اہم نکات: کانٹریکٹس کی منسوخی: انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد کیپٹن (رٹائرڈ) محمد سہیل چوہدری نے سابق پولیس افسران اور ملازمین کے ساتھ کیے گئے تمام کانٹریکٹس منسوخ کر دیے ہیں۔ محکمے کی بحالی: ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ افسران مختلف اہم عہدوں پر کانٹریکٹ پر خدمات انجام دے رہے تھے جن کی منسوخی سے محکمے میں نچلی اور درمیانی سطح کے مستقل ملازمین کے لیے ترقی کے راستے کھلیں گے۔ شفافیت اور بجٹ بچت: اس فیصلے کا بنیادی مقصد پولیس فورس میں شفافیت لانا، میرٹ کو فروغ دینا اور قومی خزانے پر زائد مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔ انتظامی ہیر پھیر: اس اقدام سے وفاقی دارالحکومت میں پولیس فورس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر میں بڑی تبدیلی اور آپریشنل بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ پس منظر: اسلام آباد پولیس میں کانٹریکٹ کلچر اور ریٹائرڈ افسران کی تعیناتیاں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس فورس کو ملک بھر میں ایک ماڈل فورس کی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم گزشتہ چند سالوں کے دوران محکمے میں ریٹائرڈ افسران اور اہلکاروں کو دوبارہ کانٹریکٹ کی بنیاد پر مختلف عہدوں پر تعینات کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ چکا تھا۔ مختلف انتظامی، تکنیکی، قانونی اور آپریشنل شعبوں میں سابق پولیس افسران کی دوبارہ خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ اگرچہ ابتدائی طور پر اس پالیسی کا مقصد تجربہ کار افراد کی مہارت سے فائدہ اٹھانا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے ایک روایتی کانٹریکٹ کلچر کی شکل اختیار کر لی۔ اس کانٹریکٹ پالیسی کے باعث اسلام آباد پولیس کے مستقل، حاضر سروس اور نوجوان افسران میں تشویش اور بے چینی پائی جاتی تھی۔ متعدد ملازمین کا خیال تھا کہ ریٹائرڈ افسران کی موجودگی سے نہ صرف ان کی باقاعدہ ترقیوں (Promotions) کے مواقع محدود ہو رہے تھے بلکہ فورس میں نئی اور جدید خون کی شمولیت بھی متاثر ہو رہی تھی۔ آئی جی کیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری کا بڑا اقدام اسلام آباد پولیس کی کمان سنبھالنے کے بعد نئے انسپکٹر جنرل آف پولیس کیپٹن (رٹائرڈ) محمد سہیل چوہدری نے محکمے کی کارکردگی کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور انتظامی مسائل کو حل کرنے کے لیے سخت فیصلوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر، معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئی جی اسلام آباد نے سابق تمام ملازمین اور افسران کے ساتھ کیے گئے معاہدے (Contracts) منسوخ کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق: وہ تمام سابق افسران جو ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف انتظامی اور آپریشنل نشستوں پر براجمان تھے، انہیں فوری طور پر چارج چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کانٹریکٹس کی تجدید (Renewal) پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تمام متعلقہ شعبہ جات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سابق ملازمین کا ڈیٹا مرتب کر کے کانٹریکٹ کی منسوخی کے عمل کو حتمی شکل دیں۔ فیصلے کے بنیادی اسباب اور انتظامی حکمتِ عملی آئی جی اسلام آباد کا یہ اقدام ایک وسیع تر انتظامی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ نظر آتا ہے۔ پولیس ذرائع اور امورِ انتظامی کے ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے پسِ پردہ درج ذیل بنیادی اسباب کارفرما ہیں: ┌────────────────────────────────────────┐ │ کانٹریکٹس منسوخی کے بنیادی اسباب │ └───────────────────┬────────────────────┘ │ ┌─────────────────────────────┼─────────────────────────────┐ ▼ ▼ ▼ ┌───────────────────────┐ ┌───────────────────────┐ ┌───────────────────────┐ │ حاضر سروس کی ترقیاں │ │ مالی بوجھ میں کمی │ │ شفافیت اور میرٹ │ ├───────────────────────┤ ├───────────────────────┤ ├───────────────────────┤ │ جونیئر افسران کے لیے │ │ ڈبل پینشن اور گرانٹس │ │ سفارشی کلچر کا خاتمہ │ │ ترقی کی راہ میں حائل │ │ کے باعث پیدا ہونے والے │ │ اور فورس کی کارکردگی │ │ رکاوٹوں کو دور کرنا۔ │ │ بوجھ کا خاتمہ۔ │ │ میں بہتری۔ │ └───────────────────────┘ └───────────────────────┘ └───────────────────────┘ میرٹ اور باقاعدہ ترقیاں: کانٹریکٹس کے خاتمے کا سب سے بڑا مقصد حاضر سروس افسران کو ان کی مستحق ترقیاں دینا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ فورس کا مورال بلند رہے۔ قومی خزانے کی بچت: ریٹائرڈ افسران کو کانٹریکٹ کی بنیاد پر بھاری مراعات، تنخواہیں اور الاؤنسز دیے جا رہے تھے، جبکہ وہ پہلے سے پینشن بھی حاصل کر رہے تھے۔ اس فیصلے سے محکمے کے بجٹ پر مالی بوجھ نمایاں طور پر کم ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی اور نیا ٹیلنٹ: موجودہ دور میں کرائم فائٹنگ اور سیف سٹی پروجیکٹس کے لیے سائبر اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ فورس کی ضرورت ہے، جس کے لیے نوجوان اور حاضر سروس افسران زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ پولیس فورس اور سول سوسائٹی پر متوقع اثرات اس اہم فیصلے کے بعد اسلام آباد پولیس فورس کے اندر ملازمین اور افسران میں اطمینان کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ جونیئر اور مڈل لیول کے افسران نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے محکمے میں شفافیت اور کارکردگی کا معیار بہتر ہوگا۔ متوقع مثبتیت اور چیلنجز: مثبت اثرات: حاضر سروس افسران کی میرٹ پر مبنی تعیناتیاں اور ترقیاں ممکن ہوں گی۔ فورس میں احتساب کے نظام اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔ محکمے کے مالی وسائل کو پولیس کی بہتری اور جدید آلات کی خریداری پر خرچ کیا جا سکے گا۔ انتظامی چیلنجز: سابق افسران کی یکلخت روانگی کے بعد خالی ہونے والی نشستوں پر فوری اور اہلیت پر مبنی متبادل تعیناتیاں کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ بعض خاص اور پیچیدہ مقدمات کی تحقیقات یا تکنیکی شعبوں میں تجربہ کار افسران کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حاضر سروس اہلکاروں کو فوری تربیت دینا ہوگی۔ ایڈیٹوریل تجزیہ: اصلاحاتی عمل کا تسلسل ضروری ہے ایک باوقار اور پیشہ ورانہ صحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انسپکٹر جنرل کیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری کا یہ فیصلہ انتہائی بر وقت اور قانون کی حکمرانی کو قائم کرنے کی طرف ایک پیشرفت ہے۔ کسی بھی ڈسپلن فورس میں غیر ضروری طور پر کانٹریکٹ پر رکھی گئی شخصیات کی موجودگی سے میرٹ کی پامالی کا تاثر ملتا ہے۔ تاہم، اس امر کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان فیصلوں پر عملدرآمد بلا تفریق ہو اور کسی بھی شعبے میں کام کا تعطل پیدا نہ ہو۔ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان، سیکیورٹی اور بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ اس اصلاحاتی عمل کو محض تبادلوں اور منسوخی تک محدود رکھنے کے بجائے فورس کی مجموعی کارکردگی اور عوامی سروس ڈیلیوری کی بہتری کے ساتھ جوڑا جائے۔ Post navigation جیکب آباد: جکرانی برادران کے تنازع پر ایم ڈبلیو ایم اور قبائلی رہنماؤں کی تحرک، پرامن حل کے لیے سیاسی و مذہبی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ یمن میں جنگی صورتحال کی سنگینی: حوثی جنگجوؤں کا تعز کے حکمتِ عملی سے اہم شہر ‘التربہ’ پر قبضہ، بین الاقوامی تسلیم شدہ حکومت کا جوابی آپریشن کا اعلان