Preloader
Netanyahu's 14-year grip on power likely to end

اہم نکات

  • ریکارڈ ساز پولنگ: اسرائیلی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق دوپہر 4 بجے تک ووٹرز کے ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب 55.7 فیصد تک پہنچ گیا، جو 1973 کے بعد سے اس وقت تک درج ہونے والی سب سے بڑی شرح ہے۔
  • نتن یاہو کے لیے سنگین خطرہ: قبل از وقت پولز اور پولنگ کے رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کا مذہبی نیشنلسٹ اتحاد پارلیمانی اکثریت کھو سکتا ہے، جس سے ان کی 14 سالہ حکمرانی ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
  • عوامی تحرک اور یکجہتی: 2022 کے پچھلے انتخابات کے مقابلے میں ووٹنگ کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ سیاسی بیداری اور تبدیلی کے لیے عوام کا جمِ غفیر میں باہر نکلنا ہے۔

تل ابیب: اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں عوام کی ریکارڈ توڑ شرکت نے ملک کے سیاسی افق پر ایک بڑا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ منگل کے روز ہونے والی پولنگ میں ووٹرز کی غیر معمولی اور تاریخی تعداد نے 14 سال سے مسندِ اقتدار پر براجمان رہنے والے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی سیاسی بقا کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ووٹنگ کے دوران سامنے آنے والے اعداد و شمار اور رائے عامہ کے جائزے اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہے ہیں کہ نتن یاہو کا دائیں بازو کا مذہبی اور قوم پرست اتحاد پارلیمان (کنیسٹ) میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔

اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ سرکاری معلومات کے مطابق، دوپہر 4 بجے تک ملک بھر میں ووٹنگ کی شرح 55.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار الیکشن کی تاریخ میں دوپہر کے اس وقت تک درج ہونے والا سب سے بڑا تناسب ہیں۔ اس کے مقابلے میں سنہ 2022 کے گزشتہ عام انتخابات میں اسی وقت تک محض 47.5 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ووٹرز کے اس زبردست تحرک اور جوش و خروش کو سیاسی تجزیہ کار تبدیلی کی ایک بڑی لہر قرار دے رہے ہیں۔

پولنگ کا احوال اور ووٹرز کی ریکارڈ تعداد

انتخابات کے دن صبح سے ہی اسرائیل کے مختلف شہروں اور قصبوں میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر شہریوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ تل ابیب، یروشلم، اور دیگر ساحلی و مرکزی علاقوں میں ووٹرز کی بڑی تعداد اپنے جمہوری حق کا استعمال کرنے کے لیے پرعزم نظر آئی۔ الیکشن کمیٹی کے مطابق، ووٹرز کے اس غیر معمولی ہجوم کے باعث انتخابی عملہ رات تک مکمل طور پر متحرک رہا۔

ووٹنگ کی شرح میں اضافے کے حوالے سے درج ذیل اہم اعداد و شمار اور نکات سامنے آئے ہیں:

  • ووٹنگ کا فیصد (دوپہر 4 بجے تک): 55.7 فیصد (جو کہ 2022 کے مقابلے میں 8.2 فیصد زیادہ ہے)۔
  • پچھلا ریکارڈ (2022 کے انتخابات): 47.5 فیصد۔
  • تاریخی اہمیت: 1973 کے بعد سے دوپہر 4 بجے تک کا یہ سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ ووٹنگ تناسب ہے۔
  • عرب ووٹرز کی شرکت: عرب آبادی والے علاقوں میں بھی پولنگ کے تناسب میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا۔

14 سالہ طویل اقتدار اور نتن یاہو کی سیاسی بقا کا چیلنج

بنیامین نتن یاہو، جو اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے سیاست دان ہیں، اس وقت اپنے سیاسی کیریئر کے سب سے کٹھن موڑ پر کھڑے ہیں۔ گزشتہ 14 سالوں کے دوران انہوں نے مختلف اتحادی حکومتوں کی قیادت کی اور متعدد سیاسی بحرانوں سے خود کو کامیابی سے نکالا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں عدالتی اصلاحات کے تنازعات، بدعنوانی کے مقدمات، اور سیکیورٹی و معاشی پالیسیوں کے حوالے سے ان کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق، اس بار ووٹرز کا اتنی بڑی تعداد میں نکلنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام ملک کے سیاسی راستے کے بارے میں ایک حتمی فیصلہ دینا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے مسلسل یہ موقف اپنایا گیا کہ نتن یاہو کے طویل اقتدار نے ملک میں سیاسی عدم استحکام اور معاشرتی تقسیم کو جنم دیا ہے، جس کے باعث ووٹرز میں تبدیلی کی خواہش شدت اختیار کر چکی ہے۔

قبل از وقت پولز اور پارلیمانی اکثریت کا بحران

ووٹنگ شروع ہونے سے قبل سامنے آنے والے متعدد سرویز اور رائے عامہ کے جائزوں میں اس بات کی پیشن گوئی کی گئی تھی کہ نتن یاہو کا دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل بلاک 120 نشستوں والی پارلیمان (کنیسٹ) میں مطلوبہ 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔

دوسری جانب، مخالف اور غیر جانبدار سیاسی گروہوں نے ووٹرز کی اس تاریخی حاضری کو اپنے لیے فالِ نیک قرار دیا ہے۔ اسرائیلی قانون کے تحت کسی بھی جماعت کو پارلیمان میں نمائندگی کے لیے 3.25 فیصد ووٹ کی حد (الیکٹورل تھریش ہولڈ) عبور کرنا لازمی ہوتا ہے۔ جب ووٹرز کا کل تناسب بڑھتا ہے تو اس حد کو پار کرنے کے لیے درکار ووٹوں کی مطلق تعداد بھی بڑھ جاتی ہے، جس سے چھوٹی جماعتوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور نیٹ ورکس کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔

“دوپہر تک ووٹرز کا اتنی بڑی تعداد میں نکلنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اب مزید جمود کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ ووٹ محض کسی فرد کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کے مستقبل کی سمت طے کرنے کے لیے ڈالے جا رہے ہیں۔” — سیاسی تجزیہ کار

نتن یاہو کا ردِعمل اور اپوزیشن کا موقف

انتخابات کے اس اہم ترین مرحلے پر نتن یاہو نے اپنے روایتی حامیوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغامات اور بیانات میں حامیوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکلیں اور ووٹ ڈالیں کیونکہ ان کے بقول اپوزیشن اور ان کے مخالفین کا ووٹ بینک انتہائی متحرک ہے۔ نتن یاہو نے خبردار کیا کہ اگر ان کا روایتی ووٹ بینک پیچھے رہا تو ان کا دائیں بازو کا اتحاد اقتدار سے محروم ہو جائے گا۔

دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں نے ووٹرز کی اس زبردست شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے جمہوری عمل پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ پولنگ کے اختتام تک اس رفتار کو برقرار رکھیں تاکہ ایک نئی، شفاف اور مضبوط حکومت کی بنیاد رکھی جا سکے۔

نتائج کے متوقع اثرات اور خطے کی صورتحال

اسرائیلی انتخابات کا نتیجہ نہ صرف ملک کے اندرونی سیاسی ڈھانچے کے لیے انتہائی اہم ہے بلکہ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اگر نتن یاہو اپنا اقتدار برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں، تو یہ اسرائیل کی ملکی و غیر ملکی پالیسیوں میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

  1. اندرونی سیاسی استحکام: نتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے کی صورت میں نئے اتحادی معاہدو ں کی ضرورت پیش آئے گی، جس سے ایک نیا سیاسی منظر نامہ جنم لے گا۔
  2. علاقائی پالیسی: مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے طریقہ کار میں تبدیلی کا امکاں ہے۔
  3. معاشی و عدالتی نظام: نئی حکومت کے قیام سے پچھلی حکومت کی متنازعہ عدالتی اور معاشی پالیسیوں پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔

نتیجہ

اسرائیل میں منگل کے روز ہونے والے یہ عام انتخابات محض ایک نیا پارلیمانی اجلاس منتخب کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ نتن یاہو کے 14 سالہ اقتدار پر ایک عوامی ریفرنڈم ثابت ہو رہے ہیں۔ 55.7 فیصد کی ریکارڈ توڑ دوپہر کی پولنگ نے تمام سیاسی تخمینوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چاہے نتائج نتن یاہو کے حق میں جائیں یا ان کے مخالفین کے، اتنی بڑی تعداد میں عوام کا سڑکوں اور پولنگ اسٹیشنوں پر نکلنا اس بات کا اعلان ہے کہ ملک کا سیاسی مستقبل اب ایک نئے اور فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔