اسلام آباد / ارومچی (نیوز ڈیسک): چین کی میزبانی میں ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے افغان طالبان کی قیادت کو واضح طور پر تین بنیادی مطالبات (Key Demands) پیش کر دیے ہیں۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب سرحد پار سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے باعث اسلام آباد اور کابل کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!پاکستان کے 3 بڑے مطالبات
پاکستان نے افغان طالبان پر واضح کیا ہے کہ سرحدی تناؤ میں کمی اور سفارتی تعلقات کی بہتری درج ذیل تین شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہے:
- ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا: کابل انتظامیہ باضابطہ طور پر تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے۔
- دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ: افغانستان کی سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی کے تمام ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
- قابلِ تصدیق ثبوت: دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے ایسے ثبوت فراہم کیے جائیں جن کی تصدیق کی جا سکے۔
چین کا ثالثی کردار اور ‘5 نکاتی فریم ورک’
رپورٹ کے مطابق، چین ان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے دونوں فریقین کو ایک 5 نکاتی فریم ورک پر متفق کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
- مستقل جنگ بندی (Ceasefire) کا معاہدہ۔
- دہشت گردی کے خلاف افغان طالبان کی جانب سے ٹھوس ضمانتیں۔
- محفوظ تجارتی راستوں کی بحالی اور اقتصادی تعاون۔
- دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی ڈائیلاگ کا قیام۔
آپریشن ‘غضبِ حق’ اور پاکستان کا سخت موقف
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ارومچی مذاکرات کا مطلب پاکستان کی پالیسی میں کوئی نرمی نہیں ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ جب تک کابل کی جانب سے “دیکھنے میں آنے والی” (Visible) کارروائی نہیں ہوتی، سرحد پار دہشت گردوں کے خلاف جاری ‘آپریشن غضبِ حق’ پوری قوت سے جاری رہے گا۔
تکنیکی سطح کے مذاکرات
ارومچی میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے دفاعی، داخلہ اور انٹیلی جنس اداروں کے تکنیکی وفود شریک ہیں۔ پاکستانی وفد کی قیادت نائب وزیرِ خارجہ کر رہے ہیں، جبکہ افغان وفد میں بھی اہم وزارتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ ان مذاکرات کا بنیادی مرکز سیاسی روابط کے بجائے خالصتاً سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی ہے۔
خلاصہ: سرحدوں پر امن کی امید
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ارومچی مذاکرات پاکستان اور افغانستان کے درمیان برف پگھلانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، تاہم کسی بھی بڑی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کابل انتظامیہ پاکستان کے ان تین تزویراتی مطالبات کو کس حد تک پورا کرتی ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اب “خالی وعدوں” کا وقت گزر چکا ہے اور اسے زمینی حقائق میں تبدیلی چاہیے۔
ارومچی مذاکرات کی موجودہ صورتحال (6 اپریل 2026)
