٹروں کی ہجرت میں اضافہ: 2025 کے دوران ڈاکٹروں کے بیرونِ ملک جانے کی رفتار میں مزید اضافہ ہوا اور یہ تعداد بڑھ کر 3,795 تک پہنچ گئی۔
  • مجموعی ہنر مند افرادی قوت: آئی ٹی ماہرین، فارماسسٹ، نرسیں اور یونیورسٹی اساتذہ بھی بڑی تعداد میں خلیجی ممالک، یورپ، کاکیوشیا اور شمالی امریکہ کا رخ کر رہے ہیں۔

“برین ڈرین” کا پس منظر اور اس کے محرکات

معاشی اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک سے باصلاحیت افرادی قوت کا یوں باہر جانا ایک اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ برسوں کے معاشی اور پالیسی جاتی بحرانوں کا نتیجہ ہے۔

1. مہنگائی اور معاشی دباؤ

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ اضافے، یوٹیلیٹی بلز کی ہوشربا قیمتوں اور روپے کی قدر میں گراوٹ نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو چکا ہے۔

2. روزگار کے مناسب مواقع کا فقدان

ملک میں صنعتوں کی سست روی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان گریجویٹس کے پاس بیرونی منڈیوں کا رخ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔

3. عدم تحفظ کا احساس

معاشی غیر یقینی صورتحال اور قانون و انصاف کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات نے نوجوان نسل کے دلوں میں ملک کے اندر مستقبل کے حوالے سے مایوسی پیدا کر دی ہے۔

معیشت اور معاشرے پر منفی اثرات

کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے “ہیومن کیپٹل” یا انسانی سرمائے پر ہوتا ہے۔ جب کسی ملک سے ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی ایکسپرٹس اجتماعی طور پر ہجرت کر جائیں، تو اس کے ملک پر دور رس اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں:

  • صحت کے شعبے کا بحران: ملک میں ڈاکٹرز اور نرسوں کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی کمزور صحت کا ڈھانچہ مزید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ عام آدمی کے لیے معیاری طبی سہولتیں حاصل کرنا مزید کٹھن ہوتا جا رہا ہے۔
  • معاشی ترقی کی رفتار میں کمی: تکنیکی ماہرین اور انجینئرز کے باہر جانے سے صنعتی ترقی اور تعمیراتی منصوبے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
  • ترسیلاتِ زر بمقابلہ نقصان: اگرچہ بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی قیمتی زرمبادلہ (ترسیلاتِ زر) ملک میں بھیجتے ہیں، جو معیشت کا ایک بڑا سہارا ہیں، تاہم طویل مدتی بنیادوں پر ملک کا ہنر مند ترین طبقہ کھو دینا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

اس رجحان کو روکنے کے لیے لائحہ عمل

سیاسی اور معاشی مبصرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ اگر اس “برین ڈرین” کے طوفان کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو آنے والے برسوں میں ملک کو شدید پیشہ ورانہ بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات اٹھانا ناگزیر ہیں:

  1. معاشی استحکام اور ملازمتوں کی فراہمی: ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ نجی شعبہ ترقی کرے اور نوجوانوں کے لیے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
  2. پیشہ ور افراد کے لیے مراعات: ڈاکٹرز، انجینئرز اور اساتذہ کو ملک کے اندر باعزت معاوضے اور سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ بیرونِ ملک جانے کو ترجیح نہ دیں۔
  3. تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی بہتری: اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تحقیق اور ترقی (R&D) کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو ملک کے اندر ہی ترقی کے مساوی مواقع ملیں۔

مجموعی طور پر، پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے یہ اعداد و شمار حکومتی پالیسی سازوں کے لیے ایک بیدار کرنے والی گھنٹی (Wake-up Call) ہیں، اور ملک کے قیمتی سرمائے کو باہر جانے سے روکنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔