Preloader
Khuli katchery held at kot najeebullah

اہم نکات (خلاصہ)

  • ضلع ہری پور کے علاقے کوٹ نجیب اللہ میں انتظامیہ اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر کی زیرِ صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔
  • واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی) ہری پور کے جنرل منیجر آپریشنز محمد عمران عزیز نے صفائی ستھرائی اور پینے کے پانی کی فراہمی کے مسائل خود سنے۔
  • کھلی کچہری کے دوران عوام کی جانب سے اٹھائے گئے بنیادی مسائل پر متعلقہ اداروں کے افسران نے موقع پر ہی عملی احکامات جاری کیے۔
  • اس اقدام کا بنیادی مقصد شہری خدمات کی معیار میں بہتری، عوامی شکایت کا بروقت ازالہ اور حکومتی اداروں پر شہریوں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔

ہری پور: ضلع ہری پور کی تحصیل کوٹ نجیب اللہ اور اس کے ملحقہ علاقوں کے شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل کے فوری ازالے اور حکومتی خدمات کی ان کی دہلیز پر فراہمی کے لیے ڈپٹی کمشنر ہری پور کی زیرِ صدارت ایک پروقار اور جامع “کھلی کچہری” کا انعقاد کیا گیا۔ اس عوامی ایوان کا بنیادی مقصد عوام الناس اور ضلعی انتظامیہ کے مابین درمیانی فاصلوں کو ختم کرنا اور مختلف سرکاری شعبوں کے حوالے سے شہریوں کے گلے شکوے براہِ راست سن کر ان کا سدباب کرنا تھا۔

اس کھلی کچہری میں ضلعی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی) ہری پور کی نمائندگی ادارے کے جنرل منیجر آپریشنز محمد عمران عزیز نے کی۔ کچہری کے دوران شہریوں، مقامی معززین اور سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل و تجاویز کو کھلے دل کے ساتھ انتظامیہ کے سامنے پیش کیا۔

کھلی کچہری کا منظر نامہ اور ڈبلیو ایس ایس سی کی سرگرمیاں

کوٹ نجیب اللہ میں منعقدہ اس کھلی کچہری کے دوران شہریوں کی جانب سے خاص طور پر صاف پانی کی باقاعدہ فراہمی، گندے پانی کے نوبہائے عام کی اصلاح، گلیوں کی باقاعدہ صفائی اور آلودگی کی رویداد جیسے امور پر آواز اٹھائی گئی۔ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی ہری پور کے جی ایم آپریشنز محمد عمران عزیز نے تمام مسائل کو انتہائی توجہ اور حوصلے کے ساتھ سنا۔

محمد عمران عزیز نے موقع پر ہی عوامی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اور شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ فیلڈ عملے کو ضروری تکنیکی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ادارہ شہریوں کو ایک صاف ستھرا، پاکیزہ اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے اور خدمات میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

کھلی کچہری کے اہم اعداد و شمار اور انتظامی پہلو

اس کھلی کچہری کے بنیادی خد و خال اور سرگرمیوں کو درج ذیل پوائنٹس کی روشنی میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے:

  • مقام و صدارت: کوٹ نجیب اللہ (ضلع ہری پور)، زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر ہری پور۔
  • بنیادی شعبہ جات: پینے کا صاف پانی، نالیوں و نالوں کی صفائی، کچرا اٹھانے کا نظام اور عوامی صحت کی دیکھ بھال۔
  • ڈبلیو ایس ایس سی کی پیش رفت: مواقع پر ہی متعدد تکنیکی اور انتظامی شکایات کا حل تجویز کیا گیا اور ترجیحی بنیادوں پر کام مکمل کرنے کے احکامات دیے گئے۔
  • شہریوں کی شرکت: مختلف کونسلوں کے نمائندگان، نوجوانوں اور بزرگوں کی کثیر تعداد جنھوں نے بلاتکلف اپنے علاقائی مسائل پیش کیے۔

پس منظر: ہری پور میں بنیادی سہولیات کا نظام اور چیلنجز

ضلع ہری پور صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک اہم جغرافیائی اور صنعتی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران آبادی میں مسلسل اضافے، نئے رہائشی علاقوں کے قیام اور صنعتی پھیلاؤ کی وجہ سے یہاں کے بنیادی ڈھانچے بالخصوص پانی کی فراہمی اور فاضل مادوں کی تلفی کے نظام پر شدید دباؤ دیکھا گیا ہے۔

ہری پور کے دور افتادہ دیہی علاقوں اور کوٹ نجیب اللہ جیسے قدیم قصبوں میں صفائی کے پرانے طریقوں کو جدید تقاضوں پر استوار کرنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اسی مقصد کے لیے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ جدید مشینری اور منظم منصوبہ بندی کے ذریعے شہری و شبه شہری علاقوں میں صفائی کے نظام کو مؤثر بنائے۔

انتظامی اداروں کے مطابق ماضی میں عوامی شکایات کے حل میں وقت لگتا تھا، لیکن اس نوعیت کی کھلی کچہریوں کے مسلسل انعقاد سے اب محکموں کے افسران براہِ راست عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں، جس سے مسائل کے حل کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

پینے کے صاف پانی اور صفائی کے اثرات

کسی بھی ترقی یافتہ یا زیرِ ترقی معاشرے میں صاف پانی اور صفائی کا معیاری نظام دو ایسے بنیادی عناصر ہیں جن کا براہِ راست تعلق عوام کی صحت، روزمرہ زندگی اور معاشی پیداوار سے ہوتا ہے۔

کھلی کچہری کے دوران جی ایم آپریشنز محمد عمران عزیز کی جانب سے دیے گئے احکامات کے درج ذیل مثبت اثرات کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے:

  1. امراض سے بچاؤ: برسات اور گرمیوں کے دنوں میں گندے پانی کے جمع ہونے سے پیدا ہونے والی بیماریوں (مثلاً ڈینگی اور حیضہ) پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
  2. وسائل کی فراہمی: پائپ لائنوں کی بروقت مرمت سے پینے کے پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے گا اور آخری گھر تک صاف پانی کی رسائی ممکن ہو گی۔
  3. عوامی اطمینان: شہریوں کے مسائل کا فوری تدارک ہونے سے حکومتی اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔

باہمی تعاون اور مستقبل کی حکمتِ عملی

کھلی کچہری کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر ہری پور اور ڈبلیو ایس ایس سی کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض سرکاری اقدامات سے شہر اور قصبوں کو صاف ستھرا نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے شہریوں کا تعاون بھی اتنا ہی اہم ہے۔

ادارے کی جانب سے شہریوں سے درج ذیل اپیلیں کی گئیں:

  • کوڑا کرکٹ کھلی جگہوں یا نالیوں میں پھینکنے کی بجائے مقررہ کوڑا دانوں میں ڈالا جائے۔
  • پینے کے پانی کے بے جا استعمال اور ضیاع سے پرہیز کیا جائے۔
  • کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں ادارے کے ہیلپ لائن یا متعلقہ افسران کو بروقت مطلع کیا جائے۔

جائزہ اور آئندہ کے امکانات

کوٹ نجیب اللہ میں کھلی کچہری کا انعقاد اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ضلعی انتظامیہ ہری پور عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے میدان میں تحرک دکھا رہی ہے۔ سینیٹیشن کمپنی کی جانب سے موقع پر ہدایات کے صدور سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری ادارے اب روایتی کاغذی کارروائی کے بجا ئے عملی پیش رفت پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

اگر کھلی کچہریوں میں کیے گئے فیصلوں پر اسی جذبے سے عمل درآمد جاری رہا تو آنے والے دنوں میں ہری پور اور اس کے تمام مضافاتی علاقوں کے صفائی اور پانی کے مسائل پائیدار بنیادوں پر حل ہو سکیں گے۔

نتیجہ

کوٹ نجیب اللہ میں ڈپٹی کمشنر ہری پور کی صدارت میں منعقد ہونے والی کھلی کچہری ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی کے جی ایم آپریشنز محمد عمران عزیز کی جانب سے مسائل کے فوری سن گن لینے اور موقع پر احکامات جاری کرنے کے اقدام نے ثابت کیا ہے کہ عوامی خدمت کو اولین ترجیح بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں، انتظامیہ اور سروسز کمپنیوں کا یہ باہمی اشتراکِ عمل ہری پور کو ایک خوبصورت، صاف ستھرا اور صحت مند ضلع بنانے میں اہم ترین سنگِ میل ثابت ہو گا۔