Preloader
Houthi attacks on Saudi Arabia

خبر کے اہم نکات

  • حوثی حملوں میں شدید نقصان: یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں اور آباد علاقوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
  • عرب اتحاد کا سخت ردعمل: یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثی اقدامات کو “خطرناک، معاندانہ اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا ہے۔
  • قومی سلامتی کے تحفظ کا اعادہ: سعودی عسکری ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مملکت اپنی سرزمیں، شہریوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کے دفاع کے لیے مؤثر اور سخت اقدامات اٹھائے گی۔
  • علاقائی و بین الاقوامی اثرات: ان حملوں سے نہ صرف خلیجی خطے کی امن و امان کی صورتحال شدید متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی تشویشناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

تفصیلی خبر

ریاض (صحافتی رپورٹ): مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ یمن میں باقاعدہ حکومت کی بحالی کے لیے کام کرنے والے عرب اتحاد (Coalition to Support Legitimacy in Yemen) کے عسکری ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سرحد پار سے کیے جانے والے پے در پے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زائد افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

منگل کے روز جاری کیے گئے ایک خصوصی بیان میں عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کی سرحدی اور اندرونی آبادیوں، شہری ڈھانچے اور اقتصادی تنصیبات کو ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوششیں جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ سعودی عرب اپنی حدود اور شہریوں پر ہونے والے ان حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور حوثی گروہ کی اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اور سخت ترین دفاعی و نظامی اقدامات کیے جائیں گے۔

عرب اتحاد کی پریس کانفرنس اور موقف

میجر جنرل ترکی المالکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حوثی حملوں کو ایک “خطرناک پیش رفت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں اور غیر فوجی بنیادی ڈھانچے کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ترجمان کے بیان کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:

  • شہریوں پر حملے: حوثی ملیشیا کے حملوں میں عام شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو نقصان پہنچا ہے جو ان کی غیر ذمہ دارانہ حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے۔
  • معاندانہ رویہ: ان حملوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حوثی گروہ خطے میں کسی بھی قسم کے سیاسی حل یا امن کی کوششوں میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ اس کا رویہ مکمل طور پر معاندانہ ہے۔
  • دفاعی عزم: سعودی مسلح افواج مملکت کی خودمختاری، سویلین آبادی اور تجارتی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور حملوں کا مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔

حوثی کشیدگی کا پس منظر اور حالیہ صورتحال

یمن میں 2014 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی اس وقت ایک بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہو گئی جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر کے آئینی حکومت کو معزول کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمنی حکومت کی بحالی اور حوثی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ملٹری آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران اگرچہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے یمن میں جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات کی مسلسل کوششیں کی گئیں، تاہم حوثی گروہ کی جانب سے اکثر اوقات ان معاہدوں اور سیز فائر کی ورزی کی جاتی رہی ہے۔ حوثی ملیشیا خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے سعودی عرب کے جنوبی اور وسطی شہروں بشمول نجران، جازان، ابہا اور ریاض کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

ان حملوں میں زیادہ تر ہدف ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات اور رہائشی علاقے رہے ہیں جس کا مقصد سعودی عرب پر معاشی اور نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہے۔

حملوں کے عالمی اور معاشی اثرات

سعودی عرب پر حوثی حملے محض ایک دوطرفہ نزاع تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں:

  1. انرجی سیکیورٹی (توانائی کی تحفظ): سعودی عرب دنیا میں خام تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ان کی توانائی کی تنصیبات جیسے کہ آرامکو کے آئل پروسیسنگ پلانٹس پر کسی بھی قسم کا حملہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اور شدید اضافے کا باعث بنتا ہے۔
  2. بحری تجارت اور سلامتی: یمن کا جغرافیائی موقع باب المندب اور بحرِ احمر (Red Sea) کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں سے جڑا ہوا ہے۔ حوثی ملیشیا کے آزادانہ ڈرون و میزائل حملے عالمی بحری جہاز رانی اور سپلائی چین کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
  3. انسانی بحران: اس تنازع کے نتیجے میں یمن کے اندر دنیا کا ایک بدترین انسانی بحران جنم لے چکا ہے جہاں لاکھوں افراد خوراک اور طبی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ سرحد پار سعودی شہریوں کی سیکیورٹی بھی خطرے میں پڑ چکی ہے۔

بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی کوششیں

بین الاقوامی برادری، بشمول اقوامِ متحدہ (UN)، امریکہ، خلیج تعاون کونسل (GCC) اور یورپی یونین، نے حوثی گروہ کے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عالمی برادری کا موقف ہے کہ عام شہریوں اور سویلین انفراسٹرکچر پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں اور اس سے اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں جاری امن عمل کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے یمن نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ضبطِ نفس کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں تاکہ ملک میں پائیدار سیز فائر اور سیاسی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ

سعودی ملٹری ترجمان کے حالیہ بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سعودی عرب اب حوثی حملوں کے جواب میں اپنی دفاعی اور تلافی حکمتِ عملی کو مزید سخت کرنے جا رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حوثی ملیشیا نے سرحدی علاقوں اور عام شہریوں پر اپنے حملے بند نہ کیے تو عرب اتحاد کی جانب سے یمن میں حوثی عسکری ٹھکانوں، ڈرون لانچنگ پیڈز اور میزائل ڈپوؤں پر فضائی کارروائیوں میں شدید اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ صورتحال جہاں ایک طرف خطے کی سیکیورٹی کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہے، وہی دوسری جانب اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ حوثی گروہ کو بیرونی عسکری امداد کی فراہمی روکی جائے اور انہیں بات چیت کی میز پر لانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ٹھوس دباؤ بڑھایا جائے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025