google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Indian attack on Pakistan in UNSC

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں “امن کے لیے قیادت” کے موضوع پر ہونے والے ایک کھلے مباحثے کے دوران، بھارت نے پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال پر شدید تنقید کی۔ بھارت نے اسلام آباد پر الزام لگایا کہ وہ ایک منتخب وزیر اعظم کو جیل بھیج کر اور فوج کے سربراہ کو تاحیات قانونی استثنیٰ دے کر “عوامی مرضی کا احترام” کرنے کا ایک “منفرد طریقہ” اختیار کر رہا ہے۔

بھارت کے مستقل نمائندے، سفیر ہریش پرواتھانینی، نے یہ سخت بیان اس وقت دیا جب پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کا معاملہ اٹھایا۔

داخلی صورتحال پر تیکھی تنقید

بھارتی نمائندے ہریش پرواتھانینی نے کہا کہ:

“پاکستان کا اپنے لوگوں کی مرضی کا احترام کرنے کا یقیناً ایک انوکھا طریقہ ہے۔ وہ ایک وزیر اعظم کو جیل بھیجتے ہیں، حکمران سیاسی جماعت پر پابندی لگاتے ہیں، اور اپنی مسلح افواج کو 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایک آئینی بغاوت کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جس کے تحت وہ اپنے چیف آف ڈیفنس فورسز کو تاحیات استثنیٰ فراہم کرتے ہیں۔”

ان کا یہ بیان سابق وزیر اعظم عمران خان کی اگست 2023 سے بدعنوانی کے الزامات پر جیل میں قید اور ان کی پارٹی (پی ٹی آئی) کے خلاف قانونی کارروائیوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ، بھارتی سفیر نے اس آئینی ترمیم کا حوالہ دیا جو حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے تحت منظور ہوئی تھی، جس نے موجودہ آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کسی بھی قسم کے قانونی مقدمے سے تاحیات استثنیٰ (Lifetime Immunity) دے دی ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر کے تحفظات

بھارتی بیان میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ عمران خان کی جیل کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی ٹارچر سے متعلق خصوصی رپورٹر ایلس جِل ایڈورڈز نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹر نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خان صاحب کی “غیر انسانی اور غیر باوقار” حراستی شرائط پر فوری کارروائی کرے، خبردار کیا کہ یہ شرائط تشدد یا دیگر بدسلوکی کے مترادف ہو سکتی ہیں۔

کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کا معاملہ

بھارت نے پاکستانی سفیر کی جانب سے جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ ہریش پرواتھانینی نے واضح کیا کہ:

“جموں و کشمیر اور لداخ کے یونین علاقے بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہیں۔ وہ تھے، ہیں، اور ہمیشہ رہیں گے۔”

انہوں نے پاکستان پر بھارت کو نقصان پہنچانے کے لیے کشمیر کے مسئلے پر “جنونی توجہ” مرکوز کرنے کا الزام لگایا اور متنبہ کیا کہ بھارت پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کرے گا۔

سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کا جواز

سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) کے حوالے سے بھارت نے اعلان کیا کہ وہ معاہدے کو “معطل” رکھے گا۔ بھارتی سفیر نے کہا کہ بھارت نے 65 سال قبل نیک نیتی سے یہ معاہدہ کیا تھا، لیکن پاکستان نے اس دوران تین جنگیں مسلط کیں اور ہزاروں دہشت گرد حملے کیے۔

انہوں نے اپریل 2025 میں ہونے والے پہلگام دہشت گرد حملے کا حوالہ دیا، جس میں مذہب کی بنیاد پر 26 بے گناہ شہریوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ سفیر نے کہا: “اسی پس منظر میں بھارت نے بالآخر اعلان کیا ہے کہ معاہدے کو اس وقت تک معطل رکھا جائے گا جب تک پاکستان، جو دہشت گردی کا ایک عالمی مرکز ہے، سرحد پار اور دیگر تمام اقسام کی دہشت گردی کے لیے اپنی حمایت کو قابل اعتبار اور ناقابل واپسی طور پر ختم نہیں کرتا۔”

About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025