خلاصہ (اہم نکات) ہنگامی اقدام: پشاور میں سکول کی عمارت کی چھت گرنے سے بچوں اور اساتذہ کے جاں بحق ہونے کے المناک سانحے کے بعد حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبے بھر کے تمام سرکاری سکولوں کی عمارتوں کی ہنگامی انسپکشن کا فیصلہ کیا ہے۔ ہزارہ میں کمیٹیوں کی تشکیل: ہزارہ ڈویژن کے تمام آٹھ اضلاع بشمول ایبٹ آباد، مانسہرہ، اور ہری پور میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور ڈپٹی کمشنرز کی ہدایت پر خصوصی معائنہ کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔ تین دن کی مہلت: ایبٹ آباد میں ضلعی افسرِ تعلیم (میل) کی جانب سے 17 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے تحت تمام سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسرز کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو 3 دن کے اندر مکمل معائنہ کر کے رپورٹ جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے۔ محفوظ تعلیمی ماحول: اس معائنے کا بنیادی مقصد پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کی خطرناک و بوسیدہ عمارتوں کی نشاندہی، مرمت اور طلبہ و اساتذہ کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ پشاور سانحہ اور انسپکشن کا پس منظر پشاور / ایبٹ آباد (خصوصی رپورٹ): خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پیش آنے والے دلخراش واقعے، جس میں ایک سرکاری سکول کی بوسیدہ چھت زمین بوس ہونے کے نتیجے میں متعدد معصوم بچے اور اساتذہ ہلاک و زخمی ہوئے، کے بعد صوبائی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم میں گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس دلدوز حادثے نے صوبے کے سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی ساخت، ان کی دیکھ بھال اور تعمیراتی معیار پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومتِ خیبر پختونخوا نے فوری طور پر پیش بندی کرتے ہوئے صوبے کے تمام سرکاری سکولوں کی عمارتوں کا تکنیکی اور ساخت کاری معائنہ (تھرو انسپکشن) کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور تعلیمی اداروں کو بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنایا جا سکے۔ ہزارہ ڈویژن اور ایبٹ آباد میں باضابطہ احکامات کا اجرا صوبائی حکومت کی ہدایت پر ہزارہ ڈویژن کے تمام آٹھ اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز نے محکمہ تعلیم کے افسران اور سکول سربراہان کو ہنگامی بنیادوں پر تحریری مراسلے جاری کر دیے ہیں۔ اس سلسے میں ایبٹ آباد کے دفترِ ضلعی افسرِ تعلیم (میل) نے 17 اکتوبر 2026 کو ایک اہم نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کے 16 اکتوبر 2026 کے مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع کے جملہ سرکاری پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کی عمارتوں کا مقررہ انسپکشن فارم کے تحت فوری معائنہ کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سکولوں کی موجودہ تعمیری صورتحال، چھتوں، دیواروں، نکاسیِ آب کے نظام اور زلزلے سے متاثرہ حصوں کی درست معلومات مرتب کی جائیں گی تاکہ خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کا بر وقت حل نکالا جا سکے۔ معائنہ کمیٹیوں کی ساخت اور طریقہ کار سکولوں کے شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ کے لیے ہر سب ڈویژن کی سطح پر جامع کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن کا ڈھانچہ درج ذیل ہے: چیئرمین کمیٹی: متعلقہ سب ڈویژنل ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (SDEO)۔ ارکان کمیٹی: متعلقہ سرکل کے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ADEO)۔ کلسٹر کے متعلقہ سکول لیڈر۔ متعلقہ سکول کے پرنسپل، ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ ٹیچر۔ اضافی ارکان: ضرورت پڑنے پر کمیٹی کسی تکنیکی ماہر یا مواصلات و تعمیرات (C&W) کے انجینئر کو بھی شامل کر سکتی ہے۔ کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے کے تمام سکولوں کا موقع پر جا کر دورہ کرے اور طے شدہ انسپکشن فارم پر تمام ارکان کے اصل دستخطوں کے ساتھ 3 دن کے اندر اندر رپورٹ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کو پیش کرے۔ خیبر پختونخوا میں سکولوں کی عمارتوں کا موجودہ جائزہ اور اعداد و شمار خیبر پختونخوا بالخصوص ہزارہ ڈویژن کے پہاڑی اضلاع میں تعلیمی اداروں کو قدرتی آفات اور موسمی اثرات کا زیادہ سامنا رہتا ہے۔ 2005 کے شدید زلزلے کے بعد بننے والی عمارتوں اور پرانی روایتی عمارتوں کے تحفظ کے حوالے سے انتظامی اعداد و شمار اہم نوعیت کے حامل ہیں: حالتِ زار: صوبے کے کئی اضلاع میں دہائیوں پرانی سکول کی عمارتیں بارشوں، سیلابوں اور زلزلوں کے باعث خستہ حال ہو چکی ہیں۔ انسپکشن کا دائرہ کار: ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، بٹگرام، تورغر، اپر و لوئر کوہستان اور کولئی پاسپال کے تمام سرکاری سکول اس مہم میں شامل ہیں۔ ترجیحی فہرست: معائنے کے بعد جن سکولوں کی عمارتوں کو “خطرناک” (Dangerous/Unsafe) قرار دیا جائے گا، انہیں فوری طور پر خالی کروا کر بچوں کو متبادل جگہوں پر منتقل کیا جائے گا۔ عملی اقدامات، چیلنجز اور متوقع اثرات اگرچہ محکمہ تعلیم کا 3 دن کے اندر تمام سرکاری سکولوں کا معائنہ مکمل کرنے کا حکم ایک خوش آئند اقدام ہے، تاہم اس پر مکمل اور شفاف انداز میں عمل درآمد کروانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہزارہ ڈویژن کے دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں واقع سکولوں تک اتنی مختصر مدت میں پہنچنا کمیٹیوں کے لیے کڑا امتحان ہوگا۔ مرحلہدرپیش چیلنجمجوزہ حل و اثراتڈیٹا اکٹھا کرنا3 دن کی مختصر مدت اور دور دراز علاقوں تک رسائیمقامی سکول لیڈرز اور ہیڈ ٹیچرز کا متحرک کردارتکنیکی جانچانجینئرنگ کے ماہرین کی عدم دستیابیمواصلات و تعمیرات (C&W) کے عملے کو فوری شامل کرنافنڈز کی فراہمیرپورٹس کی روشنی میں فوری ترمیم و بحالیصوبائی بجٹ سے ہنگامی ایمرجنسی فنڈز کا اجرا اگر انسپکشن رپورٹس کو محض دفتری کاغذات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ حاصل شدہ نتائج کی بنیاد پر فوری طور پر فنڈز جاری کر کے بوسیدہ عمارتوں کی تعمیرِ نو اور مرمت کی جائے تو اس سے صوبے میں ہزاروں بچوں اور اساتذہ کی جانیں محفوظ ہو سکیں گی۔ ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی و معروضی جائزہ) بطور ایک نیوز ایڈیٹر اور صحافی، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پشاور کا سانحہ ایک انتہائی دردناک اور آنکھیں کھولنے والا واقعہ تھا جس نے ریاست کی سستی اور غفلت کو بے نقاب کیا۔ حکومت خیبر پختونخوا اور محکمہ تعلیم کی جانب سے سکولوں کی عمارتوں کی ہنگامی انسپکشن کا نوٹیفکیشن جاری کرنا بلاشبہ ایک درست سمت میں قدم ہے۔ تاہم، ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے واقعات کے بعد کمیٹیاں تشکیل تو دے دی جاتی ہیں لیکن ان کی رپورٹس کی روشنی میں عملی اقدامات تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ 3 دن کے اندر موصول ہونے والی رپورٹس پر بغیر کسی تاخیر کے عمل درآمد کیا جائے، خطرناک عمارتوں کے فوری متبادل کا انتظام کیا جائے اور مرمتی کام کے لیے بجٹ فراہم کیا جائے تاکہ آئندہ پھر کسی معصوم کی جان سکول کی گرتی چھتوں کی نذر نہ ہو۔ Post navigation ہری پور: نوتعینات ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے اعزاز میں پروقار تقریب، اسکاؤٹنگ اور تعلیمی فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ