Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
1. قیامِ پاکستان کے وقت ڈالر کی قیمت (1947)
حیرت انگیز طور پر 1947 میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر سے زیادہ مضبوط تھا۔ اس وقت:
- 1 امریکی ڈالر = 3.31 پاکستانی روپے تھا۔
- اس وقت پاکستان کی معیشت نئی تھی اور روپے کی قدر برطانوی پاؤنڈ کے ساتھ منسلک تھی، جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم تھا۔
2. ابتدائی دہائیاں (1950 سے 1970)
- 1950 کی دہائی: 1955 میں روپے کی قدر میں پہلی بڑی کمی کی گئی اور ڈالر 4.76 روپے تک پہنچ گیا۔
- 1960 کی دہائی: صدر ایوب خان کے دور میں معاشی استحکام رہا اور ڈالر کی قیمت تقریباً 4.76 سے 4.80 روپے کے درمیان برقرار رہی۔
- 1971-1972: سقوطِ ڈھاکہ کے بعد روپے پر شدید دباؤ آیا اور ڈالر کی قیمت یکدم بڑھ کر 11 روپے تک جا پہنچی۔
3. روپے کی قدر میں بتدریج کمی (1980 سے 2000)
- 1980 کی دہائی: جنرل ضیاء الحق کے دور میں ‘فلوٹنگ ایکسچینج ریٹ’ (Floating Exchange Rate) متعارف کرایا گیا، جس سے ڈالر 10 روپے سے بڑھ کر 20 روپے سے تجاوز کر گیا۔
- 1990 کی دہائی: یہ دہائی سیاسی عدم استحکام کی تھی۔ 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد لگی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر 50 روپے کی حد عبور کر گیا۔
4. مشرف دور اور اس کے بعد (2000 سے 2018)
- 2000-2008: جنرل مشرف کے ابتدائی دور میں ڈالر 60 روپے پر مستحکم رہا۔
- 2008-2013: پیپلز پارٹی کے دور میں ڈالر 60 روپے سے بڑھ کر 100 روپے تک پہنچ گیا۔
- 2013-2018: نون لیگ کے دور میں ڈالر کو مصنوعی طور پر 100 سے 105 روپے کے درمیان روکا گیا، لیکن دورِ حکومت کے اختتام پر یہ 120 روپے تک جا پہنچا۔
5. حالیہ بحران (2018 سے اب تک)
- 2018-2022: تحریک انصاف کے دور میں ڈالر 120 سے بڑھ کر 180 روپے تک پہنچ گیا۔
- 2023-2024: سیاسی عدم استحکام، آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط اور معاشی بحران کی وجہ سے ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 280 سے 300 روپے کے درمیان پہنچ گیا۔
خلاصہ: روپے کی تنزلی کی بڑی وجوہات
ویب سائٹ کے تجزیے کے مطابق روپے کی قدر گرنے کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:
- برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ: پاکستان ہمیشہ اپنی ضرورت سے زیادہ سامان باہر سے منگواتا ہے جس کے لیے ڈالر درکار ہوتے ہیں۔
- سیاسی عدم استحکام: حکومتوں کی تبدیلی اور غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کر دیتی ہے۔
- قرضوں کی ادائیگی: بیرونی قرضوں کی واپسی کے لیے اسٹیٹ بینک کو مارکیٹ سے ڈالر خریدنے پڑتے ہیں، جس سے ڈالر مہنگا ہوتا ہے۔
- مہنگائی اور مالیاتی خسارہ: ملک کے اخراجات آمدنی سے زیادہ ہونا روپے کو کمزور کرتا ہے۔
یہ تاریخی سفر ظاہر کرتا ہے کہ 1947 میں جو ڈالر محض 3 روپے کا تھا، وہ آج 280 روپے سے اوپر جا چکا ہے، جو پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں موجود چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔
