پاکستان ھندکووان تحریک
ضلع پشاور کے
جنرل سیکرٹری ریاض احمد اعوان
نے اخباری بیان میں کہا ہے
لپشاور میں بےہنگم ٹریفک: شہری اذیت اور انسانی جانوں کا مسئلہ
پشاور، جو کبھی اپنے سکون، تہذیب اور ترتیب کے لیے پہچانا جاتا تھا، آج بےہنگم ٹریفک کا شکار ہو چکا ہے۔ سڑکیں گاڑیوں سے بھری رہتی ہیں، ٹریفک قوانین محض کاغذوں تک محدود ہیں اور ہر فرد اپنی سہولت کو دوسروں پر ترجیح دیتا نظر آتا ہے۔ اس صورتحال نے عام شہری کی زندگی کو شدید مشکل بنا دیا ہے۔ اسکول جانے والے بچے ہوں، دفاتر کے ملازمین یا بیمار افراد—سب ہی اس بدنظمی کی قیمت چکا رہے ہیں۔
سب سے زیادہ افسوسناک اور سنگین پہلو ہسپتالوں کے سامنے رکشوں اور دیگر گاڑیوں کا بےجا کھڑا ہونا ہے۔ بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں کے داخلی راستے اکثر رکشوں، ٹیکسیوں اور پرائیویٹ گاڑیوں سے بند رہتے ہیں۔ نتیجتاً ایمرجنسی میں آنے والی ایمبولینس کو راستہ نہیں ملتا۔ کئی بار دیکھا گیا ہے کہ مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتے ہیں اور ایمبولینس ٹریفک میں پھنسی رہتی ہے۔ یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، کیونکہ چند منٹوں کی تاخیر بھی کسی کی جان لے سکتی ہے۔
ٹریفک پولیس کی محدود نفری، کمزور عملداری اور عوام میں شعور کی کمی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ رکشہ ڈرائیور سڑک کے درمیان سواریاں اتارتے اور بٹھاتے ہیں، موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ کے بغیر الٹی سمت میں چلتے ہیں اور بڑی گاڑیاں دائیں بائیں سے بےتحاشا اوورٹیک کرتی ہیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہونے کے بجائے کمزوروں کے لیے سخت اور طاقتوروں کے لیے نرم دکھائی دیتا ہے۔
اس مسئلے کا حل محض چالان بڑھانے میں نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی میں ہے۔
ہسپتالوں کے گرد نو پارکنگ زون کو سختی سے نافذ کیا جائے اور ہر وقت ایک موبائل ٹیم تعینات ہو۔
ایمبولینس کے لیے گرین کوریڈور کا نظام بنایا جائے تاکہ ایمرجنسی میں راستہ خودکار طور پر صاف ہو سکے۔
رکشوں کے لیے مخصوص اسٹینڈ بنائے جائیں اور سڑک کے بیچ سواریاں بٹھانے پر فوری جرمانہ ہو۔
ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم چلائی جائے کہ سڑک صرف ہماری نہیں، سب کی ہے۔
اسکولوں اور مساجد میں ٹریفک اخلاقیات کو نصاب اور خطبات کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل ذمہ دار بنے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ ٹریفک کی بدنظمی محض وقت کا ضیاع نہیں، یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔ جب ایک ایمبولینس راستہ نہ پا سکے تو یہ پورے معاشرے کی اخلاقی شکست ہوتی ہے۔ پشاور کو دوبارہ مہذب اور محفوظ شہر بنانے کے لیے حکومت، اداروں اور عوام—سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قانون کی پاسداری، نظم و ضبط اور ایک دوسرے کے حق کا احساس ہی ہمیں اس اذیت ناک صورتحال سے نکال سکتا ہے۔
