Preloader
NAB to the investigate Health Card Plus

اہم نکات (خلاصہ)

  • تحقیقات کا دائرہ کار: قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے صوبے کے فلیگ شپ ‘صحت کارڈ پلس’ پروگرام میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور فنڈز کے عدم شفاف استعمال کی اطلاعات پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
  • سرکاری اور نجی اداروں سے ریکارڈ طلب: نیب ذرائع کے مطابق محکمہ صحت خیبرپختونخوا، اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی اور مختلف پینل ہسپتالوں سے علاج معالجے کے اخراجات اور انشورنس کلیمز کا جامع ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
  • جعلی کلیمز اور نااہل ہسپتال: ابتدائی معلومات کے مطابق تحقیقات کا بنیادی محور جعلی میڈیکل کلیمز، بغیر ضوابط کے ہسپتالوں کی پینل میں شمولیت، اور بعض نجی ہسپتالوں کو خلاف قانون بھاری ادائیگیاں کرنا ہے۔
  • پروگرام کا پس منظر: ‘صحت کارڈ پلس’ صوبہ خیبرپختونخوا کا ایک اہم فلاحی منصوبہ ہے جس کے تحت صوبے کے لاکھوں خاندانوں کو سالانہ مفت علاج کی سہولت میسر ہے، تاہم فنڈز کے بحران اور بے ضابطگیوں کے خدشات کے باعث یہ اسکیم پہلے بھی خبروں کی زینت بنتی رہی ہے۔

پشاور: خبر کی تفصیلات

قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے صوبے کے تاریخی اور اہم ترین فلاحی منصوبے ‘صحت کارڈ پلس’ میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، غیر شفاف طریقہ کار اور فنڈز کے غلط استعمال کی موصول ہونے والی شکایات پر باضابطہ تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب نے ابتدائی معلومات اور دستاویزات کی روشنی میں کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا صحت کارڈ پروگرام کے تحت مختص کیے گئے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ شفاف انداز میں مستحق شہریوں کے علاج پر خرچ ہوا ہے یا اس میں مبینہ طور پر مالی بدعنوانی، افسرشاہی کی لاپرواہی اور نجی ہسپتالوں کا گٹھ جوڑ شامل رہا ہے۔

                    ┌─────────────────────────────────────────┐
                    │      نیب خیبرپختونخوا تحقیقاتی دائرہ    │
                    └────────────────────┬────────────────────┘
                                         │
         ┌───────────────────────────────┼───────────────────────────────┐
         ▼                               ▼                               ▼
┌─────────────────┐             ┌─────────────────┐             ┌─────────────────┐
│  محکمہ صحت KP   │             │ اسٹیٹ لائف انشورنس│             │  پینل ہسپتال    │
│  (پالیسی و کلیمز) │             │ (فنڈز کی منتقلی) │             │ (علاج و معائنہ) │
└─────────────────┘             └─────────────────┘             └─────────────────┘

تحقیقات کا نقطہ آغاز اور ممکنہ بے ضابطگیاں

نیب خیبرپختونخوا کو موصول ہونے والی مختلف شکایتوں اور ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، پروگرام کے اندر کئی سطحوں پر ضوابط کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب جن اہم پہلوؤں پر تحقیقات کر رہا ہے، ان میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

1. جعلی میڈیکل کلیمز اور بلا ضرورت سرجریز

اطلاعات ہیں کہ چند نجی ہسپتالوں نے صحت کارڈ کے تحت ایسے مریضوں کے اندراج اور علاج کے کلیمز جمع کرائے جو یا تو سرے سے ہوئے ہی نہیں، یا پھر معمولی بیماریوں پر بڑی اور مہنگی سرجریز کے فرضی کاغذات تیار کیے گئے۔

2. معیار سے محروم ہسپتالوں کی ایمپینلمنٹ (پینل میں شمولیت)

صحت کارڈ پروگرام کے تحت صرف ان ہسپتالوں کو پینل پر لیا جانا تھا جو صحت کے طے شدہ عالمی و قومی معیار پر پورا اترتے ہوں۔ تاہم، الزام ہے کہ سیاسی سفارشات اور رشوت کی بنیاد پر کئی ایسے چھوٹے اور غیر معری نجی کلینکس اور ہسپتالوں کو بھی شامل کیا گیا جہاں بنیادی طبی سہولیات تک میسر نہیں تھیں۔

3. ادویات اور آلات کی من مانی قیمتیں

پینل ہسپتالوں کی جانب سے مریضوں کو فراہم کی جانے والی ادویات، اسٹینٹس، اور دیگر جراحی کے آلات کی قیمتیں مارکیٹ کے عام نرخوں سے کہیں زیادہ وصول کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جس سے سرکاری خزانے پر بھاری بوجھ پڑا۔

4. انشورنس پریمیئم اور تاخیر سے ادائیگیاں

اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کو جاری کیے جانے والے پریمیئم کے فنڈز کی منتقلی اور بعد ازاں ہسپتالوں کو کلیمز کی ادائیگیاں کرنے کے عمل میں بھی شفافیت کے فقدان اور مبینہ تاخیر کی شکایات کی جانچ کی جا رہی ہے۔

‘صحت کارڈ پلس’ کا پس منظر اور سفر

صحت کارڈ پلس خیبرپختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا سوشل سیکیورٹی اور فلاحی منصوبہ شمار ہوتا ہے۔ اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز صوبائی حکومت نے اس عزم کے ساتھ کیا تھا کہ صوبے کا ہر شہری، خواہ اس کی مالی حیثیت کچھ بھی ہو، معیاری صحت کی سہولیات حاصل کر سکے گا۔

  • وسعت: اس اسکیم کے تحت صوبے کے تمام رجسٹرڈ خاندانوں کو سالانہ 10 لاکھ روپے تک مفت علاج فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
  • شمولیت: اس اسکیم میں صوبے کے اربوں روپے کی لاگت سے 100 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتالوں کو پینل پر شامل کیا گیا۔
  • عوامی مقبولیت: ابتدائی سالوں میں اس منصوبے کو عوامی سطح پر انتہائی پذیرائی ملی اور لاکھوں غریب مریضوں نے دل کے عارضے، کینسر، گردوں کے پیوند کاری اور دیگر موذی بیماریوں کا مفت علاج کرایا۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ، اس منصوبے کو شدید فنڈز کی قلت، صوبائی بجٹ کے مسائل اور انشورنس کمپنیوں کو بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے بارہا معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی بار خبریں سامنے آئیں کہ نجی ہسپتالوں نے بقیہ جات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے صحت کارڈ پر مریضوں کا علاج روک دیا۔

ڈیٹا اور اعداد و شمار: صحت کارڈ کا حجم اور خدشات

مندرجہ ذیل چارٹ اور معطیات کے ذریعے صحت کارڈ کے دائرہ کار اور درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا جا سکتا ہے:

پہلوتفصیلات / اعداد و شمار
مجموعی احاطہ (کوریج)خیبرپختونخوا کے تقریباً 90 لاکھ سے زائد خاندان
مختص سالانہ رقم10 لاکھ روپے فی خاندان (سالانہ)
سالانہ تخمینہ لاگت25 ارب روپے سے 30 ارب روپے (تخمینہ)
تحقیقات کا مرکزگزشتہ 3 سال کے دوران جمع کرائے گئے کلیمز اور انشورنس ریکارڈ
مبینہ مالی نقصاناربوں روپے کے غیر ضروری و جعلی کلیمز کا خدشہ

عوامی ردعمل اور ماہرین صحت کی رائے

صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور طبی برادری نے نیب کی جانب سے اس منصوبے کی شفاف تحقیقات کے قدم کو ملے جلے ردعمل کے ساتھ دیکھا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ “صحت کارڈ ایک بہترین اور غریب پرور منصوبہ ہے، لیکن اس میں بدعنوانی کی گنجائش ختم کرنا انتہائی ضروری تھا۔ اگر نجی ہسپتالوں نے مریضوں کے نام پر فراڈ کیا ہے یا غیر معیاری ہسپتالوں کو پینل پر لیا گیا ہے تو اس پر کڑا احتساب ہونا چاہیے تاکہ واقعی حقدار اور غریب مریضوں تک اس اسکیم کے ثمرات پہنچ سکیں۔”

دوسری جانب، عام شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کی تحقیقات کی وجہ سے یہ اہم فلاحی منصوبہ رکنا نہیں چاہیے، بلکہ جن کالی بھیڑوں نے اس منصوبے کو نقصان پہنچایا ہے، محض ان کے خلاف بلا تفریق اور شفاف کارروائی ہونی چاہیے۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ کا لائحہ عمل

ذرائع کے مطابق نیب خیبرپختونخوا کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم جلد ہی محکمہ صحت، اسٹیٹ لائف کے حکام اور معائنہ کرنے والی کمیٹیوں کے اراکین کو بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کرے گی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اگر مالی بے ضابطگیوں کے ٹھوس شواہد مل گئے تو باقاعدہ انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کر کے ریفرنس دائر کیا جائے گا۔

فی الوقت صوبائی حکومت کی جانب سے نیب نوٹس پر باقاعدہ موقف سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نیب کے ساتھ مکمل تعاون کرنے اور صحت کارڈ پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ: یہ خبر دستیاب ذرائع، ابتدائی اطلاعات اور صوبائی اداروں کے جاری کردہ معلومات کی بنیاد پر معروضیت اور صحافتی اصولوں کے تحت تیار کی گئی ہے۔ نیب کی جانب سے تاحال باضابطہ حتمی چارج شیٹ جاری نہیں کی گئی، لہٰذا تحقیقات کے بعد ہی مالی بے ضابطگیوں کے حقیقی حجم اور ذمہ داران کا تعین ہو سکے گا۔