google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Pak-Afghan Border closer impact

پشاور (رپورٹ): پاک افغان سرحد کی حالیہ بندش کے نتیجے میں جہاں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، وہیں پشاور کی مقامی مارکیٹ میں غریب عوام کے لیے ریلیف کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔ سرحد پار برآمدات رکنے کی وجہ سے سبزیوں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں یکسر گر گئی ہیں۔

پاکستان ہندکووان تحریک کے سٹی صدر اشفاق حسین نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد کی بندش سے ان اشیاء کی فراہمی مقامی منڈیوں میں بڑھ گئی ہے جو پہلے افغانستان برآمد کر دی جاتی تھیں۔

مقامی مارکیٹ کی صورتحال

ذرائع کے مطابق، وہ سبزیاں، پھل اور دیگر خوردونوش کی اشیاء جو روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹرکوں کے ذریعے افغانستان بھیجی جاتی تھیں، اب مقامی منڈیوں میں دستیاب ہیں۔ رسد (Supply) میں اس اچانک اضافے نے قیمتوں کو نچلی ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

اشفاق حسین (سٹی صدر، پاکستان ہندکووان تحریک) کا کہنا تھا:

“سرحد کی بندش سے برآمدات تو رکی ہیں لیکن اس کا براہ راست فائدہ پشاور کے غریب عوام کو پہنچ رہا ہے۔ آلو، ٹماٹر، پیاز اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء اب عام آدمی کی پہنچ میں آ گئی ہیں۔”

عوام میں خوشی کی لہر

پشاور کے مختلف علاقوں میں سروے کے دوران شہریوں نے اس تبدیلی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے بعد انہیں سستی سبزیوں اور اشیاء خوردونوش تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ ایک مقامی خریدار کے بقول، “جو چیزیں پہلے مہنگی ہونے کی وجہ سے خریدنا مشکل تھیں، اب وہ آدھی قیمت پر مل رہی ہیں۔”

معاشی ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی تجارت کے لحاظ سے سرحد کی طویل بندش نقصان دہ ہو سکتی ہے، مگر موجودہ صورتحال نے مقامی سطح پر مہنگائی کے مارے عوام کو سانس لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔

پاکستان ہندکووان تحریک نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں جس سے مقامی مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں اور برآمدات کے نام پر مقامی عوام کو مہنگائی کی چکی میں نہ پیسا جائے۔

About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025