کوٹری (محمد نصیر ساگر کی رپورٹ): محکمہ صحت اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی مجرمانہ غفلت کے باعث کوٹری اور گردونواح میں انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا مکروہ دھندہ دندناتے ہوئے جاری ہے۔ نجی کلینکس اور میڈیکل اسٹورز پر غیر تربیت یافتہ عملے کی موجودگی اور عطائی ڈاکٹروں کے دندناتے پھرنے نے معصوم شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ حال ہی میں خورشید کالونی میں ایک چھ سالہ معصوم بچی کی مبینہ طبی غفلت کے باعث ہونے والی ہلاکت نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، مگر اس کے باوجود متعلقہ اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ عوام سڑکوں پر انصاف کے لیے پکار رہے ہیں، لیکن ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اہم نکات (خلاصہ) کوٹری کے نجی کلینکس اور میڈیکل اسٹورز پر غیر تربیت یافتہ اور کمسن لڑکوں کی بطور عملہ تعیناتی نے سنگین طبی خطرات کو جنم دے دیا ہے۔ خورشید کالونی میں مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگنے سے چھ سالہ بچی جاں بحق ہو گئی، جس پر والد نے ڈاکٹر مشرف کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے محکمہ صحت، ڈرگ انسپکٹر اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بغیر لائسنس چلنے والے طبی مراکز اور عطائیوں کے خلاف فوری چھاپہ مار کارروائیاں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کوٹری میں صحت کا نظام مافیا کے رحم و کرم پر کوٹری اور اس کے گردونواح میں نجی طبی مراکز، کلینکس اور میڈیکل اسٹورز کی بھرمار ہے، لیکن ان اداروں پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے۔ اکثر نجی کلینکس ایسے افراد کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں جن کا دور دور تک میڈیکل کے شعبے سے کوئی تعلق نہیں۔ قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نام نہاد ڈاکٹرز انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے بھیانک روپ یہ ہے کہ اب ادویات کی خرید و فروخت اور مریضوں کو خوراک یا انجیکشن دینے جیسے انتہائی حساس امور کے لیے بھی غیر پیشہ ور افراد کو رکھا جا رہا ہے، جنہیں بنیادی طبی اصولوں کا بھی علم نہیں ہوتا۔ میڈیکل اسٹورز پر کمسن اور نائبین کا راج تحقیقات اور شہریوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، کوٹری کے متعدد میڈیکل اسٹورز پر سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں عروج پر ہیں۔ صورتحال کا اندازہ درج ذیل حقائق سے لگایا جا سکتا ہے: کم عمر عملے کی تعیناتی: کئی میڈیکل اسٹورز پر محض پندرہ سال کی عمر کے ناسمجھ لڑکوں کو معمولی اجرت (روزانہ دو سے تین سو روپے) پر نوکری پر رکھا گیا ہے۔ فارماسسٹ کی عدم موجودگی: قانون کے مطابق کسی بھی میڈیکل اسٹور پر ادویات کی فراہمی کے وقت مستند فارماسسٹ کا ہونا لازمی ہے، لیکن یہاں اس قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ جان لیوا خطرات: ناسمجھ اور نوآموز لڑکے ڈاکٹروں کے نسخوں کو سمجھے بغیر خود ہی گاہکوں کو طاقتور ادویات، اینٹی بائیوٹکس اور سیرپ تھما رہے ہیں، جس سے کسی بھی وقت کوئی بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈرگ ایکٹ اور متعلقہ قوانین صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہیں؟ آخر کیوں ضلعی انتظامیہ ان میڈیکل اسٹورز کے مالکان کے خلاف کارروائی کرنے سے کتراتی ہے؟ خورشید کالونی کا دل دہلا دینے والا واقعہ: معصوم بچی زندگی کی بازی ہار گئی شہر کے حالات کی سنگین تصویر اس وقت سامنے آئی جب خورشید کالونی میں ایک خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ چھ سالہ معصوم بچی معمولی بیماری کے علاج کے لیے ایک مقامی کلینک پر لائی گئی تھی۔ متاثرہ بچی کے والد کے شدید الزامات کے مطابق، کلینک پر موجود مبینہ ڈاکٹر مشرف کی جانب سے بچی کو ایک انجیکشن لگایا گیا، جس کے لگتے ہی معصوم بچی کی حالت تیزی سے بگڑ گئی۔ حالت غیر ہونے پر گھبرائے ہوئے لواحقین نے اسے فوری طور پر کوٹری کے سرکاری اسپتال منتقل کیا، مگر وہاں پہنچنے تک بہت دیر ہو چکی تھی اور ڈاکٹروں نے بچی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی۔ اس المناک واقعے نے پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ والدین کا یہ سوال ہر باشعور شہری کے دل میں کھٹک رہا ہے کہ آخر ان کے بچوں کی جانوں کی کوئی قیمت کیوں نہیں ہے؟ محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ خاموشی کوٹری کے باشعور شہریوں، سماجی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کی چشم پوشی دراصل ان غیر قانونی عناصر کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔ شہری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وقت پر نوٹس لیا جاتا تو شاید معصوم بچی کی جان بچ سکتی تھی۔ بار بار کی شکایات کے باوجود متعلقہ محکموں کے افسران اپنے دفاتر سے باہر نکلنے اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ عوامی مطالبات: فوری انصاف اور سخت کارروائی موجودہ سنگین حالات کے پیش نظر عوام اور سماجی حلقوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے درج ذیل فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے: اچانک اور سخت انسپیکشن: کوٹری کے تمام نجی کلینکس، میٹرنٹی ہومز اور میڈیکل اسٹورز کی غیر اعلانیہ اور اچانک جانچ پڑتال کی جائے تاکہ بوگس ڈگریوں اور غیر قانونی مراکز کا قلع قمع کیا جا سکے۔ شفاف تحقیقات: خورشید کالونی میں بچی کی ہلاکت کے واقعے کی اعلیٰ سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ ڈاکٹر مشرف کے کلینک کا ریکارڈ، استعمال شدہ انجیکشن اور ادویات کی جانچ کی جائے۔ طبی غفلت پر کٹہرہ: اگر تحقیقات میں طبی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داران کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عملے کی جانچ پڑتال: تمام میڈیکل اسٹورز کے مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ صرف مستند اور تجربہ کار فارماسسٹ اور اہل عملے کو رکھیں، اور کمسن بچوں سے یہ خطرناک کام فوری بند کروائے جائیں۔ نتیجہ کوٹری کے غریب اور محنت کش عوام آج بھی بنیادی صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں اور جو نجی ادارے اس خلا کو پر کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ انسانی جانوں سے کھلواڑ کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ اگر اب بھی محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ نے اپنی مجرمانہ غفلت اور خاموشی کو نہ توڑا، تو خدشہ ہے کہ کوئی اور معصوم زندگی اس لاپرواہی کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فوری طور پر ایک جامع آپریشن شروع کیا جائے تاکہ عوام کا قانون اور نظامِ صحت پر اعتماد بحال ہو سکے۔ Post navigation ہری پور کے لیے تاریخی سنگِ میل: پہلے میڈیکل کالج کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے باضابطہ منظوری، ۱۰۰ نشستیں بھی منظور