پشاور (پریس ریلیز) پاکستان ہندکووان تحریک کے صوبائی صدر محمد اکبر سیٹھی نے صوبے کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو وسائل سے ہمکنار کرنے کے بجائے مسائل کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے۔اپنے ایک تندوتیز بیان میں انہوں نے موجودہ اور سابقہ حکومتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گڈ گورننس نام کی کوئی چیز نہیں اور قانون کی حکمرانی کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ اکبر سیٹھی نے کہا کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت نے گزشتہ 13 سالوں میں صوبے کو دھرنوں، جلاؤ گھیراؤ اور “چلو چلو اسلام آباد” کی سیاست کے سوا کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کارکردگی پوچھی جائے تو پرانے ہسپتالوں ایل آر ایچ، کے ٹی ایچ کا نام لے کر کریڈٹ لینے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ عملی طور پر عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنا وقت احتجاجی سیاست میں ضائع کیا اور اب نئے وزیر اعلیٰ بھی صوبائی مسائل کے حل کے بجائے دوروں میں مصروف ہیں، صوبائی صدر پاکستان ہندکووان تحریک نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور انڈسٹری کی بندش پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 3000 روپے اور گھی 600 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکا ہے۔ رمضان ابھی آیا نہیں اور مہنگائی کا ‘تڑکا’ ابھی سے لگنا شروع ہو گیا ہے۔ آٹے کا بحران سنگین ہو چکا ہے لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، انہوں نے وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدارا بے کار کی سیاست چھوڑیں اور صوبے کی عوام پر توجہ دیں۔ رمضان المبارک سے قبل اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 50 فیصد رعایت یقینی بنائی جائے، آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1000 روپے اور گھی 300 روپے فی کلو کی سطح پر لایا جائے۔ بجلی و گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو غریب عوام کے لیے ماہِ صیام کی خوشیاں برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
