بحیرہ اسود میں تاریخ ساز حملہ؛ یوکرین نے روسی آبدوز کو زیرِ آب بغیر پائلٹ سے نشانہ بنا کر غیر فعال کر دیا
کیف، (عالمی دفاعی امور کی خبر): یوکرین کی دفاعی فورسز نے بحیرہ اسود کے محاذ پر ایک بڑی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، جس سے جنگ کی بحری حکمت عملی میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ یوکرین کی سکیورٹی سروس (ایس بی یو) نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے زیرِ آب بغیر پائلٹ گاڑی (Underwater Unmanned Vehicle) کا استعمال کرتے ہوئے روس کی ایک آبدوز پر کامیاب حملہ کیا اور اسے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے جو کسی بھی جنگی تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حملے کی تفصیلات اور نقصانات کا دعویٰ
یہ حملہ روس کے نووروسیسک بحری اڈے پر کیا گیا، جہاں روسی بحری بیڑے کے کئی اہم جنگی جہاز اور آبدوزیں تعینات ہیں۔ ایس بی یو کے مطابق، اس حملے میں ان کے تیار کردہ خاص زیرِ آب ڈرون، جسے “سب سی بیبی” کہا جاتا ہے، استعمال کیے گئے اور روسی بحریہ کی ‘پروجیکٹ 636 وارشاویانکا کلاس’ (نیٹو میں ‘کِلو کلاس’ کے نام سے معروف) کی آبدوز کو نشانہ بنایا گیا۔
یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں آبدوز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ اب استعمال کے قابل نہیں رہی۔ واضح رہے کہ یہ آبدوزیں روسی میزائلوں، خاص طور پر “کلیبر کروز میزائلوں” کو لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جنہیں روس یوکرین کے شہروں اور بنیادی توانائی کے ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یوکرین کا مؤقف ہے کہ اس کامیاب کارروائی نے روسی جنگی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔
روس کا ردِ عمل اور تاریخی اہمیت
دوسری جانب، روسی وزارتِ دفاع نے حملے کی تصدیق تو کی ہے، لیکن آبدوز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان سے انکار کیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق، یوکرینی فوج کی یہ سازش ناکام بنا دی گئی اور اڈے پر موجود کوئی بھی بحری جہاز یا آبدوز متاثر نہیں ہوئی۔
تاہم، بین الاقوامی دفاعی ماہرین اسے یوکرین کی ایک اہم تکنیکی اور عسکری کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ یوکرین کے پاس کوئی بڑا بحری بیڑا نہیں ہے، لیکن اس نے بغیر پائلٹ گاڑیوں (ڈرونز) کے موثر استعمال سے بحیرہ اسود میں روس کی بحری بالادستی کو مسلسل چیلنج کیا ہے۔ اس سے قبل یوکرین سطحی بحری جہازوں کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنا چکا ہے، جس کے بعد روس کو اپنے زیادہ تر بحری اثاثے کریمیا سے نووروسیسک جیسے دور دراز اڈوں پر منتقل کرنے پڑے۔ زیرِ آب آبدوز کو نشانہ بنانے کی یہ کامیابی بحری جنگوں کے مستقبل کی حکمت عملی پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
وسیع تر محاذ پر ڈرون جنگ کا تسلسل
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنگ کے دیگر محاذوں پر بھی بغیر پائلٹ گاڑیوں کا استعمال شدت اختیار کر گیا ہے۔ روسی افواج بھی یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کروز میزائلوں اور ڈرون حملوں کی ایک بڑی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ مہینوں میں روس نے ہزاروں ڈرونز اور سیکڑوں میزائل یوکرین پر داغے ہیں۔
اس نئے زیرِ آب حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ یوکرین اپنی دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے اور غیر روایتی طریقوں سے جنگ میں روس پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔
