Preloader
Rahman Baba Express accident

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ: ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس کو پیش آنے والے ٹرین حادثے سے متعلق پاکستان ریلویز اور متعلقہ اداروں کی ابتدائی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ (Preliminary Joint Inspection Report) منظر عام پر آ گئی ہے۔
  • حادثے کی بنیادی وجہ: ریلویز ذرائع کے مطابق دوسری بوگی کے نیچے لٹکتا ہوا ایک پارٹ ریلوے ہائی وے کراسنگ بلاک سے ٹکرا کر اس میں بری طرح پھنس گیا، جس سے بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
  • پولیس و تکنیکی ذرائع: پولیس اور تکنیکی تفتیشی ذرائع نے رپورٹ میں کوچ نمبر 7 میں پیدا ہونے والی شدید تکنیکی خرابی کو بھی حادثے کا ایک اہم محرک قرار دیا ہے۔
  • تحقیقات کا دائرہ کار: ریلویز انتظامیہ نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاکہ ٹرین کی دیکھ بھال (مینٹیننس) میں غفلت کے پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔

ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی مشترکہ رپورٹ کا انکشاف

ملتان (خصوصی رپورٹ): پشاور سے کراچی جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کو ملتان کے قریب پیش آنے والے حادثے اور بوگیوں کے پٹری سے اترنے (Derailment) کی وجوہات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کو موصول ہونے والی ابتدائی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ٹرین کے حادثے کا شکار ہونے کی بنیادی وجہ تکنیکی نقص اور بوگی کے نچلے حصے کا ریلوے کراسنگ میں پھنسنا بنا۔

ریلوے کے باخبر ذرائع نے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ٹرین جب ملتان کے قریبی سیکشن سے گزر رہی تھی تو اس کی دوسری بوگی (Second Coach) کے نچلے حصے میں موجود ایک لوہے کا پرزہ یا پارٹ نیچے لٹک رہا تھا۔ تیز رفتاری کے باعث یہ معلق پرزہ ریلوے ہائی وے کراسنگ کے کنکریٹ بلاک سے زور دار دھماکے کے ساتھ ٹکرا گیا اور اس میں پھنس گیا، جس کے نتیجے میں مسلسل کھنچاؤ کی وجہ سے ٹرین کا توازن بگڑ گیا اور بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

کوچ نمبر 7 میں تکنیکی خرابی اور تفتیشی پوائنٹس

ابتدائی مشترکہ رپورٹ میں نہ صرف دوسری بوگی کے نچلے حصے کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ ریلوے اور پولیس ذرائع کی جانب سے دیگر تکنیکی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق، ٹرین کی کوچ نمبر 7 (Coach No. 7) میں بھی ایک شدید تکنیکی خرابی پائی گئی۔ حادثے کے وقت کوچ نمبر 7 کے سسپنشن اور بریکنگ سسٹم میں خرابی کے شواہد ملے ہیں، جس نے ٹرین کے بریک لگانے کے عمل اور ڈی ریل منٹ کی شدت کو مزید بڑھا دیا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل میں شامل ہیں:

  • دوسری بوگی کا نقص: نچلے حصے میں معلق پرزہ ریلوے کراسنگ کے بلاک میں پھنس جانا ڈی ریل منٹ کا بنیادی سبب بنا۔
  • کوچ نمبر 7 کا تکنیکی مسئلہ: بوگی نمبر 7 کے سسپنشن/بریکنگ ڈیوائس میں ہنگامی نوعیت کی تکنیکی خرابی دیکھنے میں آئی۔
  • ٹرین کا روٹ: رحمان بابا ایکسپریس پشاور سے براستہ ملتان اور سکھر، کراچی کی جانب رواں دواں تھی۔
  • ٹریک کی صورتحال: حادثے کے فوراً بعد ملتان ڈویژن کے اپ اور ڈاؤن ٹریک پر ٹریفک کی روانی عارضی طور پر متاثر ہوئی۔

پاکستان ریلویز میں ٹرین حادثات کا پس منظر اور مینٹیننس کا بحران

پاکستان ریلویز کی تاریخ میں ٹرینوں کا پٹری سے اترنا اور تکنیکی خرابیاں ایک دیرینہ اور تشویشناک مسئلہ رہا ہے۔ اگرچہ حالیہ سالوں میں پٹریوں (ٹیک) کی بحالی اور سگنلنگ سسٹم کو جدید بنانے پر کام کیا گیا ہے، لیکن کوچز اور بوگیوں کی بروقت دیکھ بھال (Maintenance) کا نظام اکثر سوالات کی زد میں رہتا ہے۔

رحمان بابا ایکسپریس جیسی اہم اور طویل مسافت کی مسافر ٹرینیں جو روزانہ ہزاروں مسافروں کو ایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقل کرتی ہیں، ان کا سفر شروع ہونے سے قبل مکمل تکنیکی معائنہ (Mechanical Fitness Check) قانوناً لازمی ہوتا ہے۔

ریلوے حادثات کے بنیادی اسباب:

  1. پرانی کوچز اور پارٹس: اکثر و بیشتر ٹرینوں کی بوگیاں اور ان کے نچلے حصے (Underframe Components) کی باقاعدگی سے اوور ہالنگ نہیں ہو پاتی۔
  2. ٹریک کی خستہ حالی: بعض مقامات پر ہائی وے کراسنگز اور کنکریٹ بلاکس کا معیار غیر متوازن ہوتا ہے جو تیز رفتار گاڑیوں کے لیے خطرہ بنتا ہے۔
  3. انسانی غفلت: یارڈز سے ٹرینوں کی روانگی سے قبل کیمبر اور ایکسل فٹنس چیک کرنے والے عملے کی مبینہ غفلت۔

امداد و بحالی اور انتظامی اقدامات

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ملتان ڈویژن سے ریلویز امدادی ٹیمیں، کرینیں اور تکنیکی عملہ موقع پر پہنچ گیا۔ پٹری سے اترنے والی بوگیوں کو کلیئر کرنے اور ٹریک کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر آپریشن شروع کیا گیا۔

پاکستان ریلویز انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے اہم انتظامی اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. انکوائری کمیٹی کی تشکیل: چیف انسپکٹر آف ریلویز کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو 72 گھنٹوں کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔
  2. ذمہ داران کا تعین: واشنگنگ لائن اور یارڈ کے اس عملے کا تعین کیا جا رہا ہے جنہوں نے پشاور سے روانگی کے وقت اس ٹرین کو ‘فٹنس سرٹیفکیٹ’ جاری کیا تھا۔
  3. مسافروں کی متبادل منتقلی: متاثرہ مسافروں کو متبادل کوچز کے ذریعے ان کی منزل یعنی کراچی کی طرف روانہ کیا گیا۔

ڈیٹا اور تحقیقاتی جائزہ

درج ذیل جدول میں رحمان بابا ایکسپریس حادثے سے متعلق حاصل ہونے والے ابتدائی حقائق کا ایک نظر میں جائزہ پیش کیا گیا ہے:

پہلو / خرابیابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات
حادثے کا مقامملتان سیکشن (پاکستان ریلویز ملتان ڈویژن)
بنیادی فنی سببدوسری بوگی کے نچلے حصے کا پرزہ ریلوے کراسنگ بلاک میں پھنس جانا
تکنیکی نقص (کوچ نمبر 7)بریکنگ اور سسپنشن سسٹم میں ہنگامی تکنیکی خرابی
تحقیقاتی ادارہپاکستان ریلویز کی مشترکہ تفتیشی ٹیم اور ریلوے پولیس
حتمی رپورٹ کی مہلت72 گھنٹے (اعلیٰ سطحی انکوائری)

ایڈیٹوریل نوٹ

ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس کی ابتدائی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ حادثہ محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ ٹرین کے مکینیکل معائنے اور بروقت دیکھ بھال میں شدید غفلت کا نتیجہ تھا۔ دوسری بوگی کے نچلے حصے سے پارٹ کا لٹکنا اور کراسنگ بلاک میں پھنس جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ روانگی سے قبل ٹرین کی باٹم چیکنگ (Bottom Inspection) درست طریقے سے نہیں کی گئی تھی۔

ایک غیر جانبدار صحافتی نقطہ نظر سے، پاکستان ریلویز کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صرف نچلی سطح کے عملے کو معطل کرنے پر اقتفا کرنے کی بجائے اپنے پورے فٹنس اور اوور ہالنگ کے نظام کا ازسرنو جائزہ لے۔ جب تک طویل مسافت کی تمام ٹرینوں کے فٹنس سسٹمز، کوچ نمبر 7 جیسے مکینیکل نقائص اور ریلوے کراسنگز کے حفاظتی معیار کو بہتر نہیں بنایا جاتا، تب تک کروڑوں مسافروں کے سفر کو محفوظ بنانا ممکن نہیں ہوگا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔