اہم نکات: ایوان میں شدید احتجاج: بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن رکن زاہد ریکی نے سیکیورٹی اور سفری پابندیوں کے خلاف اپنا پاسپورٹ ایوان کے فرش پر پھینک کر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ فضائی سفر میں رکاوٹ: اے آر وائی نیوز کے مطابق، زاہد ریکی کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے مدینہ منورہ کے مذہبی سفر پر جاتے ہوئے ایئرپورٹ پر روک لیا۔ سنگین الزامات کا ادعا: رکنِ اسمبلی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایئرپورٹ پر تلاشی کے نام پر ان کی تذلیل کی گئی اور انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا۔ اسمبلی میں تشویش کی لہر: واقعے کے بعد ایوان میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان گرما گرمی دیکھنے میں آئی اور عوامی نمائندوں کے احترام و تحفظ سے متعلق قانونی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اس وقت شدید ڈرامائی اور جذباتی مناظر کا مرکز بن گیا جب اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی زاہد ریکی نے احتجاجاً اپنا پاسپورٹ ایوان کے فرش پر پھینک دیا۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق، موصوف رکن نے نقطۂ اعتراض (Point of Order) پر بولتے ہوئے الزام عائد کیا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حکام نے مدینہ منورہ روانگی کے وقت ایئرپورٹ پر ان کی راہ روکی اور ان پر دہشت گرد ہونے کا لیبل لگایا گیا۔ اس واقعے نے ناصرف ایوان کے اندر ماحول کو مکدر کر دیا بلکہ بلوچستان کے سیاسی و انتظامی حلقوں میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں اور شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق اور سفری آزادی کی حدود کیا ہیں۔ ایوان کی کارروائی اور ڈرامائی مناظر بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن زاہد ریکی نے سپیکر کی اجازت سے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک مقدس مذہبی فریضے اور زیارت کی غرض سے مدینہ منورہ جا رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر ایف آئی اے حکام نے انہیں روک لیا۔ زاہد ریکی نے جذبات سے مغلوب ہو کر ایوان کو بتایا: “ایک منتخب عوامی نمائندے کے ساتھ یہ سلوک انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے ایئرپورٹ پر روکا گیا، ہراساں کیا گیا اور یہاں تک کہا گیا کہ میں دہشت گرد ہوں۔ اگر اس ملک میں ایک قانون ساز کی یہ عزت ہے اور اس کا پاسپورٹ اسے تحفظ یا شناخت فراہم نہیں کر سکتا تو مجھے ایسے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔” یہ کہتے ہی انہوں نے اپنا سبز پاسپورٹ ایوان کے فرش پر پھینک دیا، جس کے بعد ایوان میں شور شرابہ شروع ہو گیا اور اپوزیشن کے دیگر اراکین نے ان کی ڈیسک بجا کر حمایت کی اور نعرے بازی کی۔ واقعے کا پس منظر اور سفری پابندیوں کا تناظر پاکستان میں بالخصوص بلوچستان سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے ایئرپورٹس پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL)، نیشنل پاسپورٹ کنٹرول لسٹ یا صوابدیدی سیکیورٹی چیکنگ کے نام پر روکے جانے کی شکایتیں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ایف آئی اے اور دیگر وفاقی سیکیورٹی اداروں کا عمومی مؤقف ہوتا ہے کہ وہ عدالتی احکامات، قومی سیکیورٹی کی ایڈوائزریز یا وزارتِ داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ فہرستوں پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ تاہم، جب کسی عوامی نمائندے کو بغیر کسی پیشگی تحریری نوٹس یا شفاف عدالتی حکم کے بیرونِ ملک جانے سے روکا جاتا ہے، تو اس سے قانونی اور آئینی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ زاہد ریکی کا کیس اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ عمرے/زیارت کی غرض سے سعودی عرب روانہ ہو رہے تھے اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف ایسا کوئی قانونی حکم نامہ موجود نہیں تھا جو ان کے سفر میں مانع ہوتا۔ عوامی نمائندوں کے حقوق اور قانونی نکات اس واقعے نے آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، بالخصوص آزادیِ نقل و حرکت (آرٹیکل 15) اور رکنِ اسمبلی کے استحقاق (Privilege) پر بحث کو جنم دیا ہے۔ قانونی و سیاسی ماہرین کے مطابق اس کیس میں درج ذیل اہم نکات اور سوالات سامنے آتے ہیں: استحقاقِ اسمبلی کی خلاف ورزی: کسی منتخب رکن کی بلا جواز تذلیل کو اسمبلی کے اجتماعی استحقاق پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ شفافیت کی عدم موجودگی: ایئرپورٹس پر شہریوں کو روکتے وقت واضح اور تحریری وجوہات کا نہ بتایا جانا آئینی حقوق کے منافی ہے۔ قومی و صوبائی اختیارات کی کشمکش: وفاقی اداروں (ایف آئی اے) اور صوبائی عوامی نمائندوں کے درمیان رابطے کی کمی اکثر ایسے ناخوشگوار واقعات کا باعث بنتی ہے۔ پاسپورٹ کا احترام: پاسپورٹ کسی بھی ریاست کے شہری کی بنیادی شناخت اور ریاست کی ضمانت ہوتا ہے، اسے غیر قانونی طور پر ناکارہ بنانا یا سیکیورٹی کے نام پر نامناسب الفاظ کا استعمال سنگین انتظامی کوتاہی ہے۔ ایوان کا ردِعمل اور حکومتی موقف زاہد ریکی کی جانب سے پاسپورٹ ایوان میں پھینکے جانے کے بعد سپیکر بلوچستان اسمبلی اور حکومتی اراکین نے صورتحال کی سنجیدگی کا اندازہ کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔ حکومتی نمائندوں نے ایوان میں موقف اپنایا کہ اگر ایف آئی اے یا سیکیورٹی حکام کی جانب سے کسی بھی رکنِ اسمبلی کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا ہے یا بلا جواز روکا گیا ہے تو یہ قابلِ مذمت ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی وزارتِ داخلہ اور ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے اس واقعے کی پورٹ طلب کی جائے گی۔ دوسری جانب، اپوزیشن اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ: واقعے میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف فوری اور سخت ڈسپلنری کارروائی کی جائے۔ سپیکر اسمبلی کی سربراہی میں ایک بالادست کمیٹی تشکیل دی جائے جو اراکینِ اسمبلی کے استحقاق کی مجروحیت کا جائزہ لے۔ وزاتِ داخلہ کی جانب سے واضح کیا جائے کہ رکنِ اسمبلی کا نام کس بنیاد پر اور کس کی ہدایت پر سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ آئندہ کے اثرات اور ایڈیٹوریل جائزہ بلوچستان کی سیاسی فضا پہلے ہی سیکیورٹی، محرومیوں اور وفاق و صوبے کے تعلقات کے حوالے سے حساس چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں ایک رکنِ اسمبلی کے ساتھ ایئرپورٹ پر پیش آنے والا یہ واقعہ صوبائی اور وفاقی اداروں کے درمیان اعتماد کے خلا کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اخلاقی و صحافتی معروضیت کا تقاضا ہے کہ اس معاملے میں ایف آئی اے کا حتمی اور سرکاری موقف بھی سامنے لایا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا یہ اقدام کسی انتظامی غلط فہمی کا نتیجہ تھا یا سیکیورٹی کی تصدیق کا کوئی باقاعدہ عمل۔ تاہم، ایوان کے اندر اس نوعیت کا شدید احتجاج یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوامی نمائندوں میں غیر انتظامی رویوں کے خلاف بے چینی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ Post navigation ایتھوپیا میں تنازعہ کا نیا فیز: تیگرائے میں جبری بھرتیوں کی خبریں اور شہریوں کا بڑے پیمانے پر انخلا لاہور کے شاہدرہ ٹاؤن تھانے میں گھریلو ملازمہ پر انسانی سوز تشدد: تفتیش کے نام پر قانون کی سنگین خلاف ورزی