Relief demanding in budget 2016

پشاور( نیوز رپورٹر)صدر پاکستان ہندکووان تحریک اکبر سیٹھی نے آنے والے وفاقی بجٹ کے حوالے سے اپنے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس میں عوام کو حقیقی اور عملی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

انہوں نے کہا کہ حکومت آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ کیے گئے تمام ایسے معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لے اور قومی مفاد کے خلاف معاہدوں کو فوری طور پر ختم کرے تاکہ بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ بجلی کے نرخ پورے پاکستان میں یکساں ہونے چاہئیں اور بجلی چوبیس گھنٹے بلا تعطل فراہم کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کا فی یونٹ ریٹ کم سے کم سطح پر مقرر کیا جائے تاکہ گھریلو صارفین، کاروباری طبقہ اور صنعتوں کو ریلیف حاصل ہو سکے۔

اکبر سیٹھی نے کہا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور گیس بھی پورے ملک میں چوبیس گھنٹے دستیاب ہو۔ گیس کے نرخوں میں نمایاں کمی لاتے ہوئے انہیں پورے پاکستان میں یکساں بنایا جائے تاکہ عوام اور صنعتیں دونوں مستفید ہو سکیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو زیادہ سے زیادہ 200 روپے فی لیٹر تک محدود کیا جائے کیونکہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے قبل ہی مارکیٹوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے والا کوئی مؤثر نظام نظر نہیں آرہا۔

صدر پاکستان ہندکووان تحریک نے کہا کہ بجٹ میں ایسے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو ملک و قوم کے لیے دیرپا فوائد کے حامل ہوں اور قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک بھر میں بند پڑی فیکٹریوں، صنعتوں اور ملز کو دوبارہ فعال کیا جائے اور انہیں ٹیکس میں خصوصی رعایت دی جائے تاکہ صنعتی سرگرمیاں بحال ہوں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

اکبر سیٹھی نے مزید کہا کہ اگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی مناسب اضافے کے لیے واضح پالیسی مرتب کی جائے تاکہ معاشرے میں معاشی انصاف اور توازن برقرار رہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کو بجٹ میں خصوصی اہمیت دی جائے کیونکہ یہی دونوں شعبے کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات (امپورٹ) پر انحصار کم کرکے برآمدات (ایکسپورٹ) میں اضافہ کیا جائے تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں، معیشت مستحکم ہو اور پاکستان خود کفالت کی جانب گامزن ہو

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025