google.com, pub-9835940655573557, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Preloader
No one can stopped from creation of provinces
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا قومی پالیسی ڈائیلاگ میں 79 سالہ پرانے نظام کی کامل ری سیٹنگ اور اصلاحات پر زور۔
  • انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کو عوام کی رائے، قومی اتفاق رائے اور آئینی دائرہ کار سے مشروط قرار دیا گیا۔
  • ملک میں تعلیم، صحت، عدالتوں میں التوا اور صاف پانی کے عدم دستیابی جیسے بنیادی مسائل پر تشویش کا اظہار۔
  • اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینے اور این ایف سی ایوارڈ میں اس کے حق کے لیے آواز اٹھائی گئی۔

لاہور (خصوصی رپورٹ)پاکستان کے سیاسی و انتظامی منظر نامے پر ایک بار پھر نئے انتظامی یونٹس، صوبوں کی تشکیل اور گورننس کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کی بحث چھڑ گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں انعقاد پذیر ‘قومی پالیسی ڈائیلاگ’ سے اپنے خطاب کے دوران ملک کے 79 سالہ پرانے انتظامی نظام میں وسیع تر اصلاحات، نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ انتظامی یونٹس کا قیام کسی فردِ واحد یا مخصوص سیاسی جماعت کی مرضی پر منحصر نہیں بلکہ یہ عوامی فیصلہ ہے، اور کوئی بھی طاقت عوام کی منشا کے خلاف نئے یونٹس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

نظام کی ری سیٹنگ: توڑ پھوڑ نہیں بلکہ غلطیوں کی اصلاح

وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں نظام کو “ری سیٹ” کرنے کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد موجودہ سیاسی یا آئینی ڈھانچے کو برباد کرنا نہیں بلکہ 79 برس سے جاری ان غلطیوں کی تصحیح کرنا ہے جن کی وجہ سے ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے کوئی تجارتی ادارہ یا کمپنی مسلسل خسارے اور عدم کارکردگی کا شکار ہو تو اس کے تمام حصص یافتگان اکٹھے بیٹھ کر بہتری کا راستہ نکالتے ہیں، بالکل اسی طرح پاکستان کو اپنے انتظامی ڈھانچے کی بحالی کے لیے تمام فریقین کو ایک میز پر لانا ہوگا۔ محسن نقوی کے مطابق، آج پانچویں جماعت کا بچہ بنیادی جملے پڑھنے سے قاصر ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ڈھانچہ اپنے بنیادی مقاصد حاصل نہیں کر پا رہا۔

پاکستان کے تشویشناک اجتماعی و معاشی اعداد و شمار

خطاب کے دوران وزیر داخلہ نے ملک کو درپیش سنگین سماجی بحرانوں کو اجاگر کرنے کے لیے کچھ تلخ حقائق اور اعداد و شمار بھی پیش کیے، جن کا خلاصی درج ذیل ہے:

  • تعلیمی بحران: 79 برس گزرنے کے بعد بھی ملک کے 2.5 کروڑ (ڈھائی کروڑ) بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
  • پینے کا صاف پانی: ملک کی 55 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے محروم ہے۔
  • عدالتی التوا: ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں اس وقت 20 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں اور شہری انصاف کی تلاش میں خوار ہو رہے ہیں۔
  • صحت و روزگار: ہسپتالوں میں والدین اپنے بچوں کے علاج معالجے کے لیے پریشان ہیں جبکہ نوجوان روزگار اور مواقع کی عدم دستیابی کے باعث مایوسی کا شکار ہیں۔

نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کا قیام: زبان و نسل سے بالاتر سوچ

محسن نقوی نے واضح کیا کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بننے کے بعد پاکستان کو اب تحصیلوں، ڈویژنز اور نئے صوبوں کے قیام کی طرف بڑھنا ہوگا۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر سختی سے زور دیا کہ صوبائی یا انتظامی حد بندیوں کی بحث ہرگز زبان، نسل يا برادری کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا: “جنوبی یا شمالی پنجاب کے بننے سے میری پنجابی شناخت ختم نہیں ہوگی، اور نہ ہی سندھی کی شناخت بدلے گی۔ یہ تقسیم لسانی نہیں بلکہ محض انتظامی بہتری اور حکمرانی کو عوام کی دہلیز تک لانے کے لیے ہونی چاہیے۔”

انہوں نے تمام سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس حساس معاملے پر جذباتی تقاریر کرنے کے بجائے قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ تمام پارلیمان اور حکومتوں کو بیٹھ کر ہر متعلقہ فریق کی بات سننی چاہیے، کیونکہ اس میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز ملک کے عوام ہیں۔

اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینے کی وکالت

وفاقی وزیر داخلہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے اسے صوبہ بنانے کی پرزور حمایت کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد کے شہریوں کو این ایف سی (NFC) ایوارڈ کا ایک روپیہ بھی نہیں ملتا، اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) محض اپنی زمینیں بیچ کر شہر کے اخراجات پورے کر رہی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اسلام آباد کے رہائشی اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟ اگر اسلام آباد کو صوبائی یا آزاد انتظامی حیثیت دی جاتی ہے تو تمام سیاسی طبقوں کو اس کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاور کو نچلی سطح پر منتقل کرنے سے مقامی قیادت جیسے لندن کے میئر صادق خان اور دیگر نمایاں رہنما سامنے آئیں گے جو بہتر طریقے سے حکومت چلا سکتے ہیں۔

پس منظر اور اثرات

پاکستان میں نئے صوبوں بالخصوص جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دیگر علاقوں کو انتظامی یونٹس بنانے کی بحث دہائیوں سے جاری ہے، لیکن سیاسی مفادات اور عدم اتفاق کی وجہ سے آئینی ترمیم کے مرحلے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا۔ محسن نقوی کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں ایک اہم تحرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیر داخلہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک شدید معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی آبادی اور گورننس کے جمود سے نبرد آزما ہے۔ نچلی سطح پر اختیارات اور وسائل کی منتقلی کے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں رہا۔ محسن نقوی کی تجویز کے مطابق اگر تمام سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر مشترکہ پالیسی بناتی ہیں، تو اس سے نا صرف صوبائی کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری ممکن ہو سکے گی۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025