برسلز / پیرس (نیوز ڈیسک): یورپی یونین کے ادارہ شماریات ‘یوروسٹیٹ’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سال 2024 اور 2025 کے دوران یورپی یونین کی شہریت حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صرف ایک سال میں تقریباً 1.2 ملین (12 لاکھ) افراد نے یورپی یونین کے مختلف ممالک کے پاسپورٹ حاصل کیے، جو کہ گزشتہ دہائی کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ ہے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!شہریت دینے والے صفِ اول کے ممالک
اعداد و شمار کے مطابق، تین یورپی ممالک ایسے ہیں جہاں سب سے زیادہ غیر ملکیوں کو شہریت دی گئی:
- جرمنی: فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، جس نے تقریباً 288,700 افراد کو پاسپورٹ جاری کیے۔ یہ یورپی یونین میں دی جانے والی کل شہریتوں کا تقریباً 24.5 فیصد ہے۔
- اسپین: دوسرے نمبر پر اسپین رہا، جہاں 252,500 افراد کو شہری حقوق دیے گئے۔
- اٹلی: اٹلی نے 217,400 غیر ملکیوں کو اپنا شہری بنایا اور فہرست میں تیسرے نمبر پر رہا۔
ان تینوں ممالک نے مل کر یورپی یونین کی کل شہریتوں کا تقریباً 64 فیصد حصہ جاری کیا۔
کون سے ممالک کے باشندوں نے بازی ماری؟
یورپی پاسپورٹ حاصل کرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق یورپی یونین سے باہر کے ممالک (Non-EU) سے ہے:
- شامی باشندے: 110,100 شہریتوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے۔
- مراکشی باشندے: 97,100 افراد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
- البانوی باشندے: 48,000 افراد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔رپورٹ کے مطابق، شہریت حاصل کرنے والوں میں 88 فیصد افراد غیر یورپی ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔
نیچرلائزیشن ریٹ: سویڈن سب سے آگے
شہریت دینے کی شرح (Naturalisation Rate) کے لحاظ سے سویڈن یورپی یونین میں سرفہرست ہے، جہاں ہر 100 غیر ملکی رہائشیوں میں سے 7.5 افراد کو شہریت دی گئی۔ اس کے بعد اٹلی (4.1) اور ہالینڈ (3.9) کا نمبر آتا ہے۔ دوسری جانب، لیتھوانیا، بلغاریہ اور ایسٹونیا وہ ممالک ہیں جہاں شہریت دینے کی شرح سب سے کم رہی۔
شہریت میں اضافے کی وجوہات
ماہرین کے مطابق، شہریت کے حصول میں اس بڑے اضافے کی چند اہم وجوہات ہیں:
- قوانین میں نرمی: جرمنی جیسے ممالک نے اپنے شہریت کے قوانین میں تاریخی تبدیلیاں کیں تاکہ ماہر افرادی قوت (Skilled Labor) کو ملک میں روکا جا سکے۔
- طویل قیام: 2015-16 کے دوران یورپ آنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد اب قیام کی لازمی مدت پوری کر چکی ہے، جس کی وجہ سے وہ اب شہریت کے اہل ہو گئے ہیں۔
- معاشی استحکام: یورپی یونین کا پاسپورٹ نہ صرف رہائشی بلکہ سفر اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے، جو غیر ملکیوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔
خلاصہ: یورو نیوز کی یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ یورپی یونین اپنی گرتی ہوئی آبادی اور افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اب غیر ملکیوں کو تیزی سے اپنے معاشرے کا حصہ بنا رہا ہے۔ جرمنی اور اسپین جیسے ممالک اس وقت تارکینِ وطن کے لیے “امید کی کرن” بنے ہوئے ہیں۔

