Preloader
Deficiency of medicine in GMC hospital

اہم نکات (مختصر خلاصہ)

  • بحران کی شدت: گوجرانوالہ میڈیکل کالج ) ٹیچنگ ہسپتال میں اینٹی بائیوٹکس، درد کش (اینالجیسک) اور وٹامن ڈی تھری سمیت روزمرہ استعمال کی اہم ادویات ختم ہو چکی ہیں۔
  • عوام پر مالی بوجھ: ہسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی کے باعث دور دراز سے آئے غریب مریض نجی میڈیکل سٹورز سے گراں قیمتوں پر دوائیاں خریدنے پر مجبور ہیں۔
  • انتظامی خامیاں: ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کے درمیان رابطے کا فقدان اور فنڈز کی بروقت عدم فراہمی اس بحران کی بنیادی وجہ بتائی جا رہی ہے۔
  • مطالبہ: شہریوں اور عوامی حلقوں نے حکومتِ پنجاب سے نئے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ موجودہ ہسپتالوں کی فعال کارکردگی اور ادویات کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

گوجرانوالہ (رپورٹ: ڈاکٹر توقیر اسلم، نمائندہ خصوصی)

پنجاب کے صنعتی شہر گوجرانوالہ کے سب سے بڑے سرکاری معالجاتی مرکز، گوجرانوالہ میڈیکل کالج (GMC) ٹیچنگ ہسپتال میں ان دنوں ایک بڑا انسانی و طبی بحران جنم لے چکا ہے۔ ہسپتال کی فارمیسی میں جان بچانے والی بنیادی ادویات، اینٹی بائیوٹکس، اینالجیسکس (درد کش ادویات) اور وٹامن ڈی تھری سمیت دیگر ضروری ادویات کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ہسپتال کے شعبہ حادثات (ایمرجنسی) اور شعبہ بیرونی مریضاں (OPD) کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے، بلکہ ہزاروں غریب اور مستحق مریضوں کو سخت ذہنی و مالی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر گوجرانوالہ اور اس کے گرد و نواح کی تحسیلوں، بشمول کامونکی، ناردوال، وزیر آباد اور گجرات سے ہزاروں مریض اس ہسپتال کا رخ کرتے ہیں، لیکن ہسپتال میں علاج کے لیے آنے والے افراد کو ڈاکٹروں کے نسخے (Prescription) ہاتھ میں لیے خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑ رہا ہے۔

موجودہ صورتحال اور مریضوں کی مصائب

ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضاں (OPD) کی فارمیسی کاؤنٹر کے باہر روزانہ لمبی قطاریں نظر آتی ہیں، لیکن کاؤنٹر پر موجود عملہ زیادہ تر مریضوں کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیتا ہے کہ مطلوبہ دوا ہسپتال کے اسٹاک میں موجود نہیں ہے۔

ان ادویات میں خاص طور پر درج ذیل شامل ہیں:

  1. ضروری اینٹی بائیوٹکس: جو مختلف قسم کے انفیکشنز اور جراحی کے بعد مریضوں کو دی جاتی ہیں۔
  2. اینالجیسکس (درد کش دوائیاں): جو شدید درد، حادثات کے زخمیوں اور آپریشن کے بعد انتہائی لازمی ہوتی ہیں۔
  3. وٹامن ڈی تھری اور سپلیمنٹس: جو ہڈیوں کے امراض اور کمزوری کا شکار مریضوں کے لیے تحریر کی جاتی ہیں۔
  4. انسولین اور بلڈ پریشر کی بنیادی ادویات: جن کی باقاعدہ دستیابی اکثر متاثر رہتی ہے۔

ادویات کی اس عدم دستیابی کا سب سے زیادہ اثر ان دیہاڑی دار اور انتہائی غریب خاندانوں پر پڑ رہا ہے جو سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی امید لے کر آتے ہیں۔ ہسپتال سے دوائیاں نہ ملنے پر انہیں مجبوری میں ہسپتال کے باہر واقع نجی میڈیکل سٹورز کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں یہ ادویات اکثر گراں قیمتوں اور بغیر کسی رعایت کے فروخت کی جا رہی ہیں۔

مسئلے کا پس منظر اور انتظامی عدم توجہی

طبی ماہرین اور ہسپتال کے اندرونی ذرائع کے مطابق یہ بحران یکدم پیدا نہیں ہوا بلکہ گزشتہ چند ماہ سے ادویات کی فراہمی کا سلسلہ تعطل کا شکار تھا۔

اس بحران کے پس منظر میں چند اہم عوامل نمایاں ہیں:

  • ٹینڈرنگ کے عمل میں تاخیر: صوبائی سطح اور مقامی ہسپتال انتظامیہ کے درمیان سست رو بیوروکریسی کے باعث سالانہ ادویات کی خرید کے ٹینڈرز بروقت نپٹائے نہیں جا سکے، جس کی وجہ سے سپلائرز نے ادویات کی فراہمی روک دی۔
  • بجٹ اور فنڈز کی قلت: جاری کردہ بجٹ کے استعمال اور فنڈز کے وقت پر جاری نہ ہونے سے دوا ساز کمپنیوں کے بقایا جات واجب الادا ہیں، جس کے باعث فراہمی میں تعطل آیا۔
  • مقامی انتظامیہ کا فقدانِ صلاحیت: ہسپتال میں ادویات کا لائیو انوینٹری سسٹم (Live Inventory System) فعال نہ ہونے کے باعث اس بات کا پیشگی اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ کون سی ادویات کس مقدار میں ختم ہونے والی ہیں۔

عوام اور طبی حلقوں کے شدید تحفظات

GMC ٹیچنگ ہسپتال میں پیدا ہونے والی اس صورتحال پر شہری تنظیموں، مریضوں کے لواحقین اور خود ہسپتال کے طبی عملے نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ “ہم مریض کو نسخہ لکھ کر دیتے ہیں، لیکن جب وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس باہر سے دوا خریدنے کے پیسے نہیں ہیں، تو بحیثیت معالج ہماری حالت انتہائی قابلِ رحم ہو جاتی ہے۔ دوا کے بغیر علاج ادھورا رہتا ہے، جس سے مریض کی حالت بگڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔”

اسی طرح ہسپتال میں اپنے بچے کا علاج کروانے کے لیے آنے والے ایک مقامی شہری نے بتایا:

“ہم سرکاری ہسپتال اس لیے آتے ہیں کہ یہاں علاج مفت ہوتا ہے۔ اگر ہمیں تمام ادویات نجی میڈیکل سٹورز سے ہزاروں روپے میں خریدنی ہیں، تو پھر سرکاری ہسپتال کی عمارت اور اتنے بڑے عملے کا غریب عوام کو کیا فائدہ؟”

حکومتِ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے فوری مطالبات

موجودہ صوبائی حکومت جہاں صحت کے شعبے میں نئے اصلاحاتی پروگراموں اور ہسپتالوں کی تعمیر و تزئینِ نو (Revamping) کے دعوے کر رہی ہے، وہیں زمینی حقائق یہ تقاضا کرتے ہیں کہ موجودہ اور فعال ہسپتالوں کی بنیادی ضروریات پر فوری اور ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جائے۔

عوامی و طبی حلقوں نے حکومتِ پنجاب اور محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سے درج ذیل اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے:

  • ادویات کا فوری ہنگامی کوٹہ: گوجرانوالہ GMC ٹیچنگ ہسپتال کے لیے اینٹی بائیوٹکس، اینالجیسکس اور وٹامن ڈی تھری سمیت تمام ضروری ادویات کی فوری ہنگامی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
  • ادویات کی تقسیم کا شفاف نظام: ہسپتال کے اندر فارمیسی کے نظام میں شفافیت لائی جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حکومت کی طرف سے بھیجی گئی ادویات مستحق مریضوں تک ہی پہنچ رہی ہیں۔
  • انتظامیہ کا احتساب: ادویات کا اسٹاک ختم ہونے کے ذمہ دار ہسپتال کے انتظامی افسران کی غفلت کی تحقیقات کی جائیں اور ٹینڈرنگ کے عمل کو تیز کیا جائے۔
  • موجودہ ہسپتالوں کی بہتری پر توجہ: حکومت نئے منصوبوں اور عمارتوں کے اعلانات کے ساتھ ساتھ موجودہ فعال ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی، بنیادی سہولیات کی دیکھ بھال اور ہسپتال انتظامیہ کی روزمرہ کی کارکردگی کی نگرانی کا مضبوط مکینزم تشکیل دے۔

اگر حکومت پنجاب نے اس معاملے پر فوراً نوٹس نہ لیا تو خدشہ ہے کہ یہ بحران مزید سنگین صورتحال اختیار کر جائے گا، جس کا براہِ راست خمیازہ گوجرانوالہ اور گرد و نواح کی غریب اور نادار عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

رپورٹ: ڈاکٹر توقیر اسلم، نمائندہ خصوصی گوجرانوالہ