Preloader
CT scan machine is out of order

رپورٹ: ڈاکٹر توقیر اسلم (گوجرانوالہ)

📌 اہم نکات

  • طبی سہولت کا تعطل: گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال کی واحد جدید سی ٹی سکین مشین گزشتہ 3 ماہ سے مسلسل تکنیکی خرابی کے باعث غیر فعال پڑی ہے، جس کی تاحال مرمت نہیں کروائی جا سکی۔
  • ایمرجنسی مریضوں کی مشقت: روڈ ایکسیڈنٹ، ہیڈ انجمری اور فالج (سٹروک) کے ایمرجنسی مریضوں کو فوری تشخیص میں تاخیر اور نجی لیبارٹریوں کی بھاری فیسوں کی وجہ سے شدید ذہنی و مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
  • مالی بوجھ اور استحصال: ہسپتال میں سہولت ناپید ہونے کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے مریض نجی ریڈیالوجی سینٹرز پر ہزاروں روپے خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جہاں ایک سی ٹی سکین کے 10 سے 18 ہزار روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
  • عوامی تشویش اور مطالبہ: ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کی مجرمانہ غفلت و عدم توجہی پر گوجرانوالہ کی شہری و سماجی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری صحت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

گوجرانوالہ (خصوصی رپورٹ)

صوبہ پنجاب کا تیسرا بڑا صنعتی شہر گوجرانوالہ اور اس کے ملحقہ اضلاع (حافظ آباد، سیالکوٹ، گجرات اور منڈی بہاؤالدین) کے لاکھوں رہائشیوں کے لیے طبی علاج کا مرکزی ذریعہ سمجھا جانے والا “گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال” اس وقت خود شدید انتظامی و تکنیکی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ ہسپتال کی مرکزی اور واحد سی ٹی سکین (CT Scan) مشین گزشتہ تین ماہ سے خراب پڑی ہے، لیکن ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ پرائمری و سیکنڈری / سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کی جانب سے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے اب تک کوئی معقول عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

اس اہم تشخیصی مشین کے بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف روزانہ آنے والے ہزاروں آؤٹ پیشنٹ () بلکہ سب سے زیادہ متاثر ایمرجنسی وارڈ اور ٹراما سینٹر میں لائے جانے والے شدید زخمی اور تشویشناک حالت کے مریض ہو رہے ہیں۔

ایمرجنسی اور ٹراما سینٹر کے مریضوں کی ابتر صورتحال

ایمرجنسی وارڈ میں لائے جانے والے حادثات کے شکار مریضوں (Head Injury Cases) اور دماغی شریان پھٹنے یا فالج کے اٹیک کے شکار افراد کے لیے ابتدائی “گولڈن آورز” (Golden Hours) میں سی ٹی سکین انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کسی بھی دماغی چوٹ یا فالج کی صورت میں پہلے دو سے تین گھنٹوں کے اندر سی ٹی سکین کے ذریعے اندرونی خون کے بہاؤ (Internal Bleeding) یا لوتھڑے کی نشاندہی کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ وقت پر سرجری یا ادویات کا فیصلہ کیا جا سکے۔

تاہم، ہسپتال میں مشین کی خرابی کے باعث ڈاکٹرز مریضوں کو نجی تشخیصی مراکز بھیجنے پر مجبور ہیں:

  1. وقت کا ضیاع: ایمرجنسی کے مریضوں کو ہسپتال سے باہر نجی سینٹرز منتقل کرنے اور رپورٹ واپس لانے میں 2 سے 4 گھنٹے ضائع ہو جاتے ہیں، جو بسا اوقات مریض کی معذوری یا موت کا سبب بنتا ہے۔
  2. سخت تشویشناک حالات: وینٹی لیٹر یا آکسیجن پر موجود تشویشناک حالت کے مریضوں کو ہسپتال کی حدود سے باہر لے جانا ایک رسکی اور جان لیوا عمل بن چکا ہے۔
  3. ایمبولینس کے اخراجات: نجی ایمبولینس سروسز مریض کو نجی لیبز تک لے جانے کے لیے منہ مانگے کرائے وصول کر رہی ہیں۔

نجی لیبارٹریوں کی لوٹ مار اور عام آدمی کا مالی بوجھ

گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال میں جہاں زکوٰۃ، بیت المال اور حکومتی پالیسی کے تحت سی ٹی سکین مفت یا انتہائی معمولی سرکاری فیس (تقریباً 1000 سے 1500 روپے) پر ہوتا تھا، وہیں اب غریب اور سفید پوش خاندان نجی سینٹرز کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں۔

حقائق اور اعداد و شمار کے مطابق معاشی اثرات درج ذیل ہیں:

  • روزانہ کا متاثرہ حجم: گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال میں روزانہ اوسطاً 50 سے 80 مریضوں کو سی ٹی سکین کی ضرورت پیش آتی ہے۔
  • نجی سینٹرز کے ریٹس: نجی لیبارٹریوں میں ایک سادہ برین سی ٹی سکین 10,000 سے 14,000 روپے جبکہ کنٹراسٹ یا اینجیو سی ٹی سکین 18,000 سے 25,000 روپے تک میں کیا جا رہا ہے۔
  • مجموعی مالی بوجھ: گزشتہ 90 دنوں کے دوران مریضوں اور ان کے لواحقین کو نجی شعبے میں کروڑوں روپے کی اضافی رقم جیب سے ادا کرنا پڑی ہے۔

دیہی علاقوں سے آنے والے غریب محنت کش، جو پہلے ہی مہنگائی کے دور میں علاج کے لیے ہسپتال کا رخ کرتے ہیں، اب اپنی جائیداد یا زیورات بیچ کر نجی سینٹرز سے سکین کروانے پر مجبور ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف اور تاخیری حربے

خبر کے غیر جانبدارانہ اور معروضی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جب ہسپتال کے ذرائع اور ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ سے رابط قائم کیا گیا تو معلوم ہوا کہ مشین کے پرزہ جات (کولنگ سسٹم / ایکس رے ٹیوب) کی خرابی اور فنڈز کے اجرا میں تاخیر اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہے۔

انتظامی ذرائع کے مطابق:

  • کمپنی کنٹریکٹ اور فنڈز: مشین کی دیکھ بھال (Maintenance Contract) جس پرائیویٹ بائیو میڈیکل کمپنی کے پاس ہے، اس کو فنڈز کی عدم ادائیگی یا سپیئر پارٹس کی غیر ملکی درآمد میں تاخیر کے باعث مرمتی کام التوا کا شکار ہے۔
  • سرکاری بیوروکریسی: سرکاری سرخ فیتا شاہی (Red Tapism) اور بجٹ کی منظوری کے سست روی پر مبنی عمل نے تین ماہ کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود اس اہم مسئلے کو التوا میں ڈال رکھا ہے۔

اگرچہ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ جلد فنڈز جاری کر کے مشین کو فعال کر دیا جائے گا، لیکن گزشتہ تین ماہ سے جاری یہ طفل تسلیاں شہریوں کے لیے بے سود ثابت ہوئی ہیں۔

عوامی ردِعمل اور حکومتی نوٹس کا مطالبہ

گوجرانوالہ کی سول سوسائٹی، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے مقامی رہنماؤں اور حقوقِ شہریوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس سنگین صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مقامی سیاسی و سماجی رہنماؤں اور مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ جیسے بڑے شہر کے مرکزی ٹیچنگ ہسپتال میں اتنی اہم تشخیصی سہولت کا تین ماہ تک بند رہنا حکومتی و انتظامی نااہلی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے حکومتِ پنجاب اور بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری صحت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:

  1. گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال کی سی ٹی سکین مشین کو ہنگامی بنیادوں (Emergency Basis) پر 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر ٹھیک کروایا جائے۔
  2. 3 ماہ کی اس مجرمانہ تاخیر کے ذمہ دار ہسپتال کے متعلقہ افسران اور بائیو میڈیکل انجینئرنگ ٹیم کے خلاف انکوائری قائم کی جائے۔
  3. جب تک مشین مکمل فعال نہیں ہوتی، ہسپتال انتظامیہ اپنے بجٹ سے نجی سینٹرز کے ساتھ معاہدہ کر کے ایمرجنسی مریضوں کا مفت سی ٹی سکین یقینی بنائے۔

اختتامیہ

صحت انسان کی بنیادی ضرورت اور ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال میں سی ٹی سکین مشین کا 3 ماہ سے بند پڑا ہونا صرف ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ روزانہ سینکڑوں انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اربابِ اختیار کو چاہیے کہ وہ زبانی جمع خرچ کی بجائے فوراً عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ غریب عوام کو ہسپتال کی حدود میں بروقت اور بلا معاوضہ علاج کی سہولت میسر آ سکے۔