نئی دہلی/پیرس (نیوز ڈیسک): عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے سب سے اہم راستے، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت اور فرانس نے ایک بڑے دفاعی اور تزویراتی تعاون کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس کلیدی سمندری راستے کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!مذاکرات کا محور: بحری سلامتی اور عالمی تجارت
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارتی وزارتِ دفاع اور فرانسیسی حکام کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں میں بحرِ ہند اور خلیجی خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
- مشترکہ گشت: دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز اور ملحقہ بحری راستوں پر مشترکہ نگرانی اور بحری گشت (Joint Patrols) کے امکانات پر غور کیا۔
- انٹیلیجنس شیئرنگ: سمندری قزاقی، دہشت گردی اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان انٹیلیجنس کے تبادلے کو مزید تیز کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور بھارت کے مفادات
بھارت کے لیے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، کیونکہ:
- توانائی کی ترسیل: بھارت کی خام تیل اور گیس کی درآمدات کا ایک بہت بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
- معاشی استحکام: اس راستے میں کسی بھی قسم کی بندش یا حملے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر بھارتی معیشت پر پڑتا ہے۔
- سیاسی اثر و رسوخ: فرانس کے ساتھ مل کر کام کرنے سے بھارت کو اس خطے میں ایک “سیکیورٹی فراہم کرنے والے” ملک (Net Security Provider) کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں مدد ملے گی۔
بھارت اور فرانس کے تزویراتی تعلقات
فرانس، بھارت کا ایک دیرینہ اور قابلِ اعتماد دفاعی پارٹنر ہے۔ رافیل طیاروں اور اسکارپین کلاس آبدوزوں کے بعد، اب بحری تعاون اس شراکت داری کا اگلا بڑا سنگِ میل ہے۔
- انڈو پیسیفک وژن: دونوں ممالک ایک “آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک” (Free and Open Indo-Pacific) کے وژن پر متفق ہیں، جہاں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے۔
- ٹیکنالوجی کا تبادلہ: فرانس نے بحری نگرانی کے لیے جدید ریڈار سسٹم اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں بھارت کی مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
علاقائی صورتحال اور چیلنجز
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور فرانس کا یہ قدم مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کے پس منظر میں انتہائی اہم ہے۔ اگرچہ یہ تعاون کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، تاہم اس کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
خلاصہ: بھارت اور فرانس کا یہ مشترکہ مشن ظاہر کرتا ہے کہ اب نئی دہلی عالمی سمندری حدود میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
