اہم نکات (خلاصہ) ناگہانی معائنہ اور فوری کارروائی: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے پروونشل ہیڈکوارٹر (پی ایچ کیو) ہسپتال گلگت کا اچانک دورہ کر کے لیبر بلاک میں بدانتظامی، عملے کی غیر حاضری اور روسٹر کی عدم دستیابی پر ایم ایس اور ایچ او ڈی کو معطل کر دیا۔ لیبارٹری اور سٹور پر ایکشن: ہسپتال کی لیبارٹری میں ضروری ٹیسٹوں کی عدم دستیابی اور ادویات سے متعلق عوامی شکایات پر سٹور انچارج کو بھی فوری طور پر عہدے سے معطل کرنے کے احکامات دیے گئے۔ غیر معیاری آلات پر قانونی کارروائی: ہسپتال میں ناکارہ اور غیر معیاری ڈینٹل مشین فراہم کرنے پر متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کی ہدایت کی گئی۔ عوامی ردِعمل اور امید: ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں اور عام شہریوں نے وزیراعلیٰ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس قسم کے سرپرائز دوروں سے سرکاری ہسپتالوں کے حالات میں بہتری آئے گی۔ پی ایچ کیو ہسپتال گلگت میں سرپرائز وزٹ: صورتحال اور ابتدائی اقدامات گلگت بلتستان کے انتظامی اور طبی ڈھانچے کی بہتری کے لیے وزیراعلیٰ امجد حسین نے پروونشل ہیڈکوارٹر (پی ایچ کیو) ہسپتال گلگت کا ناگہانی دورہ کیا۔ دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے ہسپتال کے مختلف وارڈز، خاص طور پر لیبر بلاک، لیبارٹری، ڈینٹل شعبے اور سٹور روم کا تفصیلی معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران لیبر بلاک میں شدید بدانتظامی اور غفلت دیکھی گئی۔ ہسپتال کا ڈیوٹی روسٹر دیوار پر آویزاں نہیں تھا جس کے باعث یہ معلوم کرنا ناممکن تھا کہ کون سا عملہ ڈیوٹی پر موجود ہے اور کون غیر حاضر۔ عملے کی غیر حاضری اور مریضوں کو درپیش پریشانی پر وزیراعلیٰ نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور موقع پر ہی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) اور متعلقہ شعبے کے سربراہ (ایچ او ڈی) کو معطل کرنے کے سخت احکامات جاری کر دیے۔ لیبارٹری کی ناقص کارکردگی، سٹور انچارج کی معطلی اور ٹھیکیدار پر ایف آئی آر وزیراعلیٰ نے ہسپتال کی لیبارٹری کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ بنیادی اور انتہائی ضروری طبی ٹیسٹوں کی سہولت موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے غریب مریضوں کو نجی لیبارٹریوں کا رخ کرنا پڑ رہا تھا۔ اس کے علاوہ ہسپتال کے سٹور روم اور ادویات کی تقسییم کے حوالے سے بھی شدید بے ضابطگیاں اور شکایات سامنے آئیں، جس پر وزیراعلیٰ نے کارروائی کرتے ہوئے ہسپتال کے سٹور انچارج کو فوری معطل کرنے کا حکم دیا۔ معائنے کے دوران ایک اور بڑا انکشاف ڈینٹل شعبے میں ہوا، جہاں معلوم ہوا کہ ہسپتال کے لیے خریدی گئی ڈینٹل مشین غیر معیاری اور ناکارہ تھی، جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں کے ضیاع کے مترادف تھا۔ وزیراعلیٰ نے اس پر سخت قدم اٹھاتے ہوئے ہدایت کی کہ: قانونی کارروائی: غیر معیاری آلات فراہم کرنے والے ٹھیکیدار کے خلاف فوری طور پر مقدمہ (ایف آئی آر) درج کیا جائے۔ تفتیش اور احتساب: مشین کی خریداری کے عمل میں شامل تمام متعلقہ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔ معیار کی ضمانت: ہسپتال میں صرف اعلیٰ اور معیاری آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ وزیراعلیٰ کا سخت پیغام: شعبہ صحت میں غفلت ناقابلِ برداشت ہسپتال کے دورے کے موقع پر زیرِ علاج مریضوں اور ان کے تیمارداروں نے وزیراعلیٰ کو اپنی مشکلات سے آگاہ کیا۔ شہریوں نے شکایت کی کہ سرکاری ہسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی اور عملے کے عدم تعاون کی وجہ سے انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریضوں کی گفتگو سننے کے بعد وزیراعلیٰ نے سخت لہجے میں واضح کیا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگیوں اور صحت کے ساتھ کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ وزیراعلیٰ کے جاری کردہ اہم احکامات اور موقف کے اہم نکتہ جات درج ذیل ہیں: بلا امتیاز کارروائی: شعبہ صحت میں کسی بھی سطح پر غفلت، بدانتظامی اور کام چوری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حاضری کی پابندی: تمام ہسپتالوں اور بنیادی طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حاضری کو سو فیصد یقینی بنایا جائے۔ ادویات کی دستیابی: سرکاری ہسپتالوں میں تمام ضروری ادویات کی مفت اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ غریب طبقے کو باہر سے ادویات نہ خریدنی پڑیں۔ پی ایچ کیو ہسپتال کا پس منظر اور موجودہ درپیش چیلنجز پروونشل ہیڈکوارٹر (پی ایچ کیو) ہسپتال گلگت کا سب سے بڑا اور مرکزی سرکاری ہسپتال ہے، جہاں نہ صرف گلگت شہر بلکہ ملحقہ اضلاع اور دیہی علاقوں سے بھی روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مریض علاج معالجے کے لیے آتے ہیں۔ تاہم، گزشتہ کچھ عرصے سے اس ہسپتال کے حوالے سے مختلف انتظامی اور طبی چیلنجز کی خبریں سامنے آ رہی تھیں: مریضوں کا غیر معمولی دباؤ: خطے کا مرکزی ہسپتال ہونے کی وجہ سے یہاں کے وارڈز اور ایمرجنسی میں گنجائش سے زیادہ مریض آتے ہیں، جس کی وجہ سے موجودہ وسائل کم پڑ جاتے ہیں۔ ادویات اور آلات کی قلت: بجٹ اور انتظامی کوتاہیوں کی وجہ سے اکثر اوقات ضروری ادویات اور لیبارٹری کے سامان کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ انتظامی نظم و ضبط کا فقدان: ڈیوٹی روسٹر کی غیر موجودگی اور عملے کی غیر حاضری کی وجہ سے مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے عوام میں نالائقی اور عدم اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ ان حالات میں وزیراعلیٰ کا یہ سرپرائز دورہ ہسپتال کے نظام کو درست راستے پر لانے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی ردِعمل اور مستقبل کے اثرات وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے اس اچانک دورے اور موقع پر کیے گئے سخت فیصلوں کو گلگت بلتستان کی عوام اور پی ایچ کیو ہسپتال میں موجود مریضوں نے بے حد سراہا ہے۔ عوامی رائے: مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ہسپتال کے مسائل کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے، لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے موقع پر ہی اعلیٰ حکام کی معطلی اور ٹھیکیدار پر مقدمے کے حکم سے یہ پیغام گیا ہے کہ حکومت واقعی عوام کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ مستقبل کے مثبت اثرات: نظم و ضبط میں بہتری: اعلیٰ حکام کی معطلی کے بعد دیگر سرکاری ہسپتالوں کے عملے میں بھی ذمہ داری اور حاضری کا احساس بڑھے گا۔ شفافیت اور احتساب: ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر کے حکم سے سرکاری خریداریاں اور آلات کی فراہمی کے عمل میں شفافیت آئے گی اور ناقص سامان لانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ عوامی اعتماد کی بحالی: اس قسم کے ناگہانی دوروں کے تسلسل سے سرکاری ہسپتالوں پر عام شہر یوں کا اعتماد بحال ہوگا اور انہیں اپنے ہی شہر میں معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں گی۔ گلگت انتظامیہ کے مطابق تمام سرکاری اداروں، بالخصوص ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی سرپرائز انسپکشنز کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ Post navigation بابوسر ٹاپ پر شدید برف باری: شاہراہِ بابوسر تمام قسم کی ترافک کے لیے عارضی طور پر بند، پولیس کی جانب سے مسافروں اور سیاحوں کے لیے اہم ہدایت نامہ جاری نواب شاہ: سود خوروں کے مظالم سے تنگ دلمزدور خاتون کا بچوں سمیت پریس کلب میں دردناک احتجاج، ۴ بچوں کو فروخت کے لیے پیش کر دیا