Preloader
Governor statement on mines and minerals

اہم نکات (خلاصہ)

  • سرمایہ کاری کی دعوت: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے عالمی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو صوبے کے وسیع اور غیر دریافت شدہ معدنی ذخائر میں سرمایہ کاری کرنے کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔
  • بنیادی موقف: گورنر کا کہنا تھا کہ معدنیات کا مقصد زمین کے نیچے پڑا رہنا نہیں بلکہ انہیں نکال کر ملکی و صوبائی معیشت کی بحالی کے لیے استعمال کرنا ہے۔
  • معاشی و انتظامی اصلاحات: صوبے میں معدنیات کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، شفافیت اور سرمایہ کاروں کے لیے یکساں اور محفوظ ماحول کی فراہمی پر زور دیا گیا۔
  • علاقائی اثرات: غیر ملکی سرمایہ کاری سے خیبرپختونخوا بالخصوص ضم شدہ قبائلی اضلاع میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی معیشت کو تقویت ملے گی۔

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا کا بیان اور سرمایہ کاری کا لائحہ عمل

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں معاشی استحکام اور قدرتی وسائل سے مؤثر استفادہ حاصل کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح اور دوٹوک موقف اپنایا ہے کہ “معدنیات نکالنے کے لیے ہوتے ہیں”، اور ان قدرتی ذخائر کا حقیقی فائدہ صرف اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب جدید ٹیکنالوجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ان کی سائنسی بنیادوں پر کھدائی کی جائے۔

پشاور میں ایک تقریب کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا کا رخ کریں، جہاں کی زمین قیمتی معدنیات اور نایاب پتھروں سے مالا مال ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی و وفاقی سطح پر سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔

┌──────────────────────────────────────────────────────────────┐
│            خیبرپختونخوا معدنی شعبہ: ایک نظر میں             │
├───────────────────────────────┬──────────────────────────────┤
│ اہم معدنیات                   │ سنگِ مرمر، گرینائٹ، تانبا، سونا │
│ دیگر اہم وسائل                 │ قیمتی پتھر، کرومائٹ، کوئلہ    │
│ ہدف                           │ غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ  │
│ بنیادی ترجیح                  │ مقامي روزگار اور معاشی ترقی  │
└───────────────────────────────┴──────────────────────────────┘

خیبرپختونخوا میں معدنی ذخائر کا پس منظر اور صلاحیت

خیبرپختونخوا تاریخی طور پر قدرتی ذخائر اور نایاب معدنیات سے مالا مال خطہ رہا ہے۔ ملاکنڈ، ہزارہ، اور خاص طور پر سابق فاٹا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع (مثلاً مہمند، باجوڑ، وزیرستان اور خیبر) میں غیر معمولی معدنی ثروت پائی جاتی ہے۔

1. قیمتی اور صنعتی معدنیات

صوبے میں درج ذیل اہم معدنیات کے بے شمار اور نایاب ذخائر موجود ہیں:

  • سنگِ مرمر (Marble) اور گرینائٹ: دنیا کے بہترین معیار کا سنگِ مرمر مہمند، مردان اور چترال کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
  • قیمتی پتھر (Gemstones): سوات اور چترال زمرد (Emerald)، یاقوت (Ruby) اور ٹوپاز (Topaz) کا اہم مرکز ہیں۔
  • صنعتی دھاتیں: تانبا (Copper)، سونا (Gold)، کرومائٹ (Chromite)، اور سرفہرست جپسم اور کوئلہ بھی بڑی مقدار میں موجود ہیں۔

2. روایتی طریقوں سے تکنیکی جدت کی طرف سفر

ماضی میں ان معدنیات کو خام اور روایتی دھماکہ خیز طریقوں سے نکالا جاتا تھا، جس سے نہ صرف 50 فیصد سے زائد قیمتی پتھر ضائع ہو جاتے تھے بلکہ ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچتا تھا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دعوت کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ جدید بین الاقوامی مشینری اور ویسٹ مینجمنٹ ٹیکنالوجی کو صوبے میں لایا جا سکے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری اور ایس آئی ایف سی (SIFC) کا کردار

پاکستان میں اس وقت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (Special Investment Facilitation Council – SIFC) کے تحت ملکی معیشت کی بحالی کے لیے مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا جا رہا ہے۔ معدنیات (Mining Sector) ایس آئی ایف سی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نشاندہی کی کہ وفاق اور صوبہ مل کر تمام قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ عالمی کمپنیوں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے آسانیاں فراہم کی جا سکیں۔

  • سرمایہ کاروں کے لیے تحفظ: غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل سیکیورٹی اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
  • شفافیت کی ضمانت: لیزنگ اور لائسنسنگ کے نظام میں جدید ڈجیٹل شفافیت لائی جا رہی ہے تاکہ شفاف مسابقت کو فروغ ملے۔

مقامی معیشت اور معاشرے پر مثبت اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر غیر ملکی کمپنیاں خیبرپختونخوا کے مائننگ سیکٹر میں پیش رفت کرتی ہیں، تو اس کے صوبے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے:

  1. روزگار کے مواقع: ہزاروں مقامی نوجوانوں کو تکنیکی اور غیر تکنیکی ملازمتیں میسر آئیں گی، جس سے بے روزگاری میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
  2. انفراسٹرکچر کی ترقی: کان کنی والے دور دراز علاقوں میں سڑکوں، بجلی، پانی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے میں خود بخود بہتری آئے گی۔
  3. زرمبادلہ میں اضافہ: ملکی سطح پر خام مال برآمد کرنے کے بجائے جب باقاعدہ فائنل پراڈکٹس اور تیار شدہ پتھر برآمد کیے جائیں گے تو ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
  4. قبائلی اضلاع میں امن اور بحالی: ضم شدہ اضلاع میں معاشی سرگرمیوں کے آغاز سے پائیدار امن کے قیام میں بڑی مدد ملے گی۔

ایڈیٹوریل نوٹ اور آئندہ کے امکانات

گورنر خیبرپختونخوا کا یہ بیدار مغز اور جرات مندانہ بیان صوبے کی معاشی تقدیر بدلنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ تاہم، اس دعوت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومت، سیکیورٹی ادارے اور وفاقی حکام مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں۔

سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پائیدار امن و امان، جامع ٹیکس پالیسی اور یکساں مواقع کی فراہمی سب سے اہم شرط ہوگی۔ اگر ان پہلوؤں پر کامیابی سے عمل درآمد کیا گیا تو خیبرپختونخوا کا معدنی شعبہ نہ صرف صوبے کی مالیاتی خودانحصاری کی ضمانت بنے گا بلکہ پاکستان کی قومی معیشت میں بھی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا۔