google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
NAB uploaded housing societies data

کراچی (نیوز ڈیسک) – نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت لانے اور شہریوں کو فراڈ سے بچانے کے لیے ایک بڑے ڈیجیٹل سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئے آن لائن پورٹل کے ذریعے ملک بھر کی 1,026 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے منظور شدہ لے آؤٹ پلانز (نقشے) اب عام عوام کے لیے صرف ایک کلک پر دستیاب ہوں گے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

منصوبے کا مقصد اور اعلان

اس اہم منصوبے کا اعلان ڈی جی نیب کراچی، شکیل احمد درانی اور ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی، وقار احمد چوہان نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے دورے کے موقع پر کیا۔ نیب حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد:

  • مستحقین اور خریداروں کے حقوق کا تحفظ کرنا۔
  • بلڈرز کے لیے قوانین کو سادہ بنا کر تعمیراتی عمل میں آسانی پیدا کرنا۔
  • کاروباری برادری کو ہراساں کیے جانے کے عمل کو کم کرنا۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار

ڈی جی نیب راولپنڈی وقار احمد چوہان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار رئیل اسٹیٹ ڈیٹا کو اس بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی کا ذکر کیا جہاں شہری ادائیگیوں کے باوجود پلاٹ فائلوں کے حصول کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

زمینوں کی واگزاری اور ریکوری

ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے انکشاف کیا کہ نیب نے اب تک صوبائی سطح پر 1.5 ٹریلین روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرائی ہے، جبکہ مزید 10 ٹریلین روپے کے اثاثے ریکور کرنے کا اسٹریٹجک پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ:

  1. سندھ حکومت کے ساتھ مل کر زمینوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک جوائنٹ ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے۔
  2. واگزار کرائی گئی زمینوں کو عوامی مفاد کے لیے پبلک پارکس میں تبدیل کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
  3. شفافیت کے لیے زمینوں کی الاٹمنٹ کے بجائے انہیں اوپن نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کی حمایت کی گئی ہے۔

بلڈرز اور ڈویلپرز کا ردعمل

چیئرمین ‘آباد’ محمد حسن بخشی نے نیب کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک بار جب نیب کسی زمین کے ٹائٹل کو کلیئرنس دے دے، تو بعد میں بلڈرز کے خلاف بلاوجہ مقدمات درج نہیں ہونے چاہئیں تاکہ تعمیراتی صنعت ترقی کر سکے۔

عوام کے لیے مشورہ

نیب حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے نیب کے آن لائن پورٹل پر جا کر اس کے منظور شدہ نقشے اور قانونی حیثیت کی تصدیق لازمی کریں تاکہ وہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے مالی نقصان یا دھوکہ دہی سے بچ سکیں۔


About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025