Preloader
List of members for development council

اہم نکات (خلاصہ)

  • کونسل کی تشکیل: خیبرپختونخوا کے 12 مختلف اضلاع اور بالخصوص ضم شدہ قبائلی علاقوں کی نمائندگی کے لیے 48 رکنی “علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل” کی حتمی فہرست کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
  • قیادت کا انتخاب: ضلع باجوڑ کے ترکانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے شوکت اللہ خان کونسل کے چیئرپرسن جبکہ شمالی وزیرستان کے وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک خان مرجان وائس چیئرپرسن مقرر ہوئے ہیں۔
  • قبائلی و علاقائی تناسب: کونسل میں باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں، ڈی آئی خان، ٹانک اور لکی مروت کے اہم تمنداروں، مشران اور قبائلی نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے۔
  • مقصد اور اثرات: کونسل کی تشکیل کا بنیادی مقصد ضم شدہ اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں پائیدار امن، مقامی تنازعات کے حل، اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی میں مقامی قیادت کو مؤثر بنانا ہے۔

خیبرپختونخوا میں مقامی نمائندگی کا نیا فریم ورک

خیبرپختونخوا کے قبائلی اور جنوبی اضلاع میں مقامی آبادی کی محرومیوں کے ازالے، انتظامی امور میں قبائلی مشران کو متحرک کرنے اور ترقیاتی حکمتِ عملی کو کامیاب بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت کی جانب سے صوبے کے 12 اضلاع پر مشتمل 48 رکنی “علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل” کے اراکین کے ناموں کی حتمی فہرست کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

اس کونسل کا بنیادی مقصد سابق فاٹا (ضم شدہ اضلاع) اور ان سے ملحقہ اضلاع میں مقامی برادریوں، مختلف اقوام اور قبائل کی یکساں نمائندگی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ علاقائی مسائل کو مقامی سطح پر فہم و فراست کے ساتھ حل کیا جا سکے اور سیکیورٹی و ترقیاتی امور میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

┌──────────────────────────────────────────────────────────────┐
│                  کونسل کی اعلیٰ ترین قیادت                   │
├───────────────────────────────┬──────────────────────────────┤
│ چیئرپرسن                      │ شوکت اللہ خان (ضلع باجوڑ)   │
│ وائس چیئرپرسن                │ ملک خان مرجان (شمالی وزیرستان) │
│ کل اراکین کی تعداد           │ 48 نمائندگان                 │
│ احاطہ شدہ اضلاع               │ 12 اضلاع                     │
└───────────────────────────────┴──────────────────────────────┘

مرکزی قیادت اور ضلعی اراکین کی تفصیلات

کونسل میں تمام اضلاع کے ممتاز قبائل، سیاسی و مذہبی شخصیات اور قانونی ماہرین کو متناسب جگہ دی گئی ہے۔ ذیل میں تمام 12 اضلاع اور ان سے منتخب ہونے والے اراکین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:

1. باجوڑ (4 نمائندگان)

باجوڑ سے کونسل کے چیئرپرسن شوکت اللہ خان کا انتخاب کیا گیا ہے جن کا تعلق ترکانی قبیلے سے ہے۔ باجوڑ کے دیگر نمائندگان میں درج ذیل نام شامل ہیں:

  • شہاب الدین خان (ترکانی قبیلہ)
  • ملک سلطان زیب (ترکانی قبیلہ)
  • حاجی لالی شاہ (ترکانی قبیلہ)

2. مہمند (3 نمائندگان)

ضلع مہمند کے تین مختلف قبائل سے نمائندے شامل کیے گئے ہیں:

  • ملک فیاض خان (خادی خیل خوزئی قبیلہ)
  • ملک نادر منان (بازئی قبیلہ)
  • ملک صاحب خان امبر (اتمان خیل قبیلہ)

3. خیبر (5 نمائندگان)

ضلع خیبر سے تمام پانچوں نمائندے آفریدی قبیلے کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھتے ہیں:

  • ملک عبدالرزاق آفریدی
  • ملک عزت اللہ آفریدی
  • ملک صلاح الدین آفریدی
  • ملک ظاہر شاہ آفریدی
  • شیریں خان آفریدی

4. کرم (5 نمائندگان)

ضلع کرم کے کثیر المذاہب اور کثیر القومی تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اہم قبائل کو متوازن نمائندگی دی گئی ہے:

  • منیر حسین بنگش (بنگش قبیلہ)
  • ملک عبدالولی خان (علی شیرزئی قبیلہ)
  • ملک زمین حسین (طوری قبیلہ)
  • سید ولی سید میاں (طوری قبیلہ)
  • احسان اللہ احسان (طوری قبیلہ)

5. اورکزئی (3 نمائندگان)

اورکزئی سے درج ذیل تین معززین کونسل کا حصہ بنے ہیں:

  • لال مان شاہ (علی خیل قبیلہ)
  • سید فخر عباس (سید قبیلہ)
  • فیض اللہ (مشتی قبیلہ)

6. شمالی وزیرستان (5 نمائندگان)

شمالی وزیرستان سے کونسل کے وائس چیئرپرسن ملک خان مرجان سمیت وزیر اور داوڑ قبائل کو شمولیت دی گئی ہے:

  • ملک خان مرجان – وائس چیئرپرسن (وزیر قبیلہ)
  • ملک نصراللہ (وزیر قبیلہ)
  • ملک حاجی شیر محمد (وزیر قبیلہ)
  • مفتی مصباح اللہ خان (داوڑ قبیلہ)
  • ملک حبیب خان (داوڑ / درپا خیل قبیلہ)

جنوبی اضلاع کی نمائندگی: وزیرستان سے ڈی آئی خان تک

کونسل میں جنوبی وزیرستان کے دونوں انتظامی حصوں سمیت بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور لکی مروت سے بھی جید شخصیات شامل کی گئی ہیں:

7. جنوبی وزیرستان – اپر (4 نمائندگان)

  • صالح شاہ (قریشی محسود قبیلہ)
  • ملک عرفان الدین احمد برکی (برکی قبیلہ)
  • ملک محمد رومان محسود (محسود قبیلہ)
  • ملک رمتال خان (محسود قبیلہ)

8. جنوبی وزیرستان – لوئر (4 نمائندگان)

  • ملک علاؤالدین وزیر (وزیر قبیلہ)
  • ملک جمیل توجی خیل (وزیر قبیلہ)
  • ملک معین الدین وزیر (وزیر قبیلہ)
  • ملک سردار عباس (سلیمان خیل قبیلہ)

9. بنوں (4 نمائندگان)

  • باز محمد خان (بنوچی قبیلہ)
  • مولانا عبدالغفار قریشی (بنوچی قبیلہ)
  • ملک شیریں (وزیر قبیلہ)
  • ملک احسان خان (وزیر قبیلہ)

10. ڈیرہ اسماعیل خان (4 نمائندگان)

  • عبدالحلیم (قصوریہ قبیلہ)
  • سردار آغاز خان (گنڈاپور قبیلہ)
  • سردار عباد خان (شیرانی قبیلہ)
  • قیضر خان ایڈووکیٹ (میاں خیل قبیلہ)

11. ٹانک (3 نمائندگان)

  • نوابزادہ عبدالوہاب (کاٹی خیل قبیلہ)
  • عبداللہ ننگیال (محسود قبیلہ)
  • عرفان اللہ کنڈی (کنڈی قبیلہ)

12. لکی مروت (4 نمائندگان)

  • مولانا عمر اشرفی (بٹانی قبیلہ)
  • ملک ادریس خان (مروت قبیلہ)
  • نجیب اللہ خان (مروت قبیلہ)
  • رحمت اللہ عرف متی (مروت قبیلہ)

کونسل کا پس منظر اور قیام کی ضرورت

سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے (25 ویں آئینی ترمیم) کے بعد جہاں ایک طرف ان علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے انتظامی اصلاحات کا آغاز کیا گیا، وہیں دوسری جانب روایتی جرگہ سسٹم اور سرکاری مشینری کے درمیان ایک فاصلہ جنم لے رہا تھا۔

قبائلی اضلاع میں امن و امان کی نازک صورتحال، معاشی مسائل اور سیکیورٹی چیلنجز کے باعث یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ ایک ایسا باضابطہ اور بااختیار پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے جس میں مقامی قبائل کے اثر و رسوخ رکھنے والے مشران، سیاسی نمائندے اور علما شامل ہوں۔ اس کونسل کا قیام انہی کوششوں کا تسلسل ہے تاکہ علاقائی سطح پر حکومتی اقدامات اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کیا جا سکے۔

ممکنہ اثرات اور کونسل کی ذمہ داریاں

تجزیہ کاروں کے مطابق، 48 رکنی علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کی فعال شمولیت سے درج ذیل مثبت اثرات کی توقع کی جا رہی ہے:

  • تنازعات کا تصفیہ: قبائلی اضلاع میں زمین کے تنازعات، بین القبیلہ کشیدگی اور مقامی مسائل کو باہم رضامندی سے حل کرنے میں یہ مشران کلیدی کردار ادا کریں گے۔
  • ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت: اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کی درست اور شفاف فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کونسل ایک واچ ڈاگ اور مشاوتی باڈی کے طور پر کام کرے گی۔
  • امن و امان کی بحالی: سیکیورٹی فورسز اور مقامی آبادی کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو فروغ دے کر خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مدد ملے گی۔

اس حتمی فہرست کے اعلان کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ کونسل جلد اپنا باقاعدہ اجلاس طلب کرے گی جس میں خطے کو درپیش ہنگامی نوعیت کے چیلنجز اور ترقیاتی ترجیحات پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔