اہم نکات (خلاصہ) سروس رولز میں اصلاحات: خیبرپختونخوا کے محکمہ جیل خانہ جات میں ملازمین کی ترقی اور کیریئر پروگریشن کے لیے موجودہ سروس رولز میں جامع ترامیم کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ فاسٹ ٹریک پروموشن کا نفاذ: وارڈر (BPS-07) سے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل (BPS-16) تک میرٹ اور اہلیت پر مبنی فاسٹ ٹریک پروموشن کا شفاف نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ امتحانی عمل کی شفافیت: ایٹا (ETEA) اور خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مسابقتی امتحانات اور مناسب کوٹے کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ محکمہ داخلہ کو مسودہ کی ارسال: آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک نے تمام ترامیم کا مسودہ بلا تاخیر محکمہ داخلہ کو بھیجنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ پشاور (انورزیب خان / خصوصیات / خصوصی رپورٹ): خیبر پختونخوا کے محکمہ جیل خانہ جات نے اپنے ملازمین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے، ان کے کیریئر کی بہتری اور محکمے میں میرٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک انتہائی اہم اور سنگ میل پیش رفت کی ہے۔ انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات خیبر پختونخوا، جناب ریحان گل خٹک کی صدارت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی محکماتی کمیٹی کے اجلاس میں سروس رولز (خدماتی قوانین) میں بنیادی ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کا مقصد جیل وارڈرز سے لے کر اعلیٰ افسران تک کی ترقی کے عمل کو شفاف، تیز رفتار اور جدید بنانا ہے۔ اس تحریکی قدم سے محکمہ جیل خانہ جات میں برسوں سے درپیش سست رو ترقیاتی عمل اور ملازمین کی عدم اطمینان کا خاتمہ ہو سکے گا، جبکہ تعلیم یافتہ اور محنتی اہلکاروں کو آگے بڑھنے کے مساوی اور بہترین مواقع میسر آئیں گے۔ اصلاحات کی ضرورت اور تاریخی پس منظر محکمہ جیل خانہ جات کسی بھی پولیس یا عدالتی نظام کا ایک انتہائی حساس اور بنیادی جزو ہوتا ہے۔ اصلاحی مراکز کے طور پر کام کرنے والے ان اداروں میں تعینات اہلکار شب و روز انتہائی سخت حالات میں فرائض انجام دیتے ہیں۔ تاہم، ماضی میں خیبرپختونخوا کے جیل عملے خصوصاً گریڈ 7 کے وارڈرز کو ترقی اور کیریئر پروگریشن کے حوالے سے کئی گونا دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ روایتی نظام کے تحت ایک عام وارڈر کو نچلے گریڈ سے اوپر کے گریڈز (مثلاً اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ یا سپرنٹنڈنٹ) تک پہنچنے میں دہائیاں لگ جاتی تھیں، جس کی وجہ سے نہ صرف ملازمین کی حوصلہ شکنی ہوتی تھی بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے اس شعبے میں ترقی کے مواقع نا ہونے کے برابر تھے۔ اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالنے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سروس سٹرکچر بنانے کے لیے آئی جی ریحان گل خٹک نے محکماتی کمیٹی تشکیل دی جس نے موجودہ ضوابط کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اجلاس کا احوال اور اہم فیصلوں کی تفاصیل آئی جی جیل خانہ جات کی زیرِ صدارت انعقاد پذیر ہونے والے اس اہم اجلاس میں محکمے کے تمام اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ملازمین کی پروموشن پالیسی کو زیادہ منصفانہ اور پائیدار بنانے پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اجلاس کے شرکاء اس اعلیٰ سطحی بیٹھک میں درج ذیل سینیئر افسران نے شرکت کی اور اپنی تجاویز پیش کیں: محترمہ نیلم سلطانہ خٹک – ڈی آئی جی (ہیڈکوارٹرز) جناب امین شعیب – ڈی آئی جی جناب بیت اللّٰہ خان – ڈی آئی جی پشاور ریجن جناب بخت روان صاحب – ڈی آئی جی سوات ریجن دیگر محکماتی و قانونی ماہرین اور سینیئر افسران اجلاس کے دوران خاص طور پر وارڈر (BPS-07) سے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل (BPS-16) کے عہدے تک کیریئر کی ترقی کے مختلف مراحل پر غور کیا گیا۔ تمام حاضرین نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ صرف سینارٹی (قدامت) ہی ترقی کا واحد معیار نہیں ہونا چاہیے بلکہ تعلیم، کارکردگی اور مسابقتی امتحانات کو بھی بنیادی شرط بنایا جائے۔ سروس رولز میں مجوزہ ترامیم کے نمایاں خصوصیات کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ اصلاحاتی مسودے میں کئی ایسی پیش رفت شامل کی گئی ہیں جو محکمے کے ڈھانچے کو یکسر بدل کر رکھ دیں گی۔ شعبہ / گاممجوزہ اصلاحات کی تفاصیلترقی کا دائرہ کاروارڈر (BPS-07) سے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل (BPS-16) تک ترقی کا واضح اور جامع طریقہ کارامتحانی ادارہتعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی منصفانہ جانچ کے لیے ایٹا (ETEA) اور خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ٹیسٹنگفاسٹ ٹریک پروموشنباصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمین کو کم وقت میں بہتر گریڈز حاصل کرنے کا نظامکوٹہ کا تعینبراہِ راست بھرتی اور محکماتی ترقی کے درمیان متوازن اور منصفانہ کوٹہ کی تجویزشفافیت کی ضمانتسفارش اور اقربا پروری کا خاتمہ، محض میرٹ اور بہترین پیشہ ورانہ ریکارڈ کی بنیاد فاسٹ ٹریک پروموشن اور میرٹ کا اثر: اصلاحات کے متوقع فوائد سروس رولز میں ان جدید ترامیم کا اثر صرف ڈیوٹی سٹرکچر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے پورے نظام پر مثبت اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ 1. تعلیم یافتہ فورس کی حوصلہ افزائی موجودہ دور میں محکمہ جیل خانہ جات میں کئی ایسے اہلکار بطور وارڈر خدمات انجام دے رہے ہیں جو بی اے، ایم اے یا دیگر اعلیٰ ڈگریوں کے حامل ہیں۔ سروس رولز میں ترمیم اور ایٹا/پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کے شامل ہونے سے یہ تعلیم یافتہ جوان اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تیزی سے ترقی کر کے افسرانہ کیڈر میں شامل ہو سکیں گے۔ 2. محکماتی کارکردگی میں بہتری جب ملازمین کو معلوم ہو گا کہ ان کی محنت، دیانت داری اور اہلیت کا صلہ تیز رفتار ترقی کی صورت میں ملے گا، تو محکمے کی مجموعی کارکردگی میں خود بخود نمایاں بہتری آئے گی۔ جیلوں کے اندر نظم و ضبط اور قیدیوں کی اصلاح و بحالی کا عمل بھی زیادہ مؤثر ہو جائے گا۔ 3. سست روی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا خاتمہ فاسٹ ٹریک پروموشن کے نفاذ سے محکمے کا بیوروکریٹک جمود ٹوٹے گا اور اہلیت پر مبنی مقابلہ جاتی فضا قائم ہو گی، جس سے فورس کے مورال میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ انسپکٹر جنرل کی فوری ہدایات اور اگلا لائحہ عمل اجلاس کے اختتام پر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، جناب ریحان گل خٹک نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ سروس رولز میں ترامیم کا تمام مسودہ اور سفارشات بلا تاخیر اور ہنگامی بنیادوں پر محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کو ارسال کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سروس رولز کی منظوری کے مراحل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ باصلاحیت اور قابل جیل وارڈرز کے لیے کیریئر کی ترقی کی نئی راہیں بنا کسی تاخیر کے ہموار ہو سکیں۔ ایڈیٹوریل تجزیہ: گڈ گورننس اور ادارے کی مضبوطی کی جانب اہم قدم خیبر پختونخوا کے محکمہ جیل خانہ جات میں اصلاحات کا یہ اقدام بلا شبہ انتظامی بہتری اور گڈ گورننس کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ سیکیورٹی اور اصلاحی اداروں کی کارکردگی کا براہِ راست تعلق وہاں کام کرنے والے اہلکاروں کی ذہنی آسودگی اور ان کے مستقبل کی تحفظ سے ہوتا ہے۔ سروس رولز میں ان ترامیم سے نہ صرف نچلی سطح کے اہلکاروں میں پایا جانے والا احساسِ محرومی ختم ہو گا بلکہ خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن اور ایٹا جیسے شفاف اداروں کو شامل کر کے سفارش کلچر کا باب بھی ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ اب یہ محکمہ داخلہ اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسودے کی منظوری کی راہ میں حائل کاغذی کارروائی کو تیزی سے نمٹائیں تاکہ ان اصلاحات کے نتائج جلد از جلد ملازمین اور محکمے تک پہنچ سکیں۔ Post navigation خیبرپختونخوا محکمہ ہاؤسنگ میں اربوں روپے کا نیا سکینڈل: صوبائی وزیر اور اعلیٰ افسران نیب کے ریڈار پر ہری پور: عدالتی حکم پر خاتون کی بازیابی کے لیے جانے والی ٹیم پر فائرنگ، لیڈی کانسٹیبل گولی لگنے سے شدید زخمی