رپورٹ: محمد نصیر ساگر (جامشورو) اہم نکات (مختصر خلاصہ) سہولیات کا فقدان: محکمہ تعلیم جامشورو کی مبینہ نااہلی اور عدم توجہ کے باعث سرکاری اسکول پینے کے صاف پانی، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ فنڈز کی خورد برد کا الزام: کروڑوں روپے کے سالانہ فنڈز جاری ہونے کے باوجود اسکولوں کی حالت بہتر نہ ہونا کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ کوٹری میں بچوں کا احتجاج: کوٹری سائیٹ ببر اسٹاپ پر واقع سرکاری اسکول کے بچوں نے واش رومز اور پنکھوں کی عدم فراہمی پر احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کر دی۔ کورسز کی نایابی اور تعلیمی مشکلات: تعلیمی سال ختم ہونے کے قریب ہے لیکن بچوں کو اب تک مکمل کورسز تک میسر نہیں آ سکے۔ جامشورو میں تعلیمی زوال اور محکمہ تعلیم کی غفلت جامشورو سے نامہ نگار محمد نصیر ساگر کی رپورٹ کے مطابق محکمہ تعلیم جامشورو کی مبینہ نااہلی اور عدم توجہی کے باعث ضلع بھر کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان پایا جا رہا ہے۔ کروڑوں روپے کے بھاری فنڈز جاری ہونے کے باوجود اسکولوں میں بہتری نظر نہیں آتی، جو کہ مبینہ طور پر کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کی کھلی نشانیاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسکولوں میں پینے کا صاف پانی اور صفائی ستھرائی جیسے اہم ترین مسائل طویل عرصے سے توجہ طلب ہیں، لیکن سندھ حکومت کی جانب سے تعینات افسران صرف کاغذی کارروائی اور جمع تفریق تک محدود ہیں۔ عملی طور پر سرکاری اسکولوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے جبکہ تعلیمی سال اپنے اختتام کو پہنچنے کے باوجود بچوں کو ابھی تک مکمل نصابی کورسز بھی فراہم نہیں کیے جا سکے ہیں۔ کوٹری سائیٹ ببر اسٹاپ: اسکول کے بچوں کا احتجاج اور روڈ بلاک اس بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف کوٹری سائیٹ ببر اسٹاپ پر واقع ایک سرکاری اسکول کے معصوم بچوں نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ بچوں نے اسکول میں واش روم اور پنکھوں کی سہولت نہ ہونے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کر دی۔ بچوں کا کہنا تھا کہ شدید گرمی کے موسم میں پنکھوں کے بغیر کلاسز میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ اسکول میں واش روم کی سہولت موجود نہ ہونے کے باعث بھی انہیں روزانہ کی بنیاد پر شدید پریشانی اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فنڈز کی شفافیت اور افسران بالا کے اکاؤنٹس پر سوالات احتجاج کرنے والے اسکول کے بچوں اور عوامی حلقوں نے سندھ حکومت اور ڈپٹی کمشنر جامشورو سے پرزور اپیل کی ہے کہ: سندھ بھر کے سرکاری اسکولوں میں فوری طور پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اسکولوں کے نام پر جاری ہونے والے سالانہ فنڈز کی سخت جانچ پڑتال کی جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ فنڈز اسکولوں پر خرچ ہوئے ہیں یا مبینہ طور پر افسران بالا کے اکاؤنٹس میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ اساتذہ کی یقین دہانی اور احتجاج کا خاتمہ موقع پر موجود اسکول کے اساتذہ نے صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بچوں سے مذاکرات کیے اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے تمام جائز مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ افسران سے فوری رابطہ کیا جائے گا اور اسکول کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ اساتذہ کی جانب سے مثبت یقین دہانی کے بعد بچوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا اور پرامن طریقے سے واپس کلاسز میں جا کر اپنی پڑھائی کا آغاز کیا۔ Post navigation شفاف احتساب اور آئین کی بالادستی: خیبر پختونخوا کے وسائل کے ضیاع پر بغیر کسی سیاسی انتقام کے کارروائی کا فیصلہ محکمہ اطلاعات سندھ میں 23 ملازمین کی ترقیاں: نچلے درجے کے عملے کے لیے کیریئر میں پیش رفت اور ادارہ جاتی بہتری کی جانب اہم قدم