خبر کے اہم نکات (خلاصہ) سونالی بیندرے کا سنسنی خیز اعتراف: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ سونالی بیندرے نے انکشاف کیا ہے کہ ہٹ گانے ‘ہمّاہ ہمّاہ’ میں اپنی شاندار اداکاری اور رقص کے سالوں بعد بھی وہ آج بھی پرفارم کرتے ہوئے خوف محسوس کرتی ہیں۔ ‘کون ہونار کروڑ پتی’ کا گرینڈ پریمیئر: یہ دلچسپ گفتگو اور اعتراف مراٹھی کوئز ریئلٹی شو ‘کون ہونار کروڑ پتی’ کی گرینڈ پریمیئر قسط کے دوران سامنے آیا جہاں دونوں اداکاراؤں نے بطورِ مہمان شرکت کی۔ مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ لطیف مکالمہ: ڈانس آئیکن مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ شو کے دوران سونالی کی اس بات پر ایک خوشگوار، ہلکی پھلکی اور مزاحیہ گفتگو دیکھنے کو ملی جو مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ فنکارانہ سفر پر روشنی: اس گفتگو کے ذریعے بالی ووڈ کی دونوں سینئر اداکاراؤں نے اپنے فلمی کیریئر، رقص کی تربیت، اور بالی ووڈ انڈسٹری میں پرفارمنس کے دوران محسوس ہونے والے اندرونی دباؤ کے تجربات کا تبادلہ کیا۔ ‘کون ہونار کروڑ پتی’ کا سیٹ اور سونالی بیندرے کا غیر متوقع انکشاف ممبئی (خصوصی شوبز رپورٹ): بالی ووڈ کی خوبصورت اور منجھی ہوئی اداکارہ سونالی بیندرے نے شوبز کی دنیا کی ایک ایسی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے جس نے ان کے مداحوں کو حیران کر دیا ہے۔ 90ء کی دہائی کی مقبول ترین فلموں اور سپرہٹ گانوں میں اپنی دلکش ادائوں اور ڈانس کے جلوے بکھیرنے والی اداکارہ کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی کیمرے کے سامنے یا سٹیج پر ڈانس کرتے ہوئے ایک عجیب قسم کی گھبراہٹ اور خوف محسوس کرتی ہیں۔ یہ چونکا دینے والا انکشاف سونالی بیندرے نے مقبول کوئز ریئلٹی شو ‘کون ہونار کروڑ پتی’ (Kon Honar Crorepati) کی گرینڈ پریمیئر قسط میں شرکت کے دوران کیا۔ شو کے دوران ان کے ساتھ بالی ووڈ کی لازوال ‘ڈانس کوئین’ مادھوری ڈکشٹ بھی موجود تھیں۔ جب شو میں رقص اور فنکارانہ صلاحیتوں کا ذکر چھڑا، تو سونالی نے بلا جھجھک اعتراف کیا کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے شاہکار گانے ‘ہمّاہ ہمّاہ’ جیسے گانوں پر لافانی پرفارمنس دی ہے، رقص ان کے لیے ہمیشہ ایک چیلنجنگ اور خوفزدہ کر دینے والا مرحلہ رہا ہے۔ ‘ہمّاہ ہمّاہ’ کا تاریخی پس منظر اور رقص کے چیلنجز سونالی بیندرے کا ذکر آتے ہی سال 1995ء میں ریلیز ہونے والی منی رتنم کی بلاک بسٹر فلم ‘بمبئی’ کا مشہورِ زمانہ گانا ‘ہمّاہ ہمّاہ’ (Humma Humma) ذہن میں آتا ہے۔ اے آر رحمان کی مسحور کن موسیقی اور پربھو دیوا کی کوریوگرافی پر مبنی اس گانے میں سونالی بیندرے نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا، جسے آج بھی بھارتی سینما کی تاریخ کے بہترین ڈانس نمبرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس گانے کی شوٹنگ اور اس کے بعد کی زندگی پر بات کرتے ہوئے سونالی نے بتایا کہ ایک پیشہ ور ڈانسر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہمیشہ سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔ سونالی بیندرے کی گفتگو کے اہم نکات: غیر تربیت یافتہ ڈانسر کا احساس: سونالی کے مطابق انہوں نے کبھی باضابطہ طور پر کلاسیکل ڈانس کی تربیت حاصل نہیں کی تھی، جس کی وجہ سے ڈانس کیمرے پر کرتے ہوئے انہیں ہمیشہ یہ خوف رہتا تھا کہ ان سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ کوریوگرافی کا دباؤ: ‘ہمّاہ ہمّاہ’ جیسے تیز رفتار اور تکنیکی طور پر مشکل گانے کی شوٹنگ کے دوران انہیں ریہرسل کے شدید ترین مرحلے سے گزرنا پڑا تھا۔ سالوں بعد بھی قائم خوف: اداکارہ کا کہنا تھا کہ اتنی دہائیاں گزرنے اور درجنوں فلموں میں کام کرنے کے باوجود آج بھی جب انہیں کسی شو یا فلم میں ڈانس کرنا ہوتا ہے، تو ان کا دل زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔ مادھوری ڈکشٹ کا ردِعمل اور شو کا خوشگوار ماحول جب سونالی بیندرے نے ‘کون ہونار کروڑ پتی’ کے پلیٹ فارم پر اپنے اس خوف کا اظہار کیا، تو ان کے ساتھ بیٹھی بالی ووڈ کی ڈانس آئیکن مادھوری ڈکشٹ مسکرائے بغیر نہ رہ سکیں۔ مادھوری، جنہیں انڈین سینما میں رقص کا استعارہ سمجھا جاتا ہے، نے سونالی کے اس احساس کو بالکل قدرتی اور ایک حقیقی فنکار کی نشانی قرار دیا۔ دونوں عظیم فنکاروں کے درمیان ہونے والی اس ہلکی پھلکی اور پر مزاح گفتگو نے شو کے ماحول کو انتہائی خوشگوار بنا دیا۔ مادھوری ڈکشٹ نے سونالی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمّاہ ہمّاہ’ میں ان کی پرفارمنس آئیکونک تھی اور دیکھنے والوں کو کبھی یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ وہ اندر سے خوفزدہ تھیں۔ مادھوری نے مزید کہا کہ ہر فنکار کے اندر کسی نہ کسی حد تک سٹیج کا خوف (Stage Fright) موجود ہوتا ہے، جو انہیں بہترین سے بہترین کارکردگی دکھانے پر مجبور کرتا ہے۔ بالی ووڈ میں ڈانس کا معیار: اعداد و شمار اور تقابلی جائزہ 90ء کی دہائی کا بالی ووڈ سینما آج کے جدید دور سے کافی مختلف تھا۔ اس دور میں ایک اداکارہ کی کامیابی میں ان کی اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کی ڈانسنگ سکلز (Dancing Skills) کا بھی بڑا ہاتھ ہوتا تھا۔ درج ذیل جدول میں سونالی بیندرے اور 90ء کی دہائی کی ڈانسنگ انڈسٹری کے کچھ اہم پہلوؤں کا ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے: پہلو / فنکارسونالی بیندرےمادھوری ڈکشٹڈانس کا پس منظرخود سے سیکھی ہوئی / غیر روایتیکلاسیکل رقص (تھک/کلاسیکل میں باضابطہ تربیت)آئیکونک ڈانس نمبرز‘ہمّاہ ہمّاہ’ (بمبئی)، ‘شہر کی لڑکی’‘ایک دو تین’، ‘دھک دھک کرنے لگا’، ‘ڈولا رے ڈولا’ڈانس کے بارے میں موقفآج بھی خوف اور جھجھک محسوس کرتی ہیںرقص کو اپنی زندگی اور روح کا حصہ مانتی ہیںفنکارانہ صلاحیتکوریوگرافرز کی ہدایات پر سخت محنتفطری لچک اور تاثرات (Expressions) میں مہارت فنکارانہ نفسیات اور ‘سٹیج فرائٹ’ کے اثرات شوبز انڈسٹری میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کامیاب ترین ستارے بھی عوامی سطح پر یا کیمرے کے سامنے پرفارم کرتے ہوئے ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ نفسیات کی زبان میں اسے ‘سٹیج فرائٹ’ یا ‘پرفارمنس اینزائٹی’ (Performance Anxiety) کہا جاتا ہے۔ سونالی بیندرے کا یہ کھلے عام اعتراف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آن سکرین جو چمک دمک اور پرفیکشن ناظرین کو دکھائی دیتی ہے، اس کے پیچھے فنکاروں کی شدید کشمکش، خو د پر اعتماد قائم کرنے کی جدوجہد اور ان گنت گھنٹوں کی محنت چھپی ہوتی ہے۔ سونالی کا یہ اعتراف ان کے پرستاروں کے لیے بھی ایک ترغیب ہے کہ خوف کا ہونا کوئی کمزوری نہیں بلکہ اس خوف پر قابو پا کر آگے بڑھنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ ایڈیٹوریل نوٹ سونالی بیندرے اور مادھوری ڈکشٹ کے درمیان ‘کون ہونار کروڑ پتی’ کے سیٹ پر ہونے والی یہ گفتگو محض شوبز کی ایک ہلکی پھلکی خبر نہیں ہے، بلکہ یہ انڈسٹری کے دو بڑے ناموں کی سچائی اور سادگی کا مظہر ہے۔ ‘ہمّاہ ہمّاہ’ جیسے سدا بہار گانے پر زبردست پرفارمنس دینے کے بعد بھی اپنے خوف کا اعتراف کرنا سونالی بیندرے کے عجز اور فن سے ان کی سچی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک غیر جانبدار صحافتی نقطہ نظر سے، شوبز سٹارز کا اس نوعیت کے انسانی جذبات اور اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرنا اس بات کی نفی کرتا ہے کہ فلمی ستارے کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ کیمرے کے پیچھے موجود ہر فنکار ایک عام انسان کی طرح خدشات اور جھجھک سے گزرتا ہے، اور یہی انسانی پہلو انہیں عوام کے اور زیادہ قریب لے آتا ہے۔ Post navigation ریاض ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کا مہلک میزائل حملہ: سعودی عرب میں شدید جانی نقصان، مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی بحران کی نئی لہر