Preloader
Man rescued from K2 base

اہم نکات (خلاصہ)

  • خطرناک پیش آمدہ واقعہ: گلگت بلتستان کے ضلع شگر کے آخری رہائشی گاؤں اسکولی میں برفباری کا منظر دیکھنے کی خواہش میں ایک شہری کھائی یا گہرے برفانی کھڈ میں جا گرا اور 3 گھنٹے تک برف میں دھنسا رہا۔
  • مقامی افراد کا جرات مندانہ اقدام: خون جما دینے والی منفی درجہ حرارت کی شدید سردی میں مقامی باشندوں نے اپنی مدد آپ کے تحت، رسیوں کے استعمال سے انتہائی دشوار گزار جگہ پر جا کر شہری کو بحفاظت باہر نکالا۔
  • طبی صورتحال: تین گھنٹے تک برف کی آغوش میں رہنے کے باعث شہری شدید ‘ہائیپوتھرمیا’ (جسمانی حرارت کے خاتمے) کا شکار ہو چکا تھا، تا ہم بروقت ریسکیو کی بدولت اس کی زندگی بچا لی گئی۔
  • سیاحتی انتباہ: انتظامیہ اور مقامی باشندوں نے سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ برفباری کے موسم میں کے ٹو کی بیس کیمپ شاہراہ اور ملحقہ برفانی علاقوں میں غیر محتاط ایڈونچر اور خطرات سے پرہیز کریں۔

شگر، اسکولی (خاص رپورٹ)

عالمی شہرت یافتہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ‘کے ٹو’ کے دامن میں واقع ضلع شگر کے دور افتادہ اور سحر انگیز گاؤں اسکولی میں ایک سنسنی خیز اور معجزانہ واقعہ پیش آیا ہے، جہاں شدید برفباری اور برف دیکھنے کی خواہش میں خطرہ مول لینے والا ایک شہری 3 گھنٹے تک جمی ہوئی برف میں دھنسے رہنے کے بعد موت کے منہ سے بال بال بچ گیا۔ منفی درجہ حرارت اور ہڈیوں کو گلا دینے والی برفانی ہوائیں جب اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کے قریب تھیں، تب مقامی جرات مند جوان فرشتہ بن کر پہنچے اور رسیوں کی مدد سے اسے ریسکیو کر لیا۔

اسکولی کو دنیا کے خطرناک ترین اور خوبصورت ترین ٹریکنگ روٹس کا گیٹ وے (Gateway) مانا جاتا ہے۔ واقعے کے مطابق، مذکورہ شہری برفباری کے دلفریب نظارے دیکھنے کے لیے علاقے کے خطرناک اور برف سے ڈھکے راستے پر چلا گیا، جہاں پیر پھسلنے کی وجہ سے وہ برف کے ایک گہرے کھڈ اور گلیشیر کے کنارے پر جا گرا اور برف کی دبیز تہوں میں دھنس گیا۔

ریسکیو کی تفصیلی داستان: جب مقامی باشندے فرشتے بن گئے

جب شہری کافی دیر تک واپس نہ لوٹا اور اس کے غائب ہونے کی خبر پھیلی، تو اسکولی کے مقامی لوگوں اور تجربہ کار گائیڈز نے فوری طور پر کھوج لگانا شروع کیا۔ جائے وقوعہ کا سراغ ملتے ہی گاؤں کے نوجوانوں نے بلا تاخیر اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔

اس ریسکیو آپریشن کے اہم اور حیرت انگیز پہلو درج ذیل ہیں:

  1. غیر معمولی جغرافیائی چیلنج: واقعہ جس مقام پر پیش آیا، وہاں کا درجہ حرارت منفی 10 سے منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے گر چکا تھا، جس میں چند منٹ کھلے آسمان تلے رہنا بھی محال ہوتا ہے۔
  2. برف کی جکڑ: متاثرہ شخص تقریباً 3 گھنٹے تک برف کی تہہ کے اندر جکڑا رہا، جس سے اس کے ہاتھ، پاؤں اور جسمانی اعضاء مکمل طور پر سن (Numb) ہو چکے تھے۔
  3. رسیوں کے ذریعے باہمت کارروائی: مقامی جوانوں نے انتہائی احتیاط اور حکمت عملی کے ساتھ خود کو رسیوں سے باندھا اور گہرے کھڈ میں اتر کر متاثرہ شخص تک پہنچے۔
  4. حواس باختگی اور بچاؤ: متاثرہ شخص کو رسیوں کے ذریعے کھینچ کر بحفاظت باہر نکالا گیا اور فوری طور پر گاؤں میں گرمائش اور ابتدائی طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اگر مقامی نوجوان 15 سے 20 منٹ مزید تاخیر کر دیتے تو شدید ٹھنڈ سے جسم کے جم جانے (Hypothermia / Frostbite) کے باعث شہری کی جان بچانا ناممکن ہو جاتا۔

گلگت بلتستان میں برفباری کا پس منظر اور سیاحتی خطرات

ضلع شگر کا گاؤں اسکولی ‘کے ٹو’ (K2)، ‘براڈ پیک’، اور ‘گاشر برم’ جیسی عظیم الشان چوٹیوں کی طرف جانے والے کوہ پیماؤں کا آخری انسانی مسکن ہے۔ نومبر سے مارچ کے مہینوں میں یہ پورا خطہ شدید برفباری، گلیشیرز کے سرکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں رہتا ہے۔

حالیہ سالوں میں شمالی علاقہ جات اور بالخصوص سکردو و شگر میں ‘ونٹر ٹورازم’ (موسمِ سرما کی سیاحت) اور برفباری دیکھنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ تا ہم، اکثر سیاح مقامی ماحول، گلیشیرز کی ساخت اور برفانی حادثات کے خطرات سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے:

  • غیر تربیت یافتہ ایڈونچر: بغیر کسی مقامی گائیڈ، مناسب سامان، گرم لباس اور گرپ والے جوتوں (Spikes) کے برفانی راستوں پر جانا انتہائی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
  • برفانی جھیلوں اور کھڈوں کی موجودگی: تازہ برف کی تہہ کے نیچے اکثر گہرے شگاف (Crevasses) اور پانی کے راستے چھپے ہوتے ہیں جو بظاہر ہموار نظر آتے ہیں لیکن ان پر قدم رکھتے ہی انسان نیچے دھنس جاتا ہے۔
  • مواصلاتی نظام کی عدم دستیابی: اسکولی جیسے دور افتادہ علاقوں میں اکثر موبائل نیٹ ورک اور سگنلز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہنگامی حالت میں فوری رابطہ ناممکن ہو جاتا ہے۔

طبی نقطۂ نظر: ‘ہائیپوتھرمیا’ اور برف میں پھنسنے کے اثرات

طبی ماہرین کے مطابق، منفی درجہ حرارت میں طویل عرصے تک برف کے اندر جکڑے رہنے سے انسان کا جسمانی درجہ حرارت (Core Body Temperature) خطرناک حد تک گر جاتا ہے، جسے ہائیپوتھرمیا (Hypothermia) کہا جاتا ہے۔

اس حالت میں انسانی جسم پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں:

  • دورانِ خون کا سست ہونا: دل اور خون کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں تاکہ مرکزی اعضاء کو گرم رکھا جا سکے، جس کے نتیجے میں ہاتھ اور پاؤں شل ہو جاتے ہیں۔
  • دماغی حواس کی معطلی: آکسیجن اور گرمائش کی کمی کے باعث انسان غنودگی، بے ہوشی اور حواس باختگی کا شکار ہونے لگتا ہے۔
  • فراسٹ بائٹ (Frostbite): جلد کے خلیے اور گوشت جم کر ضائع ہونے لگتے ہیں، جو بدترین صورت میں اعضاء کی کٹائی کا باعث بنتے ہیں۔

متاثرہ شخص کا 3 گھنٹے تک اس جان لیوا ماحول میں بقا کی جنگ لڑنا اور زندہ سلامت نکل آنا ایک طبی معجزے سے کم نہیں۔

مقالین کی بہادری اور انتظامیہ کا ردِعمل

اسکولی کے مقامی باشندوں کی اس بے مثال جرات اور انسانیت نوازی پر سوشل میڈیا، صحافتی اور مقامی عوامی حلقوں کی جانب سے انہیں شدید خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ‘کے ٹو’ کے دامن میں بسنے والے یہ پورٹرز اور گائیڈز نہ صرف کوہ پیماؤں کی مدد کے لیے شہرت رکھتے ہیں بلکہ ہر مشکل گھڑی میں انسانی زندگیوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں جوکھوں میں ڈالنے سے دریغ نہیں کرتے۔

مقامی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) شگر نے شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ:

  1. مقامی گائیڈز کے بغیر سفر نہ کریں: شدید برفباری کے دنوں میں نامعلوم اور خطرہ زدہ علاقوں کا رخ ہرگز نہ کریں۔
  2. موسمیاتی اطلاعات پر عمل کریں: محکمہ موسمیات کی پیشگوئی اور انتظامیہ کی ہدایات کے بغیر برفانی ٹریکس پر نہ جائیں۔
  3. ہنگامی حفاظتی سامان: سیاح اپنے ساتھ ٹریکنگ پولز، ہنگامی رسی، گرم تھرمل کٹس اور فرسٹ ایڈ باکس لازمی رکھیں۔

نتیجہ (Editorial Conclusion)

شگر کے گاؤں اسکولی میں پیش آنے والا یہ واقعہ جہاں فطرت کی سختی اور برفباری کے سحر میں چھپے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے، وہیں یہ مقامی آبادی کے ایثار، جرات اور انسانی دردمندی کا ایک جیتا جاگتا ثبوت بھی ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کے ٹو کے دامن میں بسنے والے یہ سر بفلک پہاڑوں کے بیٹ ہی اس خطے کا حقیقی اور مضبوط ترین دفاعی نظام ہیں۔ تا ہم، ضروری ہے کہ سیاح اور مقامی افراد قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے وقت حفاظتی تدابیر اور عقل و شعور کو مقدم رکھیں تاکہ خوشی کا کوئی لمحات کسی المناک سانحے میں تبدیل نہ ہو۔