اہم نکات (خبر کا خلاصہ) عہدے کی ذمہ داریاں: سینئر صحافی اور میڈیا شخصیت محمود جان بابر نے قبائلی اضلاع (ضم شدہ اضلاع) کے مشیر اطلاعات کا عہدہ باقاعدہ طور پر سنبھال لیا ہے۔ صحافی برادری کی مبارکباد: پشاور پریس کلب کے سابق جنرل سیکرٹریز، خیبر یونین آف جرنلسٹس (KhUJ) کے عہدیداروں اور سینئر صحافیوں نے انہیں مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤ کا اظہار کیا۔ میڈیا اور قبائلی اضلاع کا برج: ایک تجربہ کار صحافی کی اس اہم عہدے پر تعیناتی سے حکومت اور میڈیا بالخصوص ضم شدہ اضلاع کے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔ مشترکہ عزم: صحافتی رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ نو تعینات مشیر اطلاعات قبائلی اضلاع کی ترقی، صحافیوں کے مسائل کے حل اور معلومات کی منصفانہ فراہمی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ محمود جان بابر کا استقبال: پشاور پریس کلب اور صحافتی رہنماؤں کا تعظیمی قدم پشاور (خاص رپورٹ): خيبر پختونخوا کے قبائلی (ضم شدہ) اضلاع کے لیے مقرر کردہ نو منتخب مشیر اطلاعات محمود جان بابر کی جانب سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور کے سینئر صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں نے ان سے خصوصی ملاقات کی اور انہیں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ مبارکباد دینے والے ممتاز صحافتی وفد میں پشاور پریس کلب کے سابق جنرل سیکرٹریز عرفان موسیٰ زئی، طیب عثمان اعوان اور شہزادہ فہد شامل تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ خیبر یونین آف جرنلسٹس (KhUJ) کے سینئر نائب صدر عمران ایاز، ممتاز صحافی شہزاد رشید، سینئر صحافی سلیم خان، اور ویڈیو جرنلسٹس فورم کی نمائندگی کرتے ہوئے نیاز علی و دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔ ملاقات کے دوران صحافتی رہنماؤں نے محمود جان بابر کے لیے گلدستے پیش کیے اور ان کی نئی انتظامی اور روزمرہ امور کی انجام دہی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ صحافی برادری نے اس بات پر شدید خوشی کا اظہار کیا کہ صحافت کے میدان سے تعلق رکھنے والی ایک مستند اور تجربہ کار شخصیت کو قبائلی اضلاع کی ترجمانی کا اہم فریضہ سونپا گیا ہے۔ محمود جان بابر کا پروفائل اور صحافتی پس منظر محمود جان بابر کا شمار خیبر پختونخوا بالخصوص قبائلی اضلاع اور سرحد پار کی جیو پولیٹیکل صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کئی دہائیوں پر محیط اپنے صحافتی کیریئر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے معتبر اداروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مشکل ترین ادوار میں فیلڈ رپورٹنگ کی بلکہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کی محرومیوں، نقل مکانی (IDPs)، قبائلی رواج، اور بعد ازاں خیبر پختونخوا میں قبائلی علاقوں کے ضم ہونے (FATA Merger) کے عمل کا قریب سے مشاہدہ اور تجزياتی احاطہ کیا ہے۔ محمود جان بابر کی صحافتی خدمات کے نمایاں پہلو: فیلڈ رپورٹنگ کا وسیع تجربہ: قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) کے دور افتادہ علاقوں سے براہِ راست رپورٹنگ اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود حقائق عوام کے سامنے لانا۔ تجزیہ نگاری و فکر: قبائلی امور، افغان صورتحال اور سرحد پار علاقائی سیاست پر مستند تجزیے اور مضامین تحریر کرنا۔ صحافتی حقوق کی جدوجہد: صحافتی تنظیمی امور میں متحرک کردار اور پشاور پریس کلب کے پلیٹ فارم سے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے جدوجہد۔ قبائلی اضلاع کی معلومات اور میڈیا کا ملاپ: پس منظر اور ضرورت سنہ 2018ء میں آئینِ پاکستان میں 25ویں ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سابقہ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔ اس تاریخی انتظامی تبدیلی کے بعد قبائلی اضلاع میں بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی، انتظامی ساخت کی تبدیلی، صوبائی قوانین کے نفاذ اور معاشی ترقی کے لیے اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے گئے۔ تاہم، ان تمام اصلاحات کے باوجود قبائلی اضلاع کا میڈیا اور مرکزی دھارے سے رابطہ ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ معلومات کا فقدان (Information Gap) اور حکومتی پالیسیوں کی سست روی اکثر عوامی بے چینی اور غلط فہمیوں کا باعث بنتی رہی ہے۔ قبائلی اضلاع میں موجودہ صحافتی اور معلومات کے چیلنجز: مقامی صحافیوں کو درپیش مشکلات: قبائلی اضلاع میں فیلڈ پر کام کرنے والے صحافیوں کو لاجسٹک سہولیات، سیکیورٹی اور پریس کلبز کی تعمیر و ترقی کے مسائل درپیش ہیں۔ معلومات کا تیز رفتار تبادلہ: صوبائی حکومت اور مقامی قبائلی عوام کے درمیان مواصلاتی پل (Communication Bridge) کی مضبوطی۔ حکومتی منصوبوں کی آگاہی: ضم شدہ اضلاع میں جاری ترقیاتی کاموں، صحت کارڈ، ایجوکیشن فنڈز اور دیگر عوامی بہبود کے منصوبوں کو موثر طریقے سے اجاگر کرنا۔ ان تمام معروضات کے پیش نظر، ایک تجربہ کار اور قبائلی امور سے واقف صحافی کو مشیر اطلاعات مقرر کرنا ایک انتہائی بروقت اور دور اندیشانہ فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ملاقات میں صحافتی رہنماؤں کا موقف اور توقعات مبارکباد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پشاور پریس کلب کے سابق جنرل سیکرٹریز عرفان موسیٰ زئی، طیب عثمان اعوان اور شہزادہ فہد نے کہا کہ محمود جان بابر کی اس عہدے پر تعیناتی تمام صحافی برادری کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ایک ایسا شخص جو خود صحافیوں کی مشکلات، فیلڈ کی سختیوں اور میڈیا اداروں کی کارکردگی سے اچھی طرح واقف ہو، وہ حکومتی سطح پر ذرائع ابلاغ کی ضروریات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر عمران ایاز اور صحافی شہزاد رشید نے اس امید کا اظہار کیا کہ نو تعینات مشیر اطلاعات حکومت اور میڈیا کے درمیان تعلقات کو مزید خوشگوار اور مضبوط بنائیں گے۔ صحافتی برادری کی اہم توقعات: قبائلی صحافیوں کے مسائل کا حل: ضم شدہ اضلاع میں پریس کلبز کا فعال قیام، صحافیوں کی سیکیورٹی اور ان کے لیے مالی و روایتی سہولیات کی فراہمی۔ شفافیت اور معلومات تک رسائی: قبائلی اضلاع کے لیے رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) کے اطلاق کو یقینی بنانا اور سرکاری موقف کو بروقت میڈیا تک پہنچانا۔ ویڈیو و فوٹو جرنلسٹس کی سرپرستی: فیلڈ میں کام کرنے والے کیمرہ مینز اور ویڈیو جرنلسٹس کی تربیت اور ان کے پیشہ ورانہ تحفظ کو یقینی بنانا۔ مشیر اطلاعات محمود جان بابر کا ردعمل اور عزم صحافتی وفد کی جانب سے مبارکباد اور خیرمقدم کا جواب دیتے ہوئے نو تعینات مشیر اطلاعات محمود جان بابر نے تمام صحافتی رہنماؤں، بالخصوص پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ان کا بنیادی اوڑھنا بچھونا رہی ہے اور وہ صحافتی برادری کی حمایت اور بھروسے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “قبائلی اضلاع کی ترقی اور وہاں کے لوگوں کے مسائل کو حل کرنا حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ بطور مشیر اطلاعات میری کوشش ہوگی کہ قبائلی اضلاع کی سچی تصویر، وہاں کی مثبت پیش رفت اور عوامی خدشات کو حکومت اور میڈیا دونوں کے سامنے شفاف طریقے سے رکھوں۔ قبائلی صحافی ہمارے دست و بازو ہیں اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ پشاور پریس کلب اور تمام صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر ذرائع ابلاغ کی بہتری، صحافیوں کی ورکشاپس اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ ایڈیٹوریل نوٹ (تجزیاتی جائزہ) صحافتی اور سیاسی ماہرین کے مطابق محمود جان بابر کی بطور مشیر اطلاعات قبائلی اضلاع تعیناتی ایک مثبت سیاسی و صحافتی پیش رفت ہے۔ صوبائی حکومتوں کا اکثر یہ گلہ رہتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والی مثبت انتظامی اور معاشی پیش رفت کو میڈیا میں وہ جگہ نہیں ملتی جس کی وہ حقدار ہے، جبکہ صحافیوں کو شکایت رہتی ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں سے بروقت اور درست سرکاری معلومات تک رسائی نہیں ملتی۔ محمود جان بابر کی موجودگی اس تعطل (Deadlock) کو ختم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک پیشہ ور صحافی جب انتظامی یا حکومتی مسند پر بیٹھتا ہے تو وہ دونوں اطراف کی مجبوریوں اور تقاضوں کو بخوبی سمجھتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ تعیناتی نہ صرف ضم شدہ اضلاع میں حکومتی اقدامات اور عوام کے درمیان ابلاغی فاصلے کو کم کرے گی بلکہ قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے کٹھن صحافتی ماحول کی بہتری کے لیے بھی ایک نیا باب ثابت ہوگی۔ Post navigation سوات میں غیر قانونی رکشوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی مشترکہ کارروائیاں، متعدد رکشے بند پشاور: تھانہ گلبرگ پولیس کی بڑی کارروائی، قمار بازی کا اڈا تباہ، لاکھوں روپے نقد رقم اور آلاتِ قمار بازی سمیت 6 ملزمان گرفتار