آگرہ، 17 فروری 2026: بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں واقع انڈین ایئر فورس (IAF) کے ایک انتہائی حساس سکیورٹی زون میں پاکستانی قومی ایئر لائن (PIA) کے لوگو اور نشانات والا ایک طیارہ نما غبارہ ملنے سے سکیورٹی ایجنسیوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس اور خفیہ اداروں نے مشترکہ طور پر بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!واقعے کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ 12 فروری 2026 کی صبح پیش آیا جب آگرہ ایئر فورس اسٹیشن کے ‘ٹیکنیکل ایریا’ (Technical Area) میں جی سی اے بلڈنگ کے قریب ایک غبارہ گرا ہوا پایا گیا۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے فوری طور پر سکیورٹی پروٹوکول کے تحت اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔
غبارے کی ہیئت اور تحریر
سکیورٹی حکام کے مطابق:
- شکل و رنگ: غبارہ چھوٹے طیارے کی شکل کا ہے، جس کا آدھا حصہ سبز اور آدھا سفید ہے۔
- نشانات: غبارے پر انگریزی حروف میں “Pakistan International Airlines” واضح طور پر درج ہے۔
- اردو تحریر: غبارے پر اردو میں “پاکستان زندہ باد” کے الفاظ بھی لکھے ہوئے ہیں، جبکہ ایک جگہ ‘SGA’ کے حروف بھی درج پائے گئے ہیں۔
- سائز: غبارے کی لمبائی تقریباً 60 سینٹی میٹر بتائی گئی ہے اور اس کے ساتھ تقریباً 10 میٹر لمبا دھاگہ بھی بندھا ہوا تھا۔
قانونی کارروائی اور تفتیش
ایئر فورس کے اسسٹنٹ سکیورٹی آفیسر، ماسٹر وارنٹ آفیسر شیلندر سنگھ کی تحریری شکایت پر 13 فروری کو آگرہ کے شاہ گنج تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف بھارتیہ نیاۓ سنہتا (BNS) کی دفعہ 292 کے تحت ایف آئی آر (FIR) درج کر لی گئی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (ACP) گورو سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی معائنے کے دوران غبارے سے کوئی الیکٹرانک آلہ، کیمرہ یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا ہے۔ تاہم، معاملے کی حساسیت کے پیش نظر انٹیلی جنس بیورو (IB)، لوکل انٹیلی جنس یونٹ (LIU) اور انسداد دہشت گردی اسکواڈ (ATS) کے حکام بھی تحقیقات میں شامل ہو گئے ہیں۔
سکیورٹی خدشات اور مختلف پہلو
سکیورٹی ماہرین اس واقعے کو دو پہلوؤں سے دیکھ رہے ہیں:
- قدرتی عوامل: آگرہ بھارت پاکستان سرحد سے 400 کلومیٹر سے زیادہ دور واقع ہے۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں جہاں تیز ہواؤں یا موسمی دباؤ (Western Disturbances) کی وجہ سے سرحد پار سے غبارے اڑ کر بھارتی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔
- جان بوجھ کر کی گئی کارروائی: تفتیشی ٹیمیں اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہیں کہ آیا یہ غبارہ مقامی سطح پر کسی نے چھوڑا ہے یا یہ سکیورٹی کے ردعمل کو جانچنے کی کوئی کوشش تو نہیں۔ ایئر فورس اسٹیشن کے ارد گرد نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ماضی کے واقعات
واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب، راجستھان اور جموں و کشمیر کے سرحدی اضلاع میں پی آئی اے کے نشان والے غبارے ملنا ایک معمول رہا ہے، لیکن آگرہ جیسے سٹریٹجک ایئر بیس کے اندرونی حصے میں اس طرح کی چیز کا ملنا غیر معمولی تصور کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، تاہم ایئر فورس اسٹیشن اور گردونواح میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
