(رپورٹ: محمد نصیر ساگر) اہم نکات عظمیٰ کانفرنس کا انعقاد: جمعیت علماء اسلام ضلع جامشورو کے زیرِ اہتمام مولانا عبدالرقیب میکہو کی صدارت میں ایک بڑی ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ عقیدۂ ختم نبوت اور باطل فتنے: کانفرنس کے دوران فتنہ گوہر شاہی کا شدید تعاقب کیا گیا اور بیرونی عناصر کی جانب سے علاقے کا امن خراب کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔ حکومت سے بڑا مطالبہ: علماء کرام اور عوام نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ریاض گوہر شاہی کے مقبرے کو فوری طور پر سیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ عوام اور علماء کا عزم: مذہبی و سیاسی رہنماؤں اور عاشقانِ رسول نے ناموسِ رسالت کے تحفظ اور باطل افکار کے قلع قمع کے لیے متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ جامشورو میں عظمیٰ ختم نبوت کانفرنس کا شاندار انعقاد ضلع جامشورو میں دینی و سیاسی تحرک اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) ضلع جامشورو کے سرکردہ رہنما مولانا عبدالرقیب میکہو کی زیرِ صدارت ایک تاریخی اور عظمیٰ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس عظیم الشان اجتماع میں ملک، صوبہ سندھ اور ضلع جامشورو بھر سے جید علماء کرام، مشائخ عظام، مذہبی رہنماؤں اور ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرنا، مسلمانوں کے دینی جذبات و ایمانی حدود کی حفاظت کرنا اور خطے میں سر اٹھانے والے باطل اور گمراہ کن نظریات، بالخصوص فتنہ گوہر شاہی، کا محاسبہ کرنا تھا۔ اجتماع کے دوران ماحول ایمانی جذبے اور تکبیر کے نعروں سے گونجتا رہا، جبکہ مختلف مکاتبِ فکر کے اکابرین نے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کیا۔ فتنہ گوہر شاہی کا تعاقب اور مقبرہ سیل کرنے کا مطالبہ کانفرنس کے دوران علمائے کرام اور مقررین نے اپنے خطاب میں فتنہ گوہر شاہی کی تاریخ، اس کی بنیادی گمراہیوں اور مسلمانوں کے عقائد پر پڑنے والے منفی اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر شدید تشویش اور تشویش کا اظہار کیا کہ بیرونی عناصر اور مخصوص گروہ سرزمینِ جامشورو پر اس فتنے کی آبیاری کرکے مقامی امن و امان کو خراب کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ اجتماع میں شریک علماء کرام اور عوامِ علاقہ نے بالاتفاق حکومتِ وقت، صوبائی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وقت کے کذاب ریاض گوہر شاہی کے مقبرے کو بلا تاخیر اور فوری طور پر سیل کیا جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس مقبرے کے ذریعے گمراہ کن تبلیغ اور غیر شرعی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف خطے کا امن خطرے میں پڑ رہا ہے بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور عقیدۂ ختم نبوت کے تقدس کو شدید ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ کانفرنس کے نمایاں شرکاء اور رہنما اس تاریخی دینی اجتماع میں ملک اور صوبے کی ممتاز مذہبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والی اور خطاب کرنے والی نمایاں شخصیات میں درج ذیل شامل تھے: علامہ طارق محمود سومرو انجینئر حاجی عبدالرزاق عابد لاکھو مولانا عبدالجبار حیدری ضلعی امیر مولانا سدھیر احمد رند حاجی امداداللہ پہلپوٹو حافظ اظہار الحق صدیقی مولانا عبدالصمد رئیسانی مولانا صبغت اللہ بازری حافظ خالد دھامراہ ڈاکٹر شہمیر گوپانگ حافظ اعظم جہانگیری مولانا طارق خان رند رئیس عطاء محمد پالاری حاجی پیارو خان کوسو میر شاہجہان کوسو تمام رہنماؤں نے اپنے خطابات میں عقیدۂ ختم نبوت کو اسلام کی روح اور ایمان کی بنیادی بنیاد قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ کانفرنس کے اہم پہلو اور ڈیٹا چارٹ پہلوتفصیلاتایونٹ / تقریبعظمیٰ ختم نبوت کانفرنسمقامضلع جامشورو، سندھصدارتمولانا عبدالرقیب میکہو (رہنما JUI جامشورو)بنیادی موضوعتحفظِ عقیدۂ ختم نبوت اور فتنہ گوہر شاہی کا قلع قمعمرکزی مطالبہریاض گوہر شاہی کے مقبرے کو فوری سیل کرناشرکاءملک و صوبے بھر سے جید علماء، مشائخ اور عاشقانِ رسول ناموسِ رسالت اور تحفظِ عقائد کے لیے عزم کا اعادہ کانفرنس کے اختتامی مرحلے پر ایک متفقہ قرار داد اور عزم کا اعادہ کیا گیا۔ علماء کرام اور عوام نے اس بات کا عہد کیا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، ناموسِ رسالت کے پہرے اور تمام باطل و گمراہ کن فتنوں کے قلع قمع کے لیے آئندہ بھی منظم، مربوط اور بھرپور طریقے سے عملی کردار ادا کیا جاتا رہے گا۔ مقررین نے واضح کیا کہ اسلامی معاشرے میں مذہبی رواداری اور امن کو قائم رکھنا حکومت اور اداروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے، لیکن اسلام کی بنیادی تعلیمات اور ختمِ نبوت کے عقیدے پر حملہ کرنے والے کسی بھی عنصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پس منظر، موجودہ صورتحال اور اثرات (ایڈیٹوریل تجزیہ) پس منظر: ریاض گوہر شاہی اور اس کے پیروکاروں کی جانب سے قائم کردہ تحریک دہائیوں سے متنازع رہی ہے، اور پاکستان کے جید علماء و مذہبی اداروں کی جانب سے اس کے نظریات کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی قرار دیا جا چکا ہے۔ ضلع جامشورو میں اس کے اثرات اور مبینہ مقبرے کی موجودگی طویل عرصے سے مقامی سطح پر مذہبی حساسیت کا باعث بنی ہوئی ہے۔ موجودہ صورتحال: جامشورو میں اس نوعیت کی بڑی ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقامی سطح پر دینی طبقہ اور عوام اس مسئلے پر کس قدر متحرک ہیں۔ علماء کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اور حکومت سے براہِ راست انتظامی کارروائی (مقبرہ سیل کرنے) کا مطالبہ کرنا انتظامیہ کے لیے بھی ایک اہم موقع ہے کہ وہ اس معاملے کا قانون کے مطابق حل نکالے۔ مستقبل کے اثرات: انتظامیہ پر دباؤ: کانفرنس کے بعد ضلعی اور صوبائی انتظامیہ پر قانون و امن کی بحالی اور مقبرے کے قانون حیثیت کے جائزے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔ عوامی بیداری: اس قسم کے اجتماعات سے عام لوگوں میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور گمراہ کن نظریات سے بچاؤ کا شعور اجاگر ہوتا ہے۔ اتحاد و ہم آہنگی: دینی جماعتوں اور مختلف مکاتبِ فکر کے اکابرین کا ایک نقطے پر متحد ہونا دینی تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور مربوط لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔ Post navigation جامشورو: نیشنل ایکشن پلان کے تحت ڈسٹرکٹ ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس، امن و امان، شاہراہوں کی بہتری اور بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ