Preloader
Rs. 426 billion in loans approved under PM’s Apna Ghar Program

اہم نکات (خلاصہ)

  • قرضوں کی منظوری: وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دی گئی بریفنگ کے مطابق “اپنا گھر پروگرام” کے تحت اب تک مجموعی طور پر 426 ارب روپے کے قرضے منظور کیے جا چکے ہیں۔
  • رقم کی فراہمی (ڈسبرسمنٹ): منظور شدہ قرضوں میں سے 76 ارب روپے کی رقم مستحقین میں تقسیم کی جا چکی ہے۔
  • مالیاتی ہدف: اس پورے پروگرام کے تحت فنانسنگ کا مجموعی ہدف 700 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کا مقصد 125,000 رہائشی یونٹس کی تعمیر اور فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

تعارف اور پس منظر: پاکستان میں ہاؤسنگ کا دیرینہ چیلنج

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، نچلے اور متوسط طبقے کے لیے اپنے ذاتی گھر کا خواب ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں سے لے کر دیہی علاقوں تک مہنگائی، بے قابو رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اور بینکوں کی سخت شرائط کی وجہ سے عام آدمی کے لیے مکان کی تعمیر یا خریداری جوئے شیر لانے کے مترادف تھی۔ اس پس منظر میں حکومتوں کی طرف سے ہاؤسنگ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف اسکیمیں متعارف کروائی جاتی رہی ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر شروع کیا جانے والا “اپنا گھر پروگرام” اسی سلسلے کی ایک اہم اور سنجیدہ کڑی ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد غریب اور متوسط طبقے کو آسان اقساط پر قرضے فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے سر پر چھت کا سایہ حاصل کر سکیں۔ حالیہ جائزہ اجلاس میں اس پروگرام کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اس عوامی فلاحی منصوبے پر عمل درآمد تیزی سے جاری ہے۔

اعداد و شمار کا جائزہ: پیش رفت کہاں تک پہنچی؟

حالیہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق “اپنا گھر پروگرام” کے اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں لیکن ہدف تک پہنچنے کے لیے مزید تیز رفتار اقدامات کی ضرورت ہے۔ اہم اعداد و شمار ذیل میں درج ہیں:

  • کل منظور شدہ قرضے: پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 426 ارب روپے کے قرضے منظور کیے جا چکے ہیں۔
  • تقسیم شدہ رقم: منظور شدہ فنڈز میں سے 76 ارب روپے کی خطیر رقم متعلقہ افراد تک پہنچائی جا چکی ہے تاکہ تعمیراتی کام کا آغاز یا تکمیل کی جا سکے۔
  • مقررہ فنانسنگ ہدف: حکومت نے اس پورے پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 700 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
  • تعمیراتی ہدف (رہائشی یونٹس): اس اسکیم کے ذریعے ملک بھر میں مجموعی طور پر 125,000 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر اور فراہمی کو یقینی بنایا جانا ہے۔

تعمیراتی شعبے (Construction Sector) پر معاشی اثرات

معاشی ماہرین کے مطابق ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن سیکٹر کو کسی بھی ملک کی معیشت میں “ریڑھ کی ہڈی” کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ جب تعمیراتی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں تو اس کا اثر صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی درجنوں دوسری صنعتیں بھی متحرک ہو جاتی ہیں۔

  1. روزگار کے مواقع: تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آنے سے انجینئرز، معماروں، مستریوں، مزدوروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
  2. وابستہ صنعتیں (Allied Industries): مکانات کی تعمیر سے سیمنٹ، سریا (اسٹیل)، لکڑی، شیشہ، پینٹ اور کیبل بنانے والی صنعتوں کی ڈیمانڈ میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جس سے مجموعی صنعتی پیداوار کو فروغ ملتا ہے۔
  3. مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion): اس پروگرام کے تحت بینکنگ سیکٹر اور عام آدمی کے درمیان فاصلے کم ہوئے ہیں، اور غریب طبقہ پہلی بار باضابطہ مالیاتی نظام (Formal Financial System) سے جڑ رہا ہے۔

چیلنجز اور رکاوٹیں

اگرچہ حکومتی سطح پر یہ اعداد و شمار متاثر کن معلوم ہوتے ہیں، تاہم زمینی حقائق اور عام شہریوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لینا بھی ناگزیر ہے۔ ناقدین اور ماہرین اس حوالے سے چند اہم چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں:

  • کاغذی کارروائی اور پیچیدگی: عام شہریوں بالخصوص دیہی علاقوں کے رہنے والوں کے لیے بینکوں کی طویل اور پیچیدہ شرائط، ضمانتوں کا حصول اور کاغذی کارروائی ایک بڑا رکاوٹ بن جاتی ہے۔
  • مہنگائی اور اشیائے خوردونوش و تعمیرات کی قیمتیں: گزشتہ چند سالوں میں تعمیراتی مواد (سیمنٹ، سریا وغیرہ) کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے تخمینہ جات کو تبدیل کر دیا ہے۔ 700 ارب روپے کے ہدف میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے نظرثانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
  • شفافیت کا تقاضا: اس بات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ فنڈز کی تقسیم میں اقربا پروری یا سیاسی مداخلت نہ ہو، اور قرضے صرف اور صرف حقیقی اور مستحق افراد تک پہنچیں۔

مستقبل کی سمت اور لائحہ عمل

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس اجلاس کے دوران متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس عمل کو مزید شفاف اور آسان بنائیں تاکہ عام آدمی بلا کسی غیر ضروری تاخیر کے اس سہولت سے مستفید ہو سکے۔ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ کمرشل بینکوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ہاؤسنگ فنانسنگ کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائیں۔

علاوہ ازیں، ون ونڈو آپریشن (One-Window Operation) کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو مختلف محکموں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ مالیاتی ادارے مل کر ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو “اپنا گھر پروگرام” نہ صرف غریب عوام کا دیرینہ خواب پورا کرنے کا ذریعہ بنے گا بلکہ ملک میں معاشی استحکام اور ترقی کی رفتار کو بھی تیز تر کرے گا۔

کیا آپ اس موضوع کے حوالے سے کسی مخصوص بینک کی کارکردگی یا اس پروگرام کے لیے اپلائی کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہیں گے؟

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔