کویت سٹی (خصوصی رپورٹ): مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین عسکری اور سیاسی بحران کے دوران ایک انتہائی سنسنی خیز اور ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ کویت کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ ملک پر دشمن قوتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ اس غیر معمولی فضائی جارحیت کے جواب میں کویت کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام فوری طور پر متحرک ہو چکا ہے اور اس وقت فضا میں دشمن کے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!کویتی فوج کا ہنگامی بیان اور دفاعی کارروائیاںکویتی فوج کے جنرل اسٹاف کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی بیان میں عوام کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے حوصلہ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ فوجی ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ دارالحکومت کویت سٹی اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں سنائی دینے والے شدید دھماکوں کی آوازیں دراصل کسی نقصان کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ کویت کے پیٹریاٹ اور دیگر جدید فضائی دفاعی نظاموں کی کارروائیوں کی آوازیں ہیں۔ یہ نظام دشمن کے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے لادے ڈرونز کو فضا میں ہی انٹرسیپٹ (راستے میں روک کر) کر کے تباہ کر رہا ہے، جس کے باعث فضا میں دھماکے ہو رہے ہیں۔ کویتی فورسز سرحدوں اور فضائی حدود کی نگرانی کو مزید سخت کرتے ہوئے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر ہائی الرٹ پر ہیں۔شہریوں کے لیے اہم ترین حفاظتی و سیکیورٹی ہدایاتکویتی دفاعی حکام نے ملک میں مقیم تمام شہریوں اور غیر ملکی تارکینِ وطن سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نازک گھڑی میں افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے مکمل نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ فوج کی جانب سے درج ذیل ہدایات جاری کی گئی ہیں:حفاظتی مقامات پر قیام: تمام افراد سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سیکیورٹی اور حفاظتی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کریں اور بلا ضرورت گھروں یا کھلی جگہوں پر نکلنے سے گریز کریں۔شیلٹرز اور محفوظ کمروں کا استعمال: دھماکوں یا سائرن کی آوازیں سنائی دینے کی صورت میں فوری طور پر عمارتوں کے اندرونی حصوں یا زیرِ زمین شیلٹرز میں پناہ لیں۔سرکاری ذرائع پر اعتماد: کسی بھی قسم کی غیر تصدیق شدہ ویڈیو یا افواہ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کیا جائے اور صرف وزارتِ دفاع اور سرکاری ٹی وی کے ذریعے نشر ہونے والی خبروں پر ہی یقین کریں۔حملے کا پس منظر اور عالمی تشویشدفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ کویت پر ہونے والا یہ حملہ حالیہ دنوں میں خطے کے اندر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کھینچا تانی، بحری ناکہ بندیوں اور ایران و امریکہ کے درمیان جاری شدید سفارتی و عسکری تعطل کا تسلسل ہو سکتا ہے۔ چونکہ کویت میں اہم امریکی عسکری تنصیبات اور ایئربیسز موجود ہیں، اس لیے اس تزویراتی خلیجی ملک کو نشانہ بنا کر عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی چین کو براہِ راست مفلوج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حملے کی خبر عام ہوتے ہی خلیج کی تمام مارکیٹوں اور بین الاقوامی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی طاقتوں نے فریقین سے ضبط و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے خطے کو ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کویتی فوج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح تیار اور لیس ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigation30 ارکان کا بائیکاٹ ؛ کیا پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات کی خبریں درست ثابت ہو گئیں؟ : ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کے محصولات میں کمی مزید بڑھ گئی ہے اور مالی سال 2025-26کے پہلے گیارہ ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران یہ 868 ارب روپے تک پہنچ گئی ۔