اسلام آباد (تجزیاتی رپورٹ): سفارتی ذرائع اور مذاکراتی کمروں سے چھن کر آنے والی اطلاعات کے مطابق، امریکہ، ایران اور میزبان پاکستان کے درمیان ایک “جامع تزویراتی سمجھوتے” پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ توقع ہے کہ اتوار کی صبح ایک مشترکہ پریس کانفرنس یا تحریری اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جس کے ممکنہ خدوخال درج ذیل ہو سکتے ہیں:
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!1. آبنائے ہرمز کی فوری بحالی (فیز 1)
اعلامیہ کا سب سے اہم نکتہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا دوبارہ کھلنا ہوگا۔ معاہدے کے تحت ایران اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر تجارتی بحری جہازوں کے لیے راستہ صاف کر دے گا، جبکہ امریکہ اپنی بحری موجودگی کو “دفاعی پوزیشن” تک محدود رکھنے کی ضمانت دے گا۔
2. ‘ٹرانزٹ لیوی’ (Transit Levy) کا تصفیہ
ذرائع کے مطابق، ایران کی جانب سے لگائے گئے بحری ٹیکس کے معاملے پر درمیانی راستہ نکال لیا گیا ہے۔ امریکہ اور اتحادی ممالک اس بات پر راضی ہو گئے ہیں کہ بحری گزرگاہوں کی حفاظت کے بدلے ایک “سیکیورٹی فنڈ” قائم کیا جائے گا، جس کی نگرانی ممکنہ طور پر اقوامِ متحدہ یا پاکستان اور عمان جیسے غیر جانبدار ممالک کریں گے۔
3. منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی
ایران کے لیے سب سے بڑی کامیابی اس کے 6 سے 8 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی کی صورت میں سامنے آئے گی۔ یہ رقم جنوبی کوریا یا جاپان سے براہِ راست تہران کے بجائے قطر یا عمان کے بینکوں میں منتقل کی جائے گی، جسے ایران صرف ادویات اور اشیاءِ خورونوش کی خریداری کے لیے استعمال کر سکے گا۔
4. قیدیوں کا تبادلہ (خیر سگالی کا جذبہ)
اعلامیہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قیدیوں کے تبادلے کا اعلان بھی متوقع ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے شہریوں (جن میں دوہری شہریت والے افراد شامل ہیں) کو رہا کرنے پر متفق ہو گئے ہیں، جسے اعتماد سازی (Confidence Building) کا ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
5. ‘آپریشن غضبِ حق’ اور علاقائی حدود کا احترام
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اس معاہدے میں ایک نکتہ “علاقائی خود مختاری” کا بھی شامل ہوگا۔ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی سرزمین پر براہِ راست حملے نہ کرنے کا عہد کریں گے، جبکہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اپنے جاری آپریشنز میں دونوں ممالک کے تعاون کا خیر مقدم کرے گا۔
6. مستقل مذاکراتی فورم کا قیام
اسلام آباد میں ہونے والے اس بریک تھرو کو مستقل بنانے کے لیے ایک “مشترکہ ورکنگ گروپ” بنانے کی تجویز ہے، جس کے اجلاس ہر ماہ اسلام آباد یا دوحہ میں ہوں گے تاکہ مستقبل میں کسی بھی غلط فہمی کو فوری دور کیا جا سکے۔
7. ایٹمی پروگرام پر ‘اسٹیٹس کو’ (Status Quo)
اگرچہ یہ ایک طویل مدتی ہدف ہے، لیکن اعلامیہ میں ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے اور بدلے میں امریکہ کی جانب سے مزید نئی پابندیاں نہ لگانے کا ایک “خاموش معاہدہ” (Quiet Agreement) بھی شامل ہو سکتا ہے۔
خلاصہ اور عالمی اثرات
اگر یہ اعلامیہ ان نکات کے ساتھ جاری ہو جاتا ہے، تو:
- عالمی معیشت: تیل کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اچانک کمی آ سکتی ہے۔
- پاکستان کا قد: عالمی سفارت کاری میں پاکستان کا کردار ایک “ناگزیر امن ساز” (Essential Peacemaker) کے طور پر ابھرے گا۔
- خطے کا مستقبل: مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست جنگ کا خطرہ کم از کم اگلے چند ماہ کے لیے ٹل جائے گا۔
نوٹ: یہ رپورٹ مذاکرات کے اندرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ہے، حتمی اعلامیہ میں الفاظ کی تبدیلی یا کسی خاص نکاتی ترمیم کا امکان موجود رہتا ہے۔

